یوکرینی خواتین جنگی قیدیوں کے ریپ اور ہلاکت کی ویڈیوز کا جھانسا دینے والا ٹیلی گرام نیٹ ورک: ’میرا چہرہ ایک برہنہ جسم پر لگا دیا گیا‘


Keti Leshkasheliکیٹی لیشکاشویلی کو معلوم ہوا کہ ان کی تصویر صارفین کو روس نواز چینلز کی جانب راغب کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔انتباہ: اس رپورٹ میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔جب یوکرین کی مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والی کیٹی لیشکاشویلی تقریباً تین سال قبل محاذِ جنگ سے واپس آئیں تو ان کا فون مسلسل بج رہا تھا۔دوست اور رشتہ دار جاننا چاہتے تھے کہ آیا وہ خیریت سے ہیں۔ انھوں نے ٹیلی گرام پر ایسی پوسٹس دیکھی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھیں گرفتار کر کے انکا ریپ کیا گیا ہے۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے معلوم ہوا کہ ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجھے اور چند دوسری لڑکیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس میں ایک لنک تھا جو ایک ٹیلی گرام چینل تک لے جاتا تھا جہاں دکھایا جا رہا تھا کہ ہمیں ’سزا‘ دی جا رہی ہے۔‘انھوں نے تصویر میں خود کو پہچان لیا۔یہ انھی کی تصویر تھی، جو برسوں پہلے فوجی وردی میں یوکرین کے مشرقی شہر آودیئیوکا میں لی گئی تھی، جو اب روسی قبضے میں ہے۔انھوں نے بتایا: ’انھوں نے میرے بارے میں ہر طرح کی ہولناک باتیں لکھیں۔ یہ چیز مجھے غصہ دلاتی ہے اور میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتی۔‘یہ پوسٹ ٹیلی گرام پر گمراہ کن اشتہارات کے ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ تھی۔ان میں یہ من گھڑت دعوے کیے جاتے تھے کہ یوکرینی خواتین کا ریپ کیا گیا ہے، اور مبینہ ویڈیو ثبوت کا وعدہ کر کے صارفین کو روس نواز چینلز کی جانب راغب کیا جاتا تھا۔بی بی سی ورلڈ سروس نے اس مہم میں 20 سے زیادہ خواتین کی تصاویر استعمال ہوتے ہوئے دیکھیں، جن میں سے بہت سی یوکرینی فوج میں خدمات انجام دے رہی ہیں یا ماضی میں انجام دے چکی ہیں۔طریقۂ کار کیا تھا؟Keti Leshkasheliکیٹی لیشکاشویلی، جو یوکرین کی انٹرنیشنل لیجن میں فوجی ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں، کو 2025 میں صدر زیلنسکی نے ’فار کریج‘ کے اعزاز سے نوازا تھا۔فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے، ٹیلی گرام کے گروپس اور چینلز میں ہزاروں پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ یوکرینی خاتون جنگی قیدیوں کے ساتھ ریپ اور ان کی ہلاکت کی ویڈیوز دکھائیں گے۔ٹیلی گرام ایک میسجنگ ایپ ہے جہاں صارفین مواد شیئر کرنے اور اس پر گفتگو کے لیے بڑے چینلز یا گروپس میں شامل ہوتے ہیں۔یہاں پر موجود پوسٹس میں اکثر ایسے اشتہارات شامل ہوتے ہیں جو دوسرے چینلز، نجی گروپس یا بیرونی ویب سائٹس کے لنکس پر مشتمل ہوتے ہیں۔ناظرین جمع کرنے کے لیے یہ ایک موزوں پلیٹ فارم ہے کیونکہ روس میں یہ سب سے زیادہ مقبول میسجر پلیٹ فارم ہے۔اسی طرح، ملک گیر سروے کے مطابق 2025 میں یوکرینیوں کے لیے بھی یہ خبروں کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ان ٹیلی گرام پوسٹس میں دہرائے جانے والے جملوں اور جعلی ناموں کو اینالیٹکس ٹولز کے ذریعے تلاش کرتے ہوئے، بی بی سی ورلڈ سروس نے جنسی حملوں سے متعلق 6,500 سے زیادہ اشتہارات دریافت کیے۔یہ اشتہارات تقریباً 1700 چھوٹے چینلز نے پوسٹ کیے تھے، جن کے موضوعات ’18+‘ مواد سے لے کر جنگ نواز مواد، مالیات اور میمز تک تھے۔مجموعی طور پر ان پوسٹس کو چھ کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔زیادہ تر پوسٹس ایک ہی انداز کی تھیں: ان میں حقیقی خواتین کی حقیقی تصاویر استعمال کی جاتی تھیں، جھوٹا دعویٰ کیا جاتا تھا کہ انھیں گرفتار کر کے ان کا ریپ کیا گیا ہے، اور پھر ویڈیو ثبوت کا وعدہ کرنے والا ایک لنک شامل کیا جاتا تھا۔یہ جان بوجھ کر اختیار کی گئی چونکا دینے والی حکمتِ عملی تھی، جس کا مقصد ہولناک مناظر کی امید دلا کر ناظرین کو متوجہ کرنا تھا۔پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا تھا کہ ان خواتین نے روسی فوجیوں پر تشدد کیا یا ’روسی بچوں کو زندہ جلانے کا مطالبہ کیا۔‘ان دعوؤں کے ساتھ نسلی اور صنفی توہین آمیز الفاظ بھی شامل کیے جاتے تھے۔تاہم جب صارف ان پوسٹس پر کلک کرتے تو وہ مواد موجود نہیں ہوتا تھا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔اس کے بجائے یہ لنکس جنگی مواد سے بھرے نجی ٹیلی گرام چینلز تک لے جاتے تھے۔یہ پوسٹس ٹیلی گرام سے باہر بھی پھیل گئیں۔ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر ویڈیوز، اور روسی سوشل نیٹ ورک وی کونٹاکتے پر پوسٹس، اسی مواد کا وعدہ کرتے ہوئے انھی نجی ٹیلی گرام چینلز کی تشہیر کرتی ہیں۔صنفی بنیادوں پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات پر تحقیق کرنے والی محقق ویلنٹینا شاپووالووا کا کہنا ہے کہ یہ مہم ’تفریح کے طور پر جنسی تشدد کے وعدے کو فروخت‘ کرتی ہے تاکہ صارفین کی توجہ ’حاصل کی جا سکے اور اسے مالی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔‘ان کے مطابق، چاہے یہ پوسٹس براہِ راست ریاست کی تیار کردہ نہ ہوں، تب بھی یہ کریملن کے جنگی مقاصد کے کام آتی ہیں کیونکہ یہ یوکرینیوں کی تذلیل کرتی ہیں اور ’دشمن کے خلاف جنسی تشدد کو معمول کا عمل‘ بنا دیتی ہیں۔یوکرینی فوجی خواتین: ’کچن میں کام بھی کر سکتی ہوں اور تمھیں مار بھی سکتی ہوں‘ہزاروں کی تعداد میں حاملہ روسی خواتین ارجنٹینا کا رخ کیوں کر رہی ہیں؟ جنگی محاذ پر لڑتی پانچ یوکرینی خواتین کی کہانیاںروسی ماں: ’میرا بچہ اپنی مرضی سے یوکرین نہیں گیا‘نام بدلنا، حذف کرنا اور اشتہارات فروخت کرنانمونوں کی نشاندہی اور پوسٹس کے باہمی روابط کا جائزہ لے کر بی بی سی نے اُن چینلز کے ایک نیٹ ورک کا سراغ لگایا جو اس مہم سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔چھ چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔بی بی سی نے ان میں سے تین بڑے چینلز کا تجزیہ کیا۔یہ تینوں فروری 2022 میں روس کے مکمل پیمانے کے حملے کے آغاز پر 72 گھنٹوں کے اندر بنائے گئے تھے۔بی بی سی کی جانب سے تجزیہ کی گئی ایک ہزار سے زیادہ پوسٹس میں جس چینل کا لنک موجود تھا، ’پریاموئے ایفیر نووستی‘ کے اب تقریباً 40 لاکھ سبسکرائبرز ہیں، جو کئی نمایاں کریملن نواز مبصرین اور متعدد سرکاری میڈیا اداروں سے زیادہ ہیں۔یہ خود کو ایک نیوز چینل کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن ابتدا میں اس کا نام ’MVD 18+‘ تھا، جو بالغ مواد کی جانب اشارہ ہے۔اس کی سرگرمیوں کی تاریخ میسر نہیں ہے۔اب یہ کسی بھی دوسرے کریملن نواز ٹیلی گرام نیوز ایگریگیٹر جیسا دکھائی دیتا ہے۔یہ روزانہ درجنوں پوسٹس شائع کرتا ہے، روسی ریاستی میڈیا کو بطور ذریعہ استعمال کرتا ہے، اور روس کے بڑے نجی بینکوں میں سے ایک الفا بینک کے اشتہارات فروخت کرتا ہے، جس پر برطانیہ، یورپی یونین اور امریکہ کی پابندیاں عائد ہیں۔بینک نے بی بی سی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔تینوں چینلز روسی سرکاری میڈیا سے مواد لیتے ہیں اور کریملن کی اداراتی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ فوجی پیش قدمیوں کو ’آزادی دلانے‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں، یورپی یونین اور برطانیہ کو جارح قرار دیتے ہیں، اور یوکرینی ہلاکتوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ان میں سے دو باقاعدگی سے یوکرینیوں کے لیے نسلی توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں۔یہ جاننے کے لیے کہ یہ چینلز جنگ نواز مواد سے کتنا منافع حاصل کر رہے ہیں، بی بی سی نے ممکنہ مشتہر بن کر ان سے رابطہ کیا۔پریاموئے ایفیر نووستی نے بتایا کہ وہ ایک اشتہار کے لیے کم از کم 500,000 روبل (5,000 پونڈ) وصول کرتے ہیں۔دیگر دو چینلز، جن میں توہین آمیز اور پُرتشدد مواد موجود ہے، نے کہا کہ وہ تقریباً 40,000 روبل (400 پونڈ) فی اشتہار وصول کرتے ہیں۔پریاموئے ایفیر نے بی بی سی کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ایک پیغام میں اس چینل نے بی بی سی کو ’اشتعال انگیز اور پروپیگنڈا کرنے والا‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ معلومات ’حقیقت کے مطابق نہیں‘ ہیں۔بی بی سی کی شناخت کردہ 6,500 سے زیادہ کلک بیٹ پوسٹس میں سے تقریباً 5,400 بعد میں حذف کر دی گئی ہیں۔تاہم نئی پوسٹس مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔کچھ پوسٹس میں خودکار نظام کے آثار پائے جاتے ہیں: ایک ہی متن، حتیٰ کہ ایک جیسی املا کی غلطیوں کے ساتھ، مختلف اکاؤنٹس سے ایک ہی وقت میں شائع کیا جاتا ہے۔یولیا مالا نے کہا: ’میں نے ان اکاؤنٹس کی شکایت کی، انھیں بلاک کیا، لیکن ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘’اس جعلی مواد کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔‘Lesia Palahniukمغربی یوکرینی شہر چرنیوتسی کی علاقائی کونسل کی رکن لیسیا پالاہنیوک نے روسی ٹیلی گرام چینلز پر وائرل پوسٹس میں خود کو پہچانا۔ یہ تصویر 2022 میں لی گئی تھی، جب وہ یوکرینی فوجیوں کی مدد کے لیے امداد پہنچانے کی غرض سے کراماتورسک گئی تھیں۔تشدد سے متعلق پوسٹس میں استعمال ہونے والی تصاویر کے بارے میں خواتین کی جانب سے دی گئی باضابطہ شکایات زیادہ تر بے سود ثابت ہوئی ہیں۔کیٹی کا کہنا ہے کہ انھوں نے بارہا ٹیلی گرام میں شکایات درج کرائیں۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ’کچھ بھی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔‘’میں چاہتی ہوں کہ لوگ جانیں کہ اس قسم کا دھوکا موجود ہے اور اس کا شکار نہ ہوں۔‘اولیکساندرا، جو روسی شہری ہیں اور یوکرین کے لیے لڑنے کے لیے رضاکارانہ طور پر شامل ہوئی تھیں، نے کہا کہ انھوں نے 2022، 2023 اور 2024 میں اپنی تصاویر استعمال کرنے والی پوسٹس اتنے زیادہ چینلز پر دیکھیں کہ بالآخر ان کا حساب رکھنا چھوڑ دیا۔انھوں نے کہا: ’میں نے دیکھا کہ انھوں نے میری تصاویر استعمال کیں اور فوٹو شاپ کے ذریعے میرے چہرے کو ایک برہنہ جسم پر لگا دیا۔۔۔ یہ اتنا زیادہ ہو رہا تھا کہ ایک وقت کے بعد میں نے ردِعمل دینا ہی چھوڑ دیا۔‘ٹیلی گرام نے بی بی سی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔فروری 2026 سے روس کے میڈیا ریگولیٹر نے ملک میں ٹیلی گرام پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور اس پر روسی قوانین کی پابندی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔تاہم اس اقدام سے ایپ کے استعمال میں کوئی خاص کمی نہیں آئی، کیونکہ روسی صارفین وی پی این کے ذریعے پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔لیسیا پالاہنیوک، جن کی تصویر فحش زبان والی پوسٹس میں استعمال کی گئی، کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تشہیر خواتین کو ایسے شرمندگی کے بوجھ تلے دبا دیتی ہے جس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔انھوں نے کہا: ’ایک خاتون کے لیے ایسی تصاویر دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘’خواتین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں، ان کے لیے حمایت موجود ہے۔ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید تازہ ترین خبریں

یوکرینی خواتین جنگی قیدیوں کے ریپ اور ہلاکت کی ویڈیوز کا جھانسا دینے والا ٹیلی گرام نیٹ ورک: ’میرا چہرہ ایک برہنہ جسم پر لگا دیا گیا‘

پاسدارانِ انقلاب کی امریکی حملے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق: ایران، امریکہ کشیدگی میں اضافے کے باوجود پاکستان تنازع کے حل کے لیے پرامید

ایران پر امریکی حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک: ہرمزگان میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا، ایرانی حکام کا دعویٰ

نیپال-تبت سرحد پر سیلاب کی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد وہاں ہوا کیا تھا؟

انسپکٹر جمشید کے کردار پر بننے والی فلم کے ٹریلر کی دھوم کیوں؟

ایران پر تازہ امریکی حملے میں پانچ افراد ہلاک، 68 زخمی: ہرمزگان میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا، ایرانی حکام کا دعویٰ

مصباح کا استعفیٰ اور ٹیم میں ’ہول سیل تبدیلیاں‘: پی سی بی نے سات کھلاڑیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیوں لیا؟

امریکہ کے ایران پر تازہ حملوں میں چار ہلاکتوں کی تصدیق، پاسدارانِ انقلاب کا اُردن میں امریکی اڈے پر حملہ

امریکہ کا پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ٹرمپ کی ایران کو جوابی کارروائی سے باز رہنے کی تنبیہ

امریکہ کا پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، چاہ بہار، بندر عباس اور قشم میں دھماکوں کی اطلاعات

وہ واٹس ایپ گروپ جس کے ذریعے انتہا پسندی اور منظم جرائم کی مالی معاونت کی گئی

پنجاب میں انسداد دہشتگردی بل منظور: ’سپیشل سکیورٹی کیسز‘ میں گریڈ 20 کے افسر کا کردار زیرِ بحث

میر رضا کیس: تحقیقاتی کمیشن کے سامنے دوستوں کے کردار، پولیس کی کارروائی اور پوسٹ مارٹم پر سوالات

لارک، قشم اور خارگ: وہ ایرانی جزائر جنھیں نشانہ بنانا تہران کی ’شہ رگ‘ پر وار سمجھا جاتا ہے

پاکستان کے لیے اہم سفارتی اعزاز، ایس سی او کی صدارت مل گئی

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی