
انتباہ: اس تحریر میں شامل چند تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔24 مارچ کی شام جب فضا بی بی کو ان کی والدہ نے محلے کی مسجد کے قریب واقع نلکے سے پانی لینے کے لیے بھیجا تو ان کا خیال تھا کہ کچھ ہی دیر میں وہ واپس آ جائے گی۔ لیکن اس شام فضا واپس نہیں آئی۔بہاولپور کے باقر پور میں اس شام فضا بی بی کو سورج مکھی کے کھیت میں مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ملزمان نے ان کا گلہ کاٹ ڈالا تاکہ وہ کسی کی شناخت نہ کر سکیں۔ اس کی وجہ، پولیس کے مطابق یہ تھی کہ فضا کے ریپ اور قتل میں ان کے ماموں سمیت قریبی رشتہ دار ملوث تھے۔گزشتہ روز پنجاب پولیس کے مطابق چار ملزمان، جنھیں تفتیش کے بعد سائنسی شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا تھا، اس وقت اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے جب انھیں آلہ قتل کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔یوں تقریبا ایک ہی ہفتے کے اندر ریپ اور قتل کا یہ معاملہ انجام کو پہنچا جس میں جرم، تفتیش اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے بعد ہلاکت بھی ہوئی لیکن انھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔واضح رہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں جس میں ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان ’ٹھوس شواہد اور اعترافِ جرم‘ کے باوجود پراسرار حالات میں ہلاک ہوئے ہوں۔لیکن پولیس نے ان ملزمان کی شناخت کیسے کی اور پولیس کو یہ یقین کیوں تھا کہ فضا بی بی کے قریبی رشتہ دار ہی ان کے ریپ اور قتل کے ذمہ دار ہیں؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں 24 مارچ کی شام کو باقر پور میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لینا ہو گا جو مقدمہ کی ایف آئی آر میں درج ہیں۔’فصل کے اندر سے بچی کے رونے اور چیخنے کی آواز‘اس واقعے کا مقدمہ فضا بی بی کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا جس کے مطابق ان کے شوہر لاہور میں راج گیر مستری کا کام کرتے ہیں اور وہ خود باقر پور میں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔مقدمہ کے اندراج کرواتے ہوئے فضا کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے افطاری کے بعد 10/11 سالہ فضا کو پانی لینے کے لیے قریبی مسجد کے پاس موجود نلکے تک بھیجا تھا۔ لیکن کافی دیر تک فضا کے واپس نہ آنے پر وہ اس کی تلاش میں نکلیں اور پھر ایک اور شخص محمد الیاس کے ساتھ اسے ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ عشا کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اور اب اندھیرا تھا۔ فضا پانی کے نلکے کے پاس نہیں تھی اور نہ ہی مسجد میں تھی۔محمد الیاس نے بی بی سی کو بتایا ہے انھوں نے جب مسجد میں بچی کی گمشدگی کا اعلان کروایا تو علاقہ مکین ایک خاتون نے انھیں بتایا کہ اکثر انھوں نے فضا کو قریب واقع سورج مکھی کے کھیتوں میں جا کر چھپتے دیکھا ہے۔تلاش کرتے کرتے فضا کی والدہ اور الیاس سورج مکھی کی فصل کے قریب پہنچے تو انھیں اپنی بیٹی کے رونے اور چیخنے کی آواز آئی۔فصل کے اندر داخل ہونے پر ہولناک منظر تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق فضا کی گردن کے سامنے والے حصے سے خون بہہ رہا تھا اور کپڑے خون میں لت پت تھے۔ اس کا گلہ تیز دھار آلے سے کاٹ دیا گیا تھا۔ بچی نے اشارے سے بتایا کہ اسے ٹانگوں کے درمیان پرائیویٹ اعضا میں بھی درد ہے، ہمیں شبہ ہوا کہ نامعلوم ملزم نے بچی کے ساتھ ریپ کیا ہے۔فضا کو موٹرسائیکل پر سول ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ چکی تھی۔ سول ہسپتال کے ڈاکٹر نے اس امر کی تصدیق کی۔لیکن ایک چھوٹے سے گاؤں میں اتنی بہیمانہ حرکت کون کر سکتا تھا؟ یہ واقعہ ایک ایسے دیہی علاقے میں پیش آیا تھا جہاں پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ بھی نصب نہیں۔ ساٹھ ستر گھروں پر مشتمل اس علاقے کے زیادہ تر باسی بھی ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔اس کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل پولیس افسیر محمد عرفان نذیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے اس سے قبل اتنی ہولناک اور بربریت کا واقعہ نہیں دیکھا۔‘ملزمان پر شک یقین میں کیسے بدلا؟اس واقعہ کے بعد پوسٹ مارٹم میں فضا سے ریپ کی تصدیق ہوئی جس کے بعد محمد الیاس کے مطابق ’علاقے میں غم کے ساتھ ساتھ غصہ بھی تھا۔ ہم ایک ہی لوگ ہیں اور کسی بھی صورت میں کوئی بھی یہ برداشت کرنے کو تیار نہیں تھا کہ اس طرح کا واقعہ ہو۔‘پنجاب پولیس کے تفتیشی افسر محمد عرفان نذیر، جو تھانہ صدر بہاولپور میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی تفتیش کے شعبہ کے انچارج ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا گیا۔’پولیس افسران نے ہمیں ہدایت کی کہ کچھ بھی ہو جائے، ملزمان کو گرفتار کرنا ہے۔ ہمیں تفتیش میں مکمل فری ہینڈ دیا گیا۔‘لیکن یہ ایک اندھا قتل تھا۔ عرفان نذیر کے مطابق جائے وقوعہ کا جائزہ لیا گیا تو ’سمجھ میں آیا کہ ملزم ایک نہیں، بلکہ ایک سے زیادہ ہیں۔‘ لیکن تفتیش کے آغاز میں عرفان نذیر کے مطابق ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔محمد عرفان نذیر کے مطابق ’سب سے پہلے علاقے میں سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں کو پھیلایا گیا اور پھر تفتیش کا باقاعدہ آغاز مختلف لوگوں کے انٹرویو سے کیا گیا۔ ہم نے آف دی ریکارڈ 200 لوگوں کے انٹرویو کیے اور ان کی بنیاد پر 15 لوگوں کو شارٹ لسٹ کیا جنھیں پابند کیا گیا کہ وہ تفتیش مکمل ہونے تک علاقہ سے نہیں جائیں گے۔‘ پولیس نے ان افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار تعینات کر دیے۔چار سالہ زہرہ کا ریپ اور قتل: ملزم کی گرفتاری، ’ہتھکڑی سمیت فرار‘ اور پھر ’پراسرار ہلاکت‘پاکستان میں ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان ’ٹھوس شواہد اور اعترافِ جرم‘ کے باوجود پراسرار حالات میں مارے کیوں جاتے ہیں؟کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کا معمہ: برقعہ پوش ’ڈاکو‘ اور بچوں کو ٹیوشن دینے والی ’سہولت کار‘ڈسکہ میں زہرہ قدیر کا قتل: ’بیٹی کے سسرال میں دھلا فرش دیکھا تو چھٹی حِسّ نے کہا کچھ بہت برا ہو چکا ہے‘محمد عرفان نذیر کا کہنا تھا کہ ’ضلعی پولیس افسران نے پنجاب فارنزک لیبارٹری سے ڈی این اے ٹیسٹ کی ہنگامی بنیادوں پر درخواست کی۔ اس وقت تک ہمارے پاس میڈیکل رپورٹ آ چکی تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جن 15 افراد کو شارٹ لسٹ کیا تھا ’ان میں سے چار پر شک بڑھتا جا رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اکثریت افطاری کے بعد اپنے گھروں میں موجود تھے اور ان کے اہلخانہ سے اس کی تصدیق کی گئی۔‘تاہم چار ملزمان کے بیانات نے پولیس کو شک میں مبتلا کیا۔ عرفان نذیر کے مطابق ’یہ چار ملزمان، افطار کے وقت گھروں سے باہر تھے لیکن ایک دوسرے کے حق میں گواہی دے رہے تھے کہ میں نے اس کو وہاں سے جاتے دیکھا اور میں اس طرف سے آ رہا تھا۔ ان چاروں کے بیانات آپس میں مل رہے تھے لیکن جب پولیس افسران نے افطاری کے وقت گھروں سے باہر رہنے کی بابت بات کی تو وہ کچھ خاص وجہ نہیں بتا سکے تھے۔‘پنجاب فارنزک لیبارٹری کی ہنگامی رپورٹ نے پولیس کے شک کو یقین میں بدل دیا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ ملزمان کے نمونے مقتولہ کے نمونوں سے میچ کر چکے تھے۔’ملزمان اس ڈر سے قتل کرتے ہیں کہ پہچانیں نہ جائیں‘محمد عرفان نذیر کا کہنا تھا کہ ’پولیس کو پہلے ہی تجربے کی بنیاد پر یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ ملزمان مقتولہ کے قریبی رشتہ دار تھے کیونکہ عموما ان کیسوں میں ملزمان اس ڈر سے قتل کرتے ہیں کہ بعد میں ان کی شناخت ہو سکتی ہے۔‘محمد عرفان نذیر نے بتایا کہ ’ملزمان میں سے دو بچی کے سگے ماموں تھے جبکہ باقی دو بھی قریبی رشتہ دار تھے۔‘عرفان نذیر نے دعوی کیا کہ تفتیش میں یہ ثابت ہوا کہ ’بچی جب پانی لینے نکلی تو ایک سگے ماموں نے اسے کھیتوں میں لے جا کر دوسرے ملزم کی مدد سے اس کا ریپ کیا کیوں کہ سورج مکھی کے کھیت بڑے ہوتے ہیں اور اس میں نظر کچھ نہیں آتا۔‘محمد عرفان نذیر کا دعوی ہے کہ ملزمان نے حراست میں لیے جانے کے بعد پولیس کی تفتیش میں اعتراف کیا کہ پہلے ان دونوں نے ریپ کیا جس کے بعد دیگر دو ملزمان پہنچے اور پھر وہ بھی اس جرم میں شریک ہوئے۔عرفان نذیر کے مطابق ’اس دوران بچی کی طبیعت بگڑ چکی تھی تاہم ملزمان میں سے ایک اپنے گھر گیا اور گھریلو چھری لایا جبکہ ایک اور ملزم پہرہ دیتا رہا۔‘محمد عرفان نذیر کا دعوی ہے کہ مقتولہ کے گلے پر چھری کے تین وار کیے گئے اور ’یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے۔‘عرفان نذیر کے مطابق ملزمان ’بچی کو مردہ سمجھ کر وہیں چھوڑ گئے لیکن گھریلو چھری کے استعمال کی وجہ سے بچی زخمی تو ہوئی لیکن فوری طور پر اس کی ہلاکت نہیں ہوئی۔‘ملزمان کی ’فائرنگ‘ سے ہلاکتبہاولپور پولیس کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق ملزمان کا مقتولہ بچی کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ میچ کر گیا تھا جس کے بعد ’پولیس ملزمان کو آلہ قتل کی برآمدگی کے لیے لے کر گئی اور ریکوری کے بعد واپسی پر نادرن بائی پاس کے قریب نامعلوم ملزمان نے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کی غرض سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔‘پریس ریلیز کے مطابق ’زیر حراست ملزمان کو باری باری نام لے کر پکارتے رہے کہ ہماری طرف بھاگو ہم تمہیں چھڑوانے آئے ہیں۔ ملزمان نے پولیس ملازمین کو دھکا مارا اور ہتھکڑیاں چھڑوا کر حملہ آوور ساتھیوں کی طرف بھاگے جبکہ پولیس پارٹی نے بھی پوزیشن لے کر اپنی حفاظت میں جوابیفائر کئے۔‘پریس ریلیز کے مطابق ’جب فائرنگ کا تبادلہ روکا تو دیکھا گیا کہ ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے تھے جبکہ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب گئے۔‘واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں سنہ 2019 سے لے کر سنہ 2024 کے درمیان پولیس مقابلوں میں کم از کم 550 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں سے اکثریت ان افراد کی تھی جو سنگین جرائم میں ملوث تھے۔بی بی سی اردو نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں متعدد پولیس افسران سے بات چیت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ٹھوس شواہد کے باوجود ایسے واقعات کی وجہ کیا ہے۔اسلام آباد پولیس کے سابق سربراہ طاہر عالم خان نے بی بی سی نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس کی ایک وجہ مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے دلوں میں خوف پیدا کرنا ہوتی ہے جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ 'ملک میں کریمنل جسٹس سسٹم اتنا کمزور ہے کہ اگر ایک عدالت سے ملزم کو سزا ہو جاتی ہے تو اکثر مقدمات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑی عدالتوں سے وہ مجرمان ضمانت پر باہر آ جاتے ہیں۔‘محمد عرفان نذیر سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ملزمان کو واپس لا رہے تھے کہ پولیس کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔ ہمیں اور سب پولیس اہلکاروں کو اللہ نے بچایا ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’کیوں فائرنگ کی گئی، اس بارے میں پولیس کے پاس اطلاعات موجود ہیں مگر اس پر ابھی بات کرنا مناسب نہیں کیوں کہ اس پر تفتیش ہو رہی ہے۔‘بی بی سی نے چاروں ہلاک ہونے والوں کے قریبی رشتہ داروں سے رابطہ کیا ہے تاہم ان میں سے کسی نے بھی اس معاملے پر بات نہیں کی۔’چوڑیاں لانے کا کہنا تھا‘فضا کے والد غلام محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس دن فضا بہت خوش تھی اور مجھے فون پر کہہ رہی تھی کہ اس کو والدہ نے عید کے کپڑے لے کر دیے ہیں۔‘ غلام محمد نے عید کی خریداری کے لیے 15 ہزار روپے بھجوائے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بیٹی نے کہا تھا کہ کپڑے تو مل گئے ہیں مگر چوڑیاں رہتی ہیں، جب آپ عید کے لیے آنا تو مجھے چوڑیاں لے کر دینا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ چوڑیاں لے کر دوں گا۔‘غلام محمد، جو پتوکی کے رہائشی ہیں، شادی کے بعد اپنی اہلیہ کے ہی گاؤں میں منتقل ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سب آپس میں رشتہ دار ہیں، میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بچوں کے سگے ماموں ایسی حرکت کر سکتے ہیں۔‘’ہم اس وقت بھی سکتے کی کیفیت میں ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کیا ہوا اور یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ماموں کا رشتہ تو باپ کا رشتہ ہے اور یہ باپ سے بھی پیارا سمجھا جاتا ہے۔‘چار سالہ زہرہ کا ریپ اور قتل: ملزم کی گرفتاری، ’ہتھکڑی سمیت فرار‘ اور پھر ’پراسرار ہلاکت‘ڈسکہ میں زہرہ قدیر کا قتل: ’بیٹی کے سسرال میں دھلا فرش دیکھا تو چھٹی حِسّ نے کہا کچھ بہت برا ہو چکا ہے‘پاکستان میں ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان ’ٹھوس شواہد اور اعترافِ جرم‘ کے باوجود پراسرار حالات میں مارے کیوں جاتے ہیں؟کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کا معمہ: برقعہ پوش ’ڈاکو‘ اور بچوں کو ٹیوشن دینے والی ’سہولت کار‘’بعض اوقات انکاؤنٹر لازمی ہو جاتے ہیں۔۔۔‘: سسٹم کی وہ خامیاں جو پاکستان میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کی وجہ بنتی ہیںلاہور میں انسٹاگرام سے شروع ہونے والے مبینہ ریپ کے غیرمصدقہ واقعے نے کیسے پُرتشدد مظاہروں کو جنم دیا؟