گوجرانوالہ میں ٹک ٹاکر بہن کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمہ کو ’والد نے معاف کر دیا‘


Getty Imagesپاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کی ایک سیشنز عدالت نے کم عمر لڑکی کے قتل کے الزام میں گرفتار بڑی بہن کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔پندرہ سالہ زوبیہ اور ان کی بڑی بہن کے درمیان 30 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے ویوز پر ایک جھگڑا ہوا تھا اور اہلخانہ کے مطابق بڑی بہن نے مبینہ طور پر اپنی بہن پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا تھا۔ زوبیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھیں۔ملزمہ آٹھ روز سے جیل میں قید تھیں۔ تاہم پیر کو عدالت میں ملزمہ کے والدین پیش ہوئے اور والد نے جج کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو معاف کرتے ہیں اور مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتے، جس کے بعد عدالت نے ملزمہ کی درخواست ضمانت پچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی اور انھیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔واقعہ کیسے پیش آیا اور ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے؟30 اگست کو گوجرانوالہ میں دو بہنوں کے درمیان مبینہ طور پر ٹِک ٹاک کے ویوز سے شروع ہونے والے ایک معمولی جھگڑے کا اختتام ایک بہن کے قتل پر ہوا تھا۔لدھے والا وڑائچ پولیس نے لڑکیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے 15 سالہ زوبیہ مناہل کے قتل کے الزام میں 18 سالہ بڑی بہن کو گرفتار کر لیا تھا۔لدھے والا وڑائچ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او محمد افضل نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ملزمہ سے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا ہے۔تھانہ لدھے والا وڑائچ میں درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں عبدالشکور خان مدعی ہیں، جو ملزمہ اور مقتولہ دونوں کے والد ہیں۔مدعی کے مطابق وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈرائیور ہیں اور ان کی چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ان کے گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے اور سب اہل خانہ صحن میں بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ اچانک چھت سے شور کی آواز آئی۔ جب اہلخانہ چھت پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ دونوں بہنیں ’آپس میں پیسوں کے لین دین پر جھگڑا کر رہی تھیں۔‘’اس دوران بڑی بیٹی نے باورچی خانے میں پڑی ہوئی چھری اٹھائی اور زوبیہ کو ماری جو اسے کمر پر لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہوکر گر پڑی اور خون بہنے لگا۔‘Getty Imagesایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ہم سب اہل خانہ نے زوبیہ کو ابتدائی طبی مدد دینے کی کافی کوشش کی لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے زوبیہ مناہل فوت ہو گئی۔‘مدعی کا کہنا ہے کہ ان کی بڑی بیٹی نے اپنی چھوٹی بہن زوبیہ مناہل کو ناحق قتل کرکے سخت زیادتی کی ہے۔قتل کا واقعہ کیسے پیش آیا؟پولیس کی جانب سے مرتب کی گئی ابتدائی رپورٹ اس واقعے کے محرکات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ رپورٹ ایس ایچ او محمد افضل نے پولیس کے اعلی افسران کو بھجوائی ہے۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ دونوں بہنیں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنایا کرتی تھیں اور ان دونوں کے درمیان جان لیوا جھگڑے کی بنیاد بھی یہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنا۔رپورٹ کے مطابق ’اس جھگڑے کے دوران ملزمہ نے اپنی ہمشیرہ زوبیہ مناہل عرف عیشہ کو تیز دھار آلے سے کمر پر وار کرکے اسے قتل کر دیا۔‘ایس ایچ او محمد افضل نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے زیرحراست ملزمہ کا ابتدائی بیان قلمبند کیا ہے، جس کے مطابق ’مقتولہ کے فالورز زیادہ تھے جبکہ ملزمہ کے فالورز کم تھے۔ ملزمہ کا الزام تھا کہ تم میرے فالورز چوری کرتی ہو، جس وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہوا اور بات بڑھ گئی۔‘عائشہ گلمنہ قتل کیس: والد اور بھائی سمیت پانچ ملزمان گرفتار، قتل مبینہ طور پر ’غیرت کے نام پر کروایا گیا‘میمز، پاپ کلچر اور خفیہ کوڈ: داعش کے حامی ٹک ٹاک سے نوجوانوں کو کیسے راغب کر رہے ہیں؟’پرانا آئی فون 50 ہزار ڈالر میں‘: ٹک ٹاک کی بندش سے لوگوں نے کیسے فائدہ اٹھایاٹک ٹاک پر پابندی لگی تو ان کا کیا ہو گا جن کی یہ آواز بنی؟تاہم ملزمہ کے رشتے دار غلام رسول کہتے ہیں کہ دونوں بہنوں نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز اس لیے بنانا شروع کی تھیں تاکہ وہ معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں۔’دونوں بچیاں انتہائی تابعدار اور والدین کی فرمانبردار تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں، اسی لیے اکثر فوڈ وی لاگنگ کرتیں اور مختلف سوشل میڈیا اکائونٹس پر مصروف رہتیں۔‘غلام رسول نے مزید بتایا کہ ’یہ خاندان کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ ایک بیٹی وفات پا چکی ہے اور دوسری پولیس کی حراست میں ہے۔ والدین پر جیسے پر قیامت ٹوٹ گئی ہے، کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔‘مقدمے کے مدعی عبدالشکور کہتے ہیں کہ وہ اپنی بڑی بیٹی کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے اپنی بڑی بیٹی کو خود پولیس کی تحویل میں دیا ہے اور اب وہ ملزمہ کی طرف سے ’کیس کی پیروی نہیں کریں گے۔‘’جس نے میرے ہنستے بستے گھر کو برباد کردیا میرا اب اس کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں رہا۔‘’ملزمہ کے پاس وکیل نہ ہونے کی صورت میں سرکاری وکیل ملے گا‘فوجداری قوانین کے ماہر شیخ عثمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ پاکستان کے قانون کے مطابق ’کسی زیرِ حراست ملزم کو صرف اس وجہ سے بغیر وکیل کے نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اس کے مقدمے کی پیروی کے لیے کوئی رشتہ دار یا ذاتی وکیل موجود نہیں۔‘شیخ عثمان ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہآئین اور قانون ملزم کو وکیل کے ذریعے دفاع کا حق دیتا ہے اور اگر کوئی شخص جیل میں ہے، اس کے گھر والے موجود نہیں یا اس کے پاس کوئی وکیل نہیں، تو عدالت اس بات کو نظرانداز نہیں کرتی اور ملزم کو سرکاری وکیل مہیا کیا جاتا ہے جو ریاستی اخراجات پر ملزم کا دفاع کرتا ہے۔’پنجاب میں فری لیگل ایڈ کمیٹی بھی کام کررہی ہے، جس میں پنجاب بار کونسل اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وکلا شامل ہیں۔ مستحق قیدی متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو درخواست دے سکتا ہے، جس کے بعد درخواست وکیل کو بھجوادی جاتی ہے۔‘’پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ 2018 کے تحت پنجاب پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ بھی سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو قانونی امداد فراہم کرتا ہے۔‘Getty Imagesٹک ٹاک کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحانپاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا پر تحقیق کرنے والے ارحم شفیع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’نئی نسل ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوب سے پیسے کمانے کا ہنر جان گئی ہے اور یہ ان کے لیے کمائی کا آسان ذریعہ بن گیا ہے، جس وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ فالورز بنانے اور ویوز لینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘ڈیجیٹل میڈیا ایکسپرٹ کے مطابق ٹک ٹاک پاکستان میں اپنے موناٹائیزیشن پروگرام کے تحت براہ راست رقم کی ادائیگیاں کرتا ہے۔’جن افراد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ مونیٹائزڈ ہیں انھیں ایک ہزار ویوز پر چالیس سینٹ سے ایک ڈالر ملتا ہے، جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ ایک ملین ویوز پر چار سو سے ایک ہزار ڈالرز تک کمایا جاسکتا ہے جو کہ پاکستانی کرنسی میں اچھی خاصی رقم بن جاتی ہے۔‘ارحم شفیع نے مزید بتایا کہ ’پاکستان میں اکثر لوگ امریکہ یا برطانیہ میں رجسٹرڈ شدہ اکاؤنٹس استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس سے انھیں معاوضہ زیادہ ملتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات سب کے سامنے ہیں، سوشل میڈیا روایتی ملازمتوں کی کمی کی وجہ سے ایک بہترین پارٹ ٹائم یا فل ٹائم آمدن کا ذریعہ بن چکا ہے۔‘’ٹک ٹاک پر آپ کو دولت اور شہرت دونوں مل جاتی ہیں۔ لیکن یہ سارا کھیل فالورز اور ویوز کا ہے۔‘

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید سائنس اور ٹیکنالوجی

عقل داڑھ کا اصل کام کیا اور اس کے نکلنے سے درد کیوں ہوتا ہے؟

راولپنڈی کی بہنوں کا AI کی دنیا میں کارنامہ: انسانی جذبات اور یادوں کو سمجھنے والی ایپس تیار

’یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں، انسانوں کا خاتمہ ممکن ہے‘: اینتھروپک کے محقق کا استعفی اور اے آئی سے جڑے نئے انکشافات کیوں زیرِ بحث ہیں؟

نظام لوہار: قصور میں دفن انگریز افسر کا قاتل پنجاب کا ڈاکو یا ’قومی ہیرو‘؟

ڈینم جینز اور جیکٹ سے شیگ ہیئر کٹ تک: 80 کی دہائی کا ’وائرل فیشن‘ کیا اے آئی سے پہلے ہی مقبول ہو رہا تھا؟

باس کی طرف سے آنے والا پیغام جو آپ کو کنگال بنا سکتا ہے: ’باس سکیم‘ جس کے میسج پر اکاؤنٹنٹ نے ڈیڑھ کروڑ روپیہ ٹرانسفر کر دیا

40 سال سے کم عمر اور بظاہر صحت مند افراد ہارٹ اٹیک کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟

40 سال سے کم عمر اور بظاہر صحتمند افراد ہارٹ اٹیک کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟

یمنی میزائل پروگرام سے روسی ڈرونز اور اماراتی مہم تک: کلاڈ کوڈ کیا ہے اور اسے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کون استعمال کر رہا ہے؟

جب جناح فلم کی شوٹنگ کے دوران ہالی وڈ اداکار کرسٹوفر لی حقیقت میں رو پڑے

مامیہ شاہ جعفر: ’جب آپ کو اپنے لباس پر جوابدہ ہونا پڑے، تو آپ کے اندر بہت کچھ بدل جاتا ہے‘

’ہماری بھی نقل کی‘: ایپل کے پہلے فولڈیبل آئی فون ’ڈوؤ‘ پر سام سنگ کا طنز

ڈرون حملوں کا خطرہ، خیبر پختونخوا پولیس نے یوکرین کی حکمت عملی اپنا لی

’ڈوؤ‘: ایپل کمپنی کا پہلا اور ’سب سے مہنگا‘ فولڈ ایبل آئی فون

’ڈیو‘: ایپل کمپنی کا پہلا اور ’سب سے مہنگا‘ فولڈ ایبل آئی فون

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی