جعفر ایکسپریس حملے میں ہلاک ہونے والے ریلوے ملازمین: ’بچے پوچھتے ہیں بابا کدھر ہیں، ان کو کس نے مارا‘


’وعدہ کر کے گئے تھے کہ کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ 15ویں روزے کو میرے شوہرکو ریل گاڑی سے واپس آنا تھا جس کے بعد بچوں کے یونیفارم، کتابیں اور عید کی شاپنگ کرنے جانا تھا۔ وہ تو ہمیشہ کے لیے چلے گئے لیکن ہمارا ہنستا بستا گھر، خوشحال زندگی سب ختم ہو گئی۔‘دکھ، خوف اور مستقبل کے اندیشوں میں گھری یہ خاتون پاکستان ریلوے پولیس کے اہلکار شمروز خان کی بیوہ ہیں۔شمروز خان 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تھے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کی اہلیہ نے کہا کہ ’بچوں سے ان کے بابا نے کہا تھا کہ عید کے تیسرے دن ان کو گھمانے لے جائیں گے۔ بچے دن بہ دن ضدی ہو رہے ہیں، چڑچڑے ہو رہے ہیں۔ بہتتنگ کرنے لگے ہیں۔‘ ’ان کو ابھی بھی لگتا ہے کہ وہ واپس آ جائیں گے کیونکہ ان کے بابا ٹرین کے ساتھ جا کے تین سے چار دن بعد گھر لوٹ آتے تھے۔‘شمروز کی اہلیہ نیلم کے یہ الفاظ ان کے اندر کے کرب اور مستقبل کی فکر کو عیاں کر رہے ہیں۔شمروز خان کا گھر ریلوے کالونی میں ہی واقع ہے جہاں ٹرین حملے سے پہلے شہروز خان اور ان کی بیوی اپنی چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ ہنسی خوشی رہا کرتے تھے مگر 11 مارچ کے بعد سے نیلم اور ان کے بچوں کی زندگی بھی یکسر بدل چکی ہے۔نیلم خاتون ہم سے بات کرتے ہوئے مسلسل اپنی ایک سال اور تین سال کی بیٹیوں کو چپ کروانے اور تسلی دینے میں مصروف تھیں جو ہر تھوڑی دیر بعد بابا کہہ کر شمروز کو ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کے بعد اپنی ماں سے ضد کرتی دکھائی دیں۔شمروز کو یاد کرتے ہوئے نیلم نے ہمیں اپنے شوہر کے سنبھال کر رکھے جوتے، کپڑے، گھڑی اور بٹوہ دکھایا جو ان کے پاس اپنے شوہر کے آخری وقت میں پہنی گئی نشانی کے طور پر موجود تھیں۔شمروز کے جانے کے غم میں ان کی بہنیں بھی نڈھال اور افسردہ بیٹھی تھیں تاہم مسلسل اپنے بھائی کے بچوں کو بہلانے کی کوشش بھی کرتیں۔ تعزیت کے لیے گھر آنے والے افراد میں سے ہر شخص نے شمروز خان کی خوش اخلاقی اور انسان دوستی کے واقعات بھی سنائے۔شمروز کی اہلیہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہر کیونکہ ریلوے پولیس میں کمانڈو تھے تو وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو پولیس میں بڑا افسر بنانے کی خواہش رکھتے تھے تاہم اس واقعے کے بعد نیلم کا کہنا ہے کہ وہ اب بچے کوپولیس میں بھیجنے کا سوچنے سے خوفزدہ ہیں۔یہ کہانی صرف شمروز خان کی بیوہ کی ہی نہیں بلکہ پاکستان ریلوے کے ملازم محمد ممتاز کے گھر کی بھی ہے۔ محمد ممتاز کی بیوہ بھی عدت میں ہیں۔کوئٹہ ریلوےسٹیشن کے قریب واقع ریلوے کالونی میں جب ہم محمد ممتاز کے گھر پہنچے تو سب سے پہلے ان کے بھائی محمد تاج سے ملاقات ہوئی۔چھوٹے سے اس سرکاری کوارٹر میں جہاں ممتاز کے بیٹے اور بیٹیاں گم صم اور دلبرداشتہبیٹھے ہوئے تھے وہیں عدت کے دن گزارتی ان کی اہلیہ غم سے نڈھال مگر اپنے بچوں کے لیے فکر مند دکھائی دیں۔محمد ممتاز کے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کے بعد ان کے گھر میں جہاں ویرانی کا احساس نمایاں تھا وہیں بے یار و مددگار رہ جانے کے احساس میں ڈوبی ان کی اہلیہ بمشکل بات کر پا رہی تھیں۔BBCممتاز کا بیٹا اور بھائی تعزیت کے لیے آنے والوں کے ساتھسات بچوں کی ماں کو عدت کے دوران بھی فکر تھی کہ عنقریب شروع ہونے والے تعلیمی سال کے اخراجات، کتابیں کاپیاں یونیفارم کا انتظام وہ تن تنہا کس طرح کر پائیں گی۔’میری چھوٹی بیٹی رات کو پوچھ رہی تھی کہ ابھی تو ہمارے بابا نہیں رہے تو عید پر ہمارے کپڑے اور جوتے کون لائے گا، ہمارے لیے فروٹ کون لائے گا۔‘یاد رہے کہ 11 مارچ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی، بی ایل اے نے بلوچستان کے علاقے بولان میں مسافر ٹرین کو یرغمال بنایا تھا۔ پاکستانی فوجکے مطابق جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے بعد 354 مسافروں کو ریسکیو کیا گیا جبکہ اس حملے میں 18 فوجی اور ایف سی اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 26 افراد ہلاک ہوئے۔ انھی میں پاکستان ریلوے کے ملازمین شمروز خان اور محمد ممتاز بھی تھے جو دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔بی بی سی نے کوئٹہ کی ریلوے کالونی میں واقع شمروز خان اور میحد ممتاز کے گھروں میں جا کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس واقعہ میں ہلاک ہو جانے والوں کے اہل خانہ کس کرب ، ڈراوربے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں۔بچوں سے واپسی پر کتابیں، یونیفارم اور عید کی شاپنگ کا وعدہ کیا تھاBBCاسلامی عقائد کے مطابق یہ خواتین شوہر کی وفات کے بعد عدت کے دن گزار رہی ہیںتاہم بی بی سی کی درخواست پر انھوں نے پردے میں رہ کر مختصر اپنا احوال ہمیں بتایا۔