
Getty Imagesمظاہرین نے متفقہ طور پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیاسنیچر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے مشہور مقام جنتر منتر پر احتجاج کیا۔ اس احتجاج کی کال سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’کاکروچ از بیک‘ نے دی تھی، جس کے جواب میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی۔ صرف چند دنوں میں اس سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے دو کروڑ سے زائد فالوورز ہو چکے ہیں۔مظاہرین نے متفقہ طور پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ سی جے پی نے اس کے لیے حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم بھی دیا ہے۔ایسی صورت حال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟بعض سیاسی ماہرین اسے ایک ناپختہ اور بے سمت تحریک قرار دے رہے ہیں جس کی بڑی وجہ کسی تجربہ کار چہرے کی عدم موجودگی بتایا جا رہا ہے۔تاہم، اس جماعت کی جانب سے سے اٹھائے گئے مسائل اور اسے عوام کی طرف سے ملنے والی حمایت کو دیکھتے ہوئے کچھ تجزیہ کار اس جماعت کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔بی بی سی نیوز ہندی کے نامہ نگار دلنواز پاشا نے سی جے پی کے ترجمان سورَو داس سے بات کی ہے۔اس سوال پر کہ اگر ان کے اہم مطالبات پورے ہو جاتے ہیں تو کاکروچ جنتا پارٹی کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا، سورَو داس کا کہنا تھا، ’ہم سب مل کر مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔ یہ تمام مصیبت زدہ نوجوانوں کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہمارا مطالبہ ہے کہ ’دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں یا وزیر اعظم مودی انھیں استعفیٰ دینے پر مجبور کریں۔‘کیا مظاہرے سے کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت ثابت ہوتی ہے؟Manan VATSYAYANA / AFP via Getty Imagesکاکروچ جنتا پارٹی کے ایک حامی نے احتجاج کے دوران ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ ’میں ایک کاکروچ ہوں‘۔کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سورَو داس کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاج میں شرکت کر کے ہماری تحریک کی توثیق کی ہے۔’یہاں بہت سارے لوگوں کا اجتماع متوقع تھا، کچھ لوگ دوسرے شہروں میں ہونے کی وجہ سے نہیں آسکے تھے، لیکن ہمیں توثیق ملی ہے کہ یہ تحریک صحیح راستے پر ہے۔‘تاہم، سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث جاری ہے کہ اس احتجاج میں کتنے لوگوں نے شرکت کی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سنیچر کے روز ہونے والے احتجاج میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔جماعت کے ایک اور ترجمان ابھیشیک رانکا نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ ’انھوں نے لوگوں کی گنتی نہیں کی لیکن یہ تعداد باآسانی ہزاروں میں ہوگی۔‘سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار شرد گپتا کا کہنا ہے کہ ’سینچر کے روز جس طرح سے لوگ جنتر منتر پر جمع ہوئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں میں نظام کے تئیں عدم اطمینان اور غصہ پایا جاتا ہے۔‘کیا کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے؟انڈیا میں مقبول ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے؟انڈیا کے مسلم رہنماؤں نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کیوں کیا؟8.7 کلومیٹر طویل ٹنل کے ذریعے چناب کا پانی بیاس میں موڑنے کا انڈیا کا اربوں روپے کا منصوبہ کیا ہے اور پاکستان کو اس پر کیوں اعتراض ہے؟شرد گپتا کا خیال ہے کہ موجودہ نظام کی ایک حکمت عملی اب بھی ان کے حق میں ہے۔وہ کہتے ہیں ’بی جے پی نے نوجوانوں کو ہر جگہ جوڑے رکھا ہے۔ وزیرِ اعظم مودی نے خود کئی مواقع پر نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے اور امتحانات کے معاملے پر بات کی ہے۔‘تاہم انھیں نہیں لگتا کہ فی الحال یہ سی جے پی وی پی سنگھ، جے پی یا انا ہزارے جیسی تحریک بن سکے گی۔دوسری جانب سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سمیتا گپتا کا کہنا ہے کہ یہ تحریک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مودی حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہو چکا ہے۔وہ کہتی ہیں ’ملک کی معاشی صورتحال، چاہے آپ اسے مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے جوڑنا چاہیں، لوگ اب اس صورتحال سے تھوڑے تنگ آچکے ہیں۔‘کیا سی جے پی کسی بڑی تحریک کی شکل اختیار کر سکے گی؟Arun SANKAR / AFP via Getty Imagesکاکروچ کی شکل کے ماسک پہنے ہوئے بہت سے لوگوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔اکثر تحریکیں اپنے مطالبات پورے ہونے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں، تو کیا مطالبات کی تکمیل کے بعد بھی اس جماعت کی کوئی نئی شکل سامنے آئے گی؟اس سوال پر سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’دیکھیں، یہ تو ابھی شروعات ہے۔ نوجوانوں کو بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔ جب بھی ان مسائل کو اٹھانے کی کوشش کی گئی تو انھیں مذہب یا ذات پات کی لڑائی میں الجھا دیا گیا۔ ان تمام مسائل میں اس وقت سب سے اہم مسئلہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے۔‘تاہم شرد گپتا کہتے ہیں کہ اگرچہ جنتر منتر کا احتجاج نظام کے خلاف عوامی غصے کی عکاسی کرتا ہے، لیکن ان کے خیال میں اس تحریک کے ایک سنجیدہ سیاسی تحریک میں تبدیل ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے پاس کوئی واضح اور سوچی سمجھی حکمتِ عملی نہیں۔ وہ محض نوجوانوں کے اندر جمع غصے کو ہوا دے رہے ہیں۔ لیکن جب تک اس غصے کو کوئی سمت نہیں ملتی، یہ تحریک اسی طرح بے سمت بھٹکتی رہے گی۔’یہ نوجوانوں کا غصہ اس وقت دھرمیندر پردھان کے خلاف اور ان کی حمایت ابھیجیت دیپکے کے ساتھ ہے، کل یہ کسی اور کے خلاف ہو جائے گا۔‘سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سمیتا گپتا کا بھی ماننا ہے کہ سی جے پی کو ایک بڑی سیاسی تحریک کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہو گا۔وہ کہتی ہیں ’یہ ایک سیاسی تحریک بنے گی یا نہیں... یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ جن مسائل پر اس سے پہلے تحریکیں شروع ہوئی ہیں وہ مجموعی نوعیت کے موضوعات تھے۔ وہ براہِ راست عام لوگوں کے روزگار سے متعلق نہیں ہوتے، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک لوگوں کو براہِ راست جوڑتی ہے۔وہ جے این یو میں کنہیا کمار، عمر خالد اور شہلا رشید سے منسلک تحریک کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں ’یہ ایک بڑی نوعیت کے مسائل، جیسے جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی، پر مبنی تحریک تھی۔ سب جانتے ہیں کہ اس تحریک کے نمایاں چہروں کے ساتھ کیا ہوا۔‘وہ وضاحت کرتی ہیں ’یہ نظریاتی مسائل ملک کے لیے اہم ہوتے ہیں، لیکن وہ براہِ راست عام آدمی کو متاثر نہیں کرتے۔ سی جے پی کا مسئلہ کسی نہ کسی طرح ان نوجوانوں کے والدین تک بھی پہنچے گا۔ جبکہ بڑے خیالات پر مبنی تحریکیں ایک محدود حلقے تک محدود رہتی ہیں۔‘تاہم وہ اپنی گفتگو میں ایک ایسی ہی نظریاتی تحریک کے اثرات کا حوالہ بھی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ’شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ کی تحریک میں بھی بہت زیادہ صلاحیت تھی، لیکن کورونا وبا کے باعث اسے جلد روک دیا گیا۔‘وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ شاہین باغ سے ان کی وابستگی کی وجہ سے اسے صرف مسلمانوں کی تحریک قرار دیا گیا، جو درست نہیں تھا۔تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہلی کی شدید گرمی میں سڑکوں پر نکلنے والے لوگوں کی یہ صورتِ حال کسی حد تک نربھیا کیس کے دوران سڑکوں پر نکلنے والے لوگوں سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں موسم کی پروا نہیں کی گئی تھی۔معروف سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’اس (سی جے پی) کو نظر انداز کرنا یا روایتی سیاست کے پیمانوں پر جانچنا غلطی ہو گی۔‘وہ اسے غیر معمولی توانائی کی ایک جھلک قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں ’کاکروچ جنتا پارٹی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔ یہ نہ اس سے زیادہ ہے اور نہ کم۔ یہ محض عام لوگ ہیں۔ یہ کوئی تحریک نہیں بلکہ ایک لمحہ ہے، اور اسی لیے یہ اہم ہے۔‘لیکن بعض تجزیہ کار سی جے پی کی قیادت کے ناتجربہ کار ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار شرد گپتا کہتے ہیں ’سیاسی تجربے کے بغیر یہ گروہ بڑی تحریک کی شکل اختیار نہیں کر سکے گا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے تینوں ترجمانوں کے پاس کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے۔‘کیا کاکروچ جنتا پارٹی انتخابی سیاست میں حصہ لے گی؟بی بی سی نے ترجمان رانکا سے سوال کیا کہ کیا وہ فی الحال سیاست میں داخل نہیں ہو رہے؟ اس پر انھوں نے کہا ’ہر چیز سیاسی ہے۔ جو ہوا ہم سانس لیتے ہیں، جو پانی ہم پیتے ہیں، جن اسکولوں میں ہم پڑھتے ہیں، سب کچھ سیاسی ہے۔ تو پھر سیاسی اور غیر سیاسی کیا ہے؟‘شرد گپتا کا ماننا ہے کہ جس طرح اروند کیجریوال کو چیلنج کیا گیا اور پھر وہ سیاست میں آئے، ویسا امکان یہاں بھی خارج از امکان نہیں۔ وہ کہتے ہیں ’جب اروند کیجریوال نے اپنی تحریک شروع کی تھی تو کہا جاتا تھا کہ دباؤ بنانا ایک چیز ہے اور سیاست کرنا اور انتخابات لڑنا دوسری بات ہے۔ پھر انھوں نے انتخابات لڑ کر یہ ثابت کیا۔‘شرد گپتا کے مطابق ’ممکن ہے کہ یہ گروہ بھی اسی طرح آگے بڑھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسے اروند کیجریوال سے زیادہ پذیرائی ملے، لیکن فی الحال یہ نوجوان بہت کم تجربہ کار نظر آتے ہیں۔‘سی جے پی خود کو کیسے دیکھتی ہے؟Getty Imagesجنتر منتر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے اسے ’نوجوانوں کے حامی، تعلیم کے حامی، آئین کے حامی اور انڈیا کے حامی ادارہ‘ قرار دیا۔ یعنی ایک ایسا ادارہ جو نوجوانوں، تعلیم، آئین اور انڈیا کو سب سے اہم سمجھتا ہے یا ان کا حامی ہے۔اس موقع پر بی بی سی نیوز ہندی کے نامہ نگار نے رانکا سے سوال کیا ’پہلے آپ سی جے پی کو ایک سماجی مہم کہہ رہے تھے، اب اسے تحریک کہہ رہے ہیں؟‘اس پر انھوں نے کہا ’آپ ہمیں جو نام دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ یہ نوجوانوں کا ایک اجتماع ہے، نوجوانوں کی تحریک ہے۔‘رانکا سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ مستقبل میں کاکروچ جنتا پارٹی کا نام بدلیں گے یا یہ وہی رہے گا؟انھوں نے جواب دیا ’دیکھیے، آپ نام سے اس کا سیاق و سباق نہیں نکال سکتے۔ یہ تیس دن پہلے ایک طنز (کاکروچ) کے طور پر شروع ہوا تھا۔ اس میں عوام اور پارٹی شامل کر دی گئی، آپ اس پر بات کر سکتے ہیں لیکن سیاق نہیں ہٹا سکتے۔‘کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی اور کنوینر ابھیجیت دیپکے نے بی بی سی نیوز مراٹھی کو انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے سی جے پی کیوں شروع کی۔ انھوں نے کہا تھا ’میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے بیان کو ٹوئٹر (اب ایکس) پر دیکھ رہا تھا جہاں وہ نظام پر تنقید کرنے اور رائے دینے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور طفیلی کیڑوں سے کر رہے تھے۔ اس سے مجھے غصہ آیا اور مایوسی ہوئی اور میں نے اس پر اپنی رائے ٹوئٹر پر ظاہر کی۔‘’میں نے سوال اٹھایا کہ اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہو گا؟ اس پر جنرل زیڈ اور 25 برس تک کی عمر کے نوجوانوں کی جانب سے حیرت انگیز ردِعمل ملا، جنھوں نے کہا کہ ہمیں ایک پلیٹ فارم بنا کر اکٹھا ہونا چاہیے۔‘گذشتہ سنیچر کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کو دیکھتے ہوئے، معروف تجزیہ کار یوگیندر یادو، جو کبھی انا تحریک میں سرگرم رہے تھے، نے کہا، ’یہ تحریک نہیں بلکہ ایک لمحہ ہے، اور اسی لیے یہ اہم ہے۔‘انڈیا کو ورلڈ کپ جتوانے والے سوریا کمار یادیو کو ٹیم سے ڈراپ کیوں کیا گیا؟’وزیر تعلیم مستعفی ہو جائیں، ورنہ ملک گیر تحریک چلے گی:‘ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا انڈیا آمد پر مطالبہانڈیا میں کروڑوں افراد ووٹر لسٹ سے باہر، جمہوریت پر اٹھتے سوالاتانڈیا کی وزارت ثقافت کی موئن جو دڑو پر پوسٹ اور سوشل میڈیا بحث: ’اس منطق سے ہمیں تاج محل پر دعویٰ کرنا چاہیے‘’زمین پر قبضے‘ سے متعلق نیپالی وزیر اعظم کا بیان اور سرحدی تنازعے پر انڈیا کی وضاحت