
BBCایلی مے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے پُرجوش انداز میں کہتی ہیں: ’میری بہترین دوست کے گھر جانے کے لیے سب میرے ساتھ تیار ہوں۔‘وہ ننھی سی بچی ہیں اور مسکراتے ہوئے ٹک ٹاک پر اپنی سکن کیئر روٹین کی وضاحت کر رہی ہیں۔ایک شفاف مائع اپنی جلد پر مَلتے ہوئے وہ کہتی ہیں: ’مجھے یہ ٹونر بہت، بہت، بہت، بہت، بہت پسند ہے۔‘اس کے بعد ایک سیرم کی باری ہے جو جلد کو چمک دار بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ وہ خوشی سے کہتی ہیں ’اوہ میرے خدا، یہ تو بہت چمک دار ہے۔‘اپنی زرد رنگ کی کریم سے وہ ایک ’سموتھی‘ بناتی ہیں اور ہاتھ کی پشت پر کریم کے قطرے لگا کر اسے رنگ دار موئسچرائزر کے ساتھ ملا دیتی ہیں۔بات کرتے ہوئے وہ احتیاط سے آنکھوں کے نیچے کنسیلر لگاتی ہیں اور گالوں پر ہلکا گلابی بلش اور ہائی لائٹر۔ پھر وہ پلکوں کو کرل کرتی ہیں اور مسکارا اور لپ گلوس بھی لگاتی ہیں۔اگلا مرحلہ بال خشک کر کے انھیں سیدھا کرنے کا ہے۔ اس کے بعد ایلی مے اعلان کرتی ہیں کہ وہ تیار ہو گئی ہیں۔ایلی مے کی عمر اب 13 سال ہے۔ جب وہ آٹھ سال کی تھیں، اس وقت سے سکن کیئر استعمال کر رہی ہیں اور اس کی تشہیر بھی کر رہی ہیں۔ لاک ڈاؤن میں شروع ہونے والا مشغلہ اب ان کے خاندان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ ان کے فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور سنیپ چیٹ پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں۔ ایلی مے کے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں۔ان کی والدہ سوفی کہتی ہیں کہ مختلف پلیٹ فارمز پر مواد پوسٹ کر کے وہ سالانہ 50 ہزار پاؤنڈز سے زیادہ کماتے ہیں۔ ایلی مے کے علاوہ سوفی پانچ اور بچوں کی بھی ماں ہیں۔سوفی کے مطابق ’کانٹینٹ کری ایٹر بننے کے بعد ہماری زندگی بدل گئی، بہت سے دوسرے کم عمر بچے صرف ایلی کی سکن کیئر روٹین کے بارے میں جاننا چاہتے تھے، اور یہ چل نکلا۔‘اگر سرچ انجن پر ’بچے اور سکن کیئر‘ لکھ کر تلاش کیا جائے تو سینکڑوں ایسی کم عمر لڑکیوں کی ویڈیوز ملیں گی جو سکن کیئر مصنوعات اور میک اپ کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ کی عمریں تو تین یا چار سال ہیں۔لڑکیوں کے لیے سکن کیئر مصنوعات کی تشہیر کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں سکرَب اور کلینزر بے داغ جلد کا وعدہ کرتے تھے، جبکہ آج کی لڑکیاں بے عیب جلد کے لیے زیادہ جدید مصنوعات استعمال کر رہی ہیں، جن میں سے کئی میں اینٹی ایجنگ اجزا شامل ہیں۔کچھ لڑکیاں خود کو ’برانڈ ایمبیسیڈر‘ کہتی ہیں، اور معروف برانڈز کی مصنوعات پیش کرتی ہیں۔ اینی میٹڈ فلم کے پاپ ڈیمن ہنٹرز کی تھیم والے سکن کیئر پیک بھی دستیاب ہیں، جو ’چمک دار جلد‘ کے لیے بنائے گئے ہیں۔کچھ مصنوعات واضح طور پر بچوں کو ہدف بناتی ہیں، جبکہ کچھ برانڈز کہتے ہیں کہ وہ اس مارکیٹ سے وابستہ نہیں ہونا چاہتے۔ ڈرنک ایلیفنٹ نامی برانڈ سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق وہ ’کم عمر صارفین کا برانڈ‘ نہیں ہیں اور صارفین کو مصنوعات کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایلی مے جیسی دیگر انفلوئنسرز بھی ہیں، سکن کیئر روٹین کے کئی مراحل ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ییں۔سکن کیئر برانڈ پائی کے مطابق نو سے 12 سال کے 1500 بچوں کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے نصف ہفتہ وار بنیادوں پر متعدد مصنوعات استعمال کر رہے تھے۔ ان میں سے نصف کا کہنا تھا کہ وہ یہ مصنوعات اپنی جلد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔یہ ایک اربوں پاؤنڈ کی صنعت بن چکی ہے اور اس میں تیزی سے مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم کچھ افراد اور ضابطے بنانے والے ادارے احتیاط کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔امریکہ میں کارنیل یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر بروک ایرن ڈفی کہتی ہیں: ’سکن کیئر کمپنیاں 30 اور 40 سال کی خواتین کو طویل عرصے سے نشانہ بنا رہی ہیں، انھیں بتایا گیا کہ بڑھتی عمر ایک مسئلہ ہے اور اس کا حل فروخت کیا گیا۔ اب یہی دباؤ کم عمر لڑکیوں پر ڈالا جا رہا ہے۔‘جب یہ صنعت بڑھ رہی ہے اور اس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جانے والا مواد بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض بے ضرر تفریح ہے یا لڑکیوں کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ ان کی شکل میں کچھ خرابی ہے؟بے عیب جلد حاصل کرنے کا خوابکم عمری میں بے عیب جلد حاصل کرنے کے غیر صحت مند جنون کے لیے ماہرین امراض جلد اور ماہرین تعلیم نے ایک نئی اصطلاح متعارف کروائی ہے: ’کاسمیٹیکوریکسیا‘۔اٹلی میں یونیورسٹی آف میلان کے پروفیسر جیووانی دامیانی نے آٹھ سے 14 سال کے 55 بچوں کا انٹرویو کیا۔ انھیں معلوم ہوا کہ کاسمیٹیکوریکسیا کے رجحان کا شکار بچے موبائل فون استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر گھنٹوں سکن کیئر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ یہ میک اپ کے بغیر سماجی میل جول سے گریز کرتے ہیں، حتیٰ کہ خاندان والوں سے ملنے سے پہلے بھی میک اپ کرتے ہیں، اور روزانہ 10 کے قریب مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔Getty Imagesسکن کیئر اربوں پاؤنڈز کی صنعت بن چکی ہے اطالوی مسابقتی اتھارٹی نے سیفورا اور بینیفٹ نامی کاسمیٹک مصنوعات بنانے والی بیوٹی کمپنی ایل وی ایم ایچ کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ جانچا جا رہا ہے کہ آیا ان کے برانڈز یہ واضح کرنے میں ناکام رہے کہ مصنوعات بچوں کے لیے نہیں ہیں، اور آیا وہ نوجوان مائیکرو انفلوئنسرز کے ذریعے پوشیدہ انداز میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کر رہے ہیں۔ایل وی ایم ایچ نے کہا کہ وہ قوانین کی پابندی کرتی ہے اور صرف 18 سال سے زائد عمر کے انفلوئنسرز کے ساتھ کام کرتی ہے۔برطانیہ کی ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈز اتھارٹی نے کہا کہ وہ بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔یہ مصنوعات سستی نہیں ہیں۔ ایک تحقیق میں 18 سال سے کم عمر افراد کی بنائی گئی 100 ٹک ٹاک ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا، جس سے پتا چلا کہ ان کی سکن کیئر روٹین کی اوسط لاگت 125 پاؤنڈ تھی۔ استعمال کے لحاظ سے، ان مصنوعات کو ہر تین یا چار ماہ بعد دوبارہ خریدنا پڑ سکتا ہے۔بچے ان مصنوعات کو استعمال کر کے بہترین جلد حاصل کرے کی خواہش رکھتے ہیں مگر کنسلٹنٹ ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر جین آئر کے مطابق چھوٹے بچوں کی جلد تو پہلے ہی بہترین حالت میں ہوتی ہے۔وہ 20 برس سے پریکٹس کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ اب پہلے سے زیادہ بچے کاسمیٹکس استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان سے مشورے لینے کے لیے آنے والے افراد کی نوعیت بہت مختلف ہوتی ہے؛ ایک طرف ایسے والدین ہوتے ہیں جو اپنے کم عمر بچوں کے لیے بہترین سکن کیئر طریقہ جاننا چاہتے ہیں اور دوسری طرف آٹھ سال کی عمر کے بچے بھی ہوتے ہیں جن کی جلد پر بیوٹی مصنوعات کے باعث شدید ردعمل ہو چکا ہوتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ والدین اکثر خوفزدہ ہو جاتے ہیں، لیکن وہ اپنے بچوں کو اتنی زیادہ مصنوعات استعمال کرنے سے باز نہیں رکھ پاتے۔ڈاکٹر آئر کہتی ہیں: ’یہ مصنوعات اینٹی ایجنگ مارکیٹ کے لیے تیار کی جاتی ہیں، ان میں شامل نقصان دہ اجزا کم عمر اور نازک جلد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اور بچوں کو تو ان کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔‘کاسمیٹک سرجری کے غیر منظم کورس جو صرف چند گھنٹوں پر مشتمل ہوتے ہیںاچھا دکھائی دینے کے لیے کاسمیٹک ٹریٹمنٹ کروانے میں اضافہایرانی انسٹاگرام سٹار: میں ’مردہ دلہن‘ بننا چاہتی تھیمردوں میں کاسمیٹک سرجری کا بڑھتا رجحان اور خطراتوہ کہتی ہیں کہ سکن کیئر مصنوعات میں شامل اجزا کی وجہ سے وہ بچوں میں جلد کے مسائل میں اضافہ دیکھ رہی ہیں۔آئر خبردار کرتی ہیں کہ ان مصنوعات میں شامل اجزا کی وجہ سے ایک بار اگر بچے میں کسی چیز سے الرجی پیدا ہو جائے تو وہ مستقبل میں اس جز سے بنی کوئی بھی مصنوعات استعمال نہیں کر سکے گا۔ایلی مے کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کی مصنوعات کے اجزا چیک کرتی ہیں اور نقصان دہ چیزوں سے بچاتی ہیں۔ وہ یہ احتیاط بھی کرتی ہیں کہ ان کی بیٹی کے بارے میں زیادہ تفصیلات ظاہر نہ ہوں، جیسے کہ وہ کہاں رہتی ہیں اور کس سکول میں جاتی ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آنے والے پیغامات پر بھی سخت نظر رکھتی ہیں۔ایلی مے اب بڑی کمپنیوں کی تقریبات میں بھی شرکت کرتی ہیں اور اپنی والدہ کے ساتھ مل کر ویگن سکن کیئر کا اپنا برانڈ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ایلی مے بیک وقت 13 سال سے بڑی بھی لگتی ہیں اور چھوٹی بھی۔ وہ سوچ سمجھ کر دھیمے انداز میں بات کرتی ہیں تاہم کبھی کبھار جواب کے لیے اپنی ماں کی طرف بھی دیکھتی ہیں۔ ان کے لمبے اور سجے ہوئے ناخن ہیں اور انھوں نے میک اپ کیا ہوا ہے، مگر وہ قدرتی لگتا ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’اب میک اپ کرنا مجھے معمول کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔‘آئینۂ فریبسوفی کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر ان کی کامیابی نے ان کی زندگی کو بہتر بنایا ہے، تاہم کچھ ماہرینِ نفسیات کو خدشہ ہے کہ سوشل میڈیا سے واقف اور خوبصورتی کے بارے میں حد سے زیادہ فکر مند کم عمر افراد اپنی شکل و صورت اور زندگی کے بارے میں ایک مسخ شدہ تصور کے ساتھ بڑے ہوں گے۔البرٹو سٹیفانا ایک اطالوی ماہرِ نفسیات ہیں جنھوں نے دامیانی کے ساتھ کاسمیٹیکوریکسیا پر ایک مقالہ تحریر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بچے ’اپنی شناخت بنا رہے ہوتے ہیں‘ اور بڑے ہونے پر انھیں ’اپنی حقیقی شکل کو قبول کرنے‘ میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’جو بچے سکن کیئر کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں، وہ عموماً ہر اس چیز سے متاثر ہوتے ہیں جو وہ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔ یوں ان کی خود اعتمادی اس بات پر منحصر ہو جاتی ہے کہ انھیں کتنے لائکس ملتے ہیں یا لوگوں نے ان کے لیے کیا تبصرے کیے ہیں۔‘چونکہ نام نہاد کاسمیٹیکوریکسیا ایک نسبتاً نیا رجحان ہے، اس لیے اس کے ممکنہ طویل مدتی نفسیاتی اثرات کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، تاہم سٹیفانا کا کہنا ہے کہ ان کی تازہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی خدوخال کے بگاڑ کے عارضے (باڈی ڈسمارفک ڈس آرڈر / بی ڈی ڈی) سے اس کا تعلق ہے۔ بی ڈی ڈی ایک ذہنی صحت کی کیفیت ہے جس کا شکار فرد سمجھتا ہے کہ اس کے جسم میں خامی ہے اور وہ اس کے بارے میں مسلسل اور شدید شرمندگی اور بے چینی کا شکار رہتا ہے۔Getty Imagesپروفیسر بروک کہتی ہیں: ’سکن کیئر کمپنیاں 30 اور 40 سال کی خواتین کو طویل عرصے سے نشانہ بنا رہی ہیں۔‘وہ خبردار کرتے ہیں کہ انھوں نے سات یا آٹھ سال کے کم عمر بچوں میں بھی بے چینی اور خجالت کی علامات دیکھی ہیں جو کاسمیٹیکوریکسیا کی نشانی ہے۔ان کے مطابق ’یہ کیفیت اس حد تک شدید ہو سکتی ہے کہ وہ سکول نہیں جانا چاہتے، کیونکہ انھیں بہت زیادہ شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اور یہ شرمندگی اس بات سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر خود کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں اور خود کو کافی خوبصورت نہیں سمجھتے۔'یونیورسٹی کالج لندن میں کی پروفیسر جیسیکا رنگروز بھی اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’بچے اس مواد کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی اچھی زندگی ہے۔ اور اگر وہ اسے حاصل نہیں کر پاتے تو سمجھتے ہیں کہ وہ ناکام ہو رہے ہیں۔‘ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن کم عمر افراد کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرتا ہے اور 18 سال سے کم عمر صارفین کو ہدف بنانے والے اشتہارات کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ والدین کو معلومات اور معاونت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں۔ ٹک ٹاک کے مطابق وہ اپنے پلیٹ فارم کی یوتھ کونسل کے ذریعے باقاعدگی سے نوجوانوں سے اپنی خدمات بہتر بنانے کے بارے میں رائے بھی لیتا ہے۔ اس کے مطابق نوجوان افراد ٹک ٹاک کو جلد کی صحت کے بارے میں سیکھنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، جہاں ماہرینِ امراضِ جلد کی تصدیق شدہ معلومات موجود ہوتی ہیں۔میٹا، جس کے پاس انسٹاگرام اور فیس بک سمیت دیگر پلیٹ فارمز ہیں، نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔رنگروز اور دیگر ماہرین جن سے بات کی گئی، کہتے ہیں کہ یہ صرف سوشل میڈیا کمپنیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ذمہ داری ان سکن کیئر برانڈز اور والدین پر بھی عائد ہوتی ہے جو یہ مصنوعات فروخت کرتے ہیں یا استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔سٹیفانا کا کہنا ہے: ’سوشل میڈیا پوسٹس میں فلٹرز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ بچے جو تصاویر دیکھ رہے ہیں وہ بعض اوقات حقیقت پر مبنی بھی نہیں ہوتیں، اس لیے وہ ایسی چیز کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں۔‘’خوبصورت نظر آنے کی خواہش‘: انڈیا میں بیوٹی اور سکن کیئر انڈسٹری کیسے فروغ پا رہی ہے؟خوبصورتی کی صنعت کو تشکیل دینے والی ٹیکنالوجیز’رنگ گورا کرنے والی کریم کے باعث والد مجھے پہچان ہی نہیں سکے‘بیوٹی کی جعلی مصنوعات فروخت کرنے والے گرفتارکاسمیٹک سرجری کے غیر منظم کورس جو صرف چند گھنٹوں پر مشتمل ہوتے ہیں