ریلوے پولیس میں طویل عرصے سے ملازمت کرنے والے شمروز اور ان کی اہلیہ نیلم کے پانچ بچے ہیں۔ بڑے بیٹے کی عمر 11 سال جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی ایک سال اور ایک ماہ کی ہے۔نیلم سے جب ہماری ملاقات ہوئی تو ان کے گھر تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری تھا جبکہ وہ اپنی ایک سال اور تین سال کی بچی کو بہلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔’میرے شوہر ڈیوٹی کے ساتھ رکشا بھی چلاتے تھے تاکہ بچوں کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ 15ویں روزے کو میرے شوہر نے واپس آنا تھا۔ اس کے بعد ان کے بابا نے یونیفارم، کتابیں، اور بچوں کی عید کی شاپنگ کا وعدہ کیا تھا۔‘شمروز کی بیوہ کا کہنا ہےان کے لیے نہ صرف بچوں کو بلکہ خود کو بھی سمجھانا مشکل ہے کہ اب اس گھر کا سربراہ اور انکے بچوں کا باپ نہیں رہا۔’بچے در بدر ہو گئے ہیں، ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات، ان کی خوشیاں ختم ہو گئی ھیں۔ اب تو خوف ہی خوف ہے ہر طرف، گھر بیٹھیں تو بھی خوف ہے، باہر جائیں تب بھی۔‘جعفر ایکسپریس حملہ: کیا بلوچستان میں شدت پسندوں کی کارروائیاں روکنے کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟جعفر ایکسپریس کے مسافروں نے کیا دیکھا؟: ’ان کے لیڈر نے کہا سکیورٹی اہلکاروں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں‘جعفر ایکسپریس حملہ: ’ہم نے میت کا آخری دیدار کسی کو بھی نہیں کرایا‘جعفر ایکسپریس پر حملہ: پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانی’چھوٹے بچے پوچھتے ہیں بابا کدھر ہیں‘ریلوے ملازم محمد ممتاز کی شادی 2006 میں ہوئی تھی اور شادی شدہ زندگی کے دوران اس دوران ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ان کے سب سے بڑی بیٹے کی عمر 15 سال جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر تین سال ہے۔شمروز کی اہلیہسےگفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہبچے اپنے والد کی اچانک موت سے متعلق سوالات کرے ہیں جن کا جواب دینا یا سمجھانا مشکل مرحلہ ہے۔’چھوٹی بیٹی ہر وقت یاد کرتی ہے۔ بیٹا بھی کہتا ہے کہ میرے بابا کدھر ہیں، ان کو کس نے مارا۔ میں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے گاڑی پر حملہ کیا اور شہید کر دیا۔ مگر بچے جو چھوٹے ہیں ان کو اس کی سمجھ نہیں آتی۔‘ممتاز کی اہلیہ کے مطابق ان کا چھوٹا بیٹا اور بیٹی اپنے بابا کے پاس ہی سوتے تھے اور کم سنی کے باعث اپنے والد کو عزیز بھی بہت تھے۔’رات کو میری چھوٹی بیٹی نے مجھے کہا کہ میرے بابا تو نیچے میرے ساتھ سوتے تھے۔ آج وہ کہاں ہیں؟ میں کس کے پاس سوؤں تو میں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ بابا اللہ میاں کے پاس چلے گئے، اب تم میرے پاس سو جاؤ۔‘ممتاز کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر نے آخری دن ڈیوٹی پر جانے سے پہلے سحری کے وقت تمام بچوں سے بات چیت کی، ’ان کو نماز اور قران پڑھنےکی تقلین کی اور بتایا کہ آج میری ٹرین کے ساتھ ڈیوٹی ہے، میں چار دن بعد شام کو چھ سوا چھ بجے واپس آؤں گا۔‘محمد ممتاز بچوں خصوصا اپنی بیٹیوں کو اعلی تعلیم دلانا چاہتے تھے۔’حکومت بچوں کی تعلیم میں مدد کرے‘گھر کی مشکلات کے حوالے سےپوچھے گئے سوال کے جواب میں ممتاز کی بھابھی نے بتایا کہ ’میرا بھائی غریب بندہ تھا۔ بچوں کی تعلیم، ان کی ضروریات کے اخراجات پورے کر رہے تھے، گھر کی مرمت پر توجہ نہیں دے سکتے تھے۔‘انھوں نے محمد ممتاز کے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے معاونت کی بھی اپیل کی۔’میری حکومت سے درخواست ہے کہ ان کے گھر کی حالت بہتر سے بہتر بنائی جائے، گھر میں پانی کا انتظام کروایا جائےاور بچوں کی تعلیم کا خیال رکھا جائے۔‘اس حوالے سے جب ریلوے کے حکام سے رابطہکر کے ان سے سوال کیا گیا کہ ایسے شدت پسندی کے واقعات میں مارے جانے والے سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کس مدد کے مستحق قرار پاتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس حملے میں ہلاک ہونے والے ریلوے کے ملازمین بھی شہدا فنڈ کی حقدار ہیں جس کے تحت ان کو 20 لاکھ روپے پلاٹ یا مکانکی مد میں ملیں گے۔ اس کے علاوہ 30 لاکھ روپے تک معاونت پیکیج اور دو لاکھ خصوصی فنڈ کے تحت گرانٹ فراہم کی جاتی ہے۔ اس کےعلاوہ ان کے ایک بچے کو اسی محکمہ میں ملازمت بھی آفر کی جاتی ہے۔جعفر ایکسپریس پر حملہ: پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانیجعفر ایکسپریس: یرغمالیوں اور خودکُش حملہ آوروں کی موجودگی میں پیچیدہ فوجی آپریشنز کیسے اور کن بنیادوں پر کیے جاتے ہیں؟جعفر ایکسپریس حملہ: بولان میں شدت پسندوں کی کارروائیوں پر قابو پانا مُشکل کیوں؟ جعفر ایکسپریس حملہ: کیا بلوچستان میں شدت پسندوں کی کارروائیاں روکنے کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟لاپتہ پیاروں کی متلاشی بلوچ خواتین: ’دل سے ڈر ختم ہو چکا، بس کسی بھی طرح ہمیں اپنے بھائیوں کو واپس لانا ہے‘

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید پاکستان کی خبریں

محکمہ موسمیات کی چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

سندھ حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کر دیا

پانچ تاریخی عمارتوں کی بحالی جس نے پرانے لاہور کا نقشہ بدل دیا

یہ بلیک میلنگ ہے، کسی دوست کا کام نہیں‘: ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان پر عالمی ردعمل

’کوہلی جیسا سٹائل، روہت شرما جیسی شاٹ‘: صادق آباد کی ننّھی کرکٹر سونیا خان جن کی وائرل ویڈیو کی تعریف آسٹریلیا میں بھی ہوئی

خاتون کو پارک میں ہراساں کرنے، یوگا سے منع کرنے کی وائرل ویڈیو: کیا لاہور کے عوامی پارکس میں خواتین کے یوگا کرنے پر پابندی ہے؟

چیئرمین سینیٹ انٹرپارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس کے بانی چیئرمین نامزد

اسلام آباد میں عید کے تیسرے روز بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات

ملکی استحکام کیلئے پی ٹی آئی سمیت ہر جماعت سے بات چیت کیلئے تیار ہیں ، رانا تنویر

ن لیگ اور اتحادی قومی خدمت کو اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں، خواجہ آصف

عمران خان سے جیل میں علی امین اور بیرسٹرسیف کی ملاقات، سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال

صدرمملکت کا کورونا ٹیسٹ مثبت، آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے: ذاتی معالج

بجلی کی قیمتوں میں کل نمایاں کمی کا اعلان متوقع

صدر مملکت آصف زرداری کورونا میں مبتلا ہوگئے

موٹرویز پر ٹریفک دباؤ کے پیش نظر ٹریول ایڈوائزری جاری

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی