
شدید گرمی میں لوگ گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مختلف طریقے آزما رہے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق چند آسان تبدیلیاں گھر کے اندر درجہ حرارت کم کرنے اور بجلی کا بل گھٹانے میں واقعی مدد دے سکتی ہیں۔ ان میں سب سے مؤثر طریقے سفید چھت، پودے اور سولر پینلز سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر گھر کی چھت پر سفید رنگ یا “کول روف کوٹنگ” کر دی جائے تو سورج کی گرمی کا بڑا حصہ واپس منعکس ہو جاتا ہے۔ اس سے چھت کم گرم ہوتی ہے اور گھر کے اندر کا درجہ حرارت تقریباً 2 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم محسوس ہو سکتا ہے جبکہ چھت کی سطح بعض اوقات 20 سے 30 ڈگری تک ٹھنڈی رہتی ہے۔ اس طریقے سے اے سی اور پنکھے کم استعمال ہوتے ہیں جس سے بجلی کا بل تقریباً 10 سے 20 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ گھر کی چھت، بالکونی یا صحن میں پودے لگانے سے ماحول قدرتی طور پر ٹھنڈا رہتا ہے۔ خاص طور پر بیلیں، گھاس اور بڑے پتوں والے پودے سورج کی گرمی جذب کر لیتے ہیں اور اردگرد کی ہوا کو ٹھنڈا بناتے ہیں۔ مناسب مقدار میں پودے لگانے سے گھر کے اندر کا درجہ حرارت 2 سے 4 ڈگری تک کم ہو سکتا ہے جبکہ کولنگ کی ضرورت کم ہونے سے بجلی کے بل میں بھی 5 سے 15 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
اسی طرح سولر پینلز صرف بجلی بنانے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ یہ چھت پر سایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سولر پینلز سورج کی براہِ راست گرمی کو چھت تک پہنچنے سے روکتے ہیں جس سے گھر نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق سولر پینلز سے چھت کا درجہ حرارت 3 سے 5 ڈگری تک کم ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ چونکہ گھر کی بجلی سولر سے چلتی ہے اس لیے ماہانہ بجلی کا بل 50 سے 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اگر سسٹم بڑا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تینوں طریقے ایک ساتھ استعمال کیے جائیں یعنی سفید چھت، زیادہ پودے اور سولر پینلز، تو گرمی کے موسم میں گھر کا ماحول کافی بہتر بنایا جا سکتا ہے اور مہنگی بجلی کے بل سے بھی بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