سیاست دانوں سے قربت، پرائیوٹ جہازوں کا استعمال اور طاقت: فیفا کے صدر کی زندگی کیسی ہے؟


جیانی انفانٹینو جب کالی پہنچے تو طیارے سے اترتے ہی رن وے پر ان کا استقبال کولمبیا فٹ بال فیڈریشن کے صدر نے کیا۔انفانٹینو کے قریبی حلیف سمجھےجانے والے رامون جیسورون نے اسے اپنی حمایت کے اظہار کا ایک موقع سمجھا۔ اس موقع پر دونوں رہنما مسکراتے ہوئے ایک تصویری سیشن میں شریک ہوئے، جس کی تصویر بعد میں فیڈریشن کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شائع کی گئی۔جیانی انفانٹینو جمعے کے روز کسی معمول کی ملاقات کے لیے کولمبیا نہیں آئے تھے۔ وہ ملک کے نئے صدر ابلاردو دے لا ایسپرییا کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے والے تھے۔انفانٹینو کے ہمراہ الیخاندرو دومینگیز بھی تھے، جو جنوبی امریکہ کی فٹ بال کی حکومتی تنظیم کونمبول کے صدر ہیں۔ دومینگیز نے انفانٹینو کی کارکردگی اور 2026 ورلڈ کپ کو ’غیر معمولی طور پر کامیاب‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی اور کہا: ’ہم جیانی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘فیفا کے صدر کی زندگی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ دنیا کے چند طاقتور ترین افراد کے ساتھ تعلقات استوار کرنا بھی ان کی حکمتِ عملی ہوتی ہے، جس کی ایک مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انفانٹینو کے تعلقات ہیں۔ان کے دورِ صدارت کو درپیش سب سے بڑے تنازع، یعنی فیفا فارورڈ انٹرپرائز منصوبے کو ترک کیے جانے سے پہلے، انفانٹینو ایک نہایت بااختیار شخصیت سمجھے جاتے تھے اور بظاہر تنقید یا دباؤ سے بے اثر نظر آتے تھے۔تاہم مردوں کے ورلڈ کپ میں نجی ایکویٹی کمپنیوں کو حصہ فروخت کرنے کے اپنے منصوبے پر تنقید کے بعد معذرت اور ردِعمل کا سامنا کرنے کے عزم کے اظہار کے بعد اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انفانٹینو معمول کے امور کی طرف واپس لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن یہ کام اب شاید آسان نہ ہو۔یورپی فٹ بال کی تنظیم یو ای ایف اے کی جانب سے فیفا ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ کی دھمکی اب بھی برقرار ہے۔ اس کا پہلا امتحان 29 دن بعد پولینڈ میں شروع ہونے والے فیفا انڈر-20 ورلڈ کپ کے موقع پر ہو سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں یورپ سے باہر ملنے والی حمایت سے حوصلہ پا کر ایسا لگتا ہے کہ جیانی انفانٹینو آسانی سے پسپا ہونے والے نہیں ہیں۔لیکن آخر فیفا کے صدر کا کردار کیا ہوتا ہے؟بین الاقوامی دورےGetty Imagesجیانی انفانٹینو نے فیفا فارورڈ انٹرپرائز کی تجویز پر معذرت کی ہےاس ہفتے کے آغاز میں مراکش کے دارالحکومت رباط میں واقع فیفا ہیڈکوارٹر کے باہر سیاہ شیشوں والی مرسڈیز گاڑیوں کا ایک قافلہ پولیس کی گاڑیوں کی حفاظت میں داخل ہوا۔جیانی انفانٹینو نے فیفا مینجمنٹ بورڈ کے چند منتخب ارکان کو اپنے اس منصوبے پر غور و خوض کے لیے طلب کیا تھا، جس کے تحت وہ فیفا کے تجارتی اور ٹکٹنگ کاروبار کا 21 فیصد حصہ ایک نجی ایکویٹی فرم کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔اسی انداز میں یہ سوئس-اطالوی عہدیدار سفر کرتے ہیں اور ان کے دوروں کے درمیان قطر ایئرویز ایگزیکٹو کے اس خصوصی طیارے کا استعمال بھی شامل ہوتا ہے، جو ان کے لیے دستیاب کرایا گیا ہے۔اسی طیارے کی بدولت وہ 2026 ورلڈ کپ کے دوران ایک دن میں تین تک پروازیں کر سکتے تھے اور دو میچوں کا مشاہدہ بھی کر سکتے تھے۔ بعض اوقات انفانٹینو کسی کھیلوں کی تنظیم کے سربراہ کے بجائے ایک ملک کے صدر جیسی دکھائی دیتے ہیں۔اس سے انہیں دنیا بھر کا سفر کرنے کا موقع ملتا ہے، جہاں وہ فیفا کے سرکاری دفاتر، مثلاً رباط، کا دورہ کرتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے وہیں ان کا قیام تھا، جب فیفا فارورڈ انٹرپرائز سے متعلق تنازع شدت اختیار کر رہا تھا۔اپنے منصب کے تحت انفانٹینو سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فیفا کے 211 رکن ممالک کا دورہ کریں اور ان نچلی سطح کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیں، جن کے لیے فیفا نے مالی معاونت فراہم کی ہے۔ان کی ذمہ داریوں کا ایک اہم حصہ عالمی فٹ بال کو متحد رکھنا بھی ہے اور یہ کام زیورخ میں واقع فیفا ہیڈکوارٹر کے اندر بیٹھ کر انجام نہیں دیا جا سکتا۔اس منصب کے تقاضوں میں بین الاقوامی سفر بھی شامل ہے، تاکہ مختلف کنفیڈریشنز کے اجلاسوں اور فیفا کے زیرِ اہتمام عالمی ٹورنامنٹس میں شرکت کی جا سکے۔ انفانٹینو کے لیے فٹ بال حکام اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا بھی ضروری ہے۔اپریل میں وینکوور میں منعقد ہونے والی فیفا کانگریس سے قبل مقامی حکام نے ان کے لیے درجہ چہارم موٹر کیڈ کی درخواست مسترد کر دی تھی، کیونکہ اس نوعیت کی سکیورٹی سہولت عموماً صرف سربراہانِ مملکت یا پوپ کے لیے مختص ہوتی ہے۔فٹبال ورلڈ کپ فائنل: یمال کے عروج اور میسی کے ممکنہ الوداع کی کہانیمیسی اور یمال کی پہلی ملاقات: گود میں کھیلنے سے ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے تک کی کہانیکیا پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے بڑی آبادی والے ممالک میں کرکٹ کی مقبولیت فٹبال کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟24 میچ دیکھنے کے لیے 50 ہزار کلومیٹر کا سفر: فیفا کے صدر اور اُن کے زیر استعمال نجی طیارہ تنقید کی زد میں کیوں؟نیوزی لینڈ پولیس نے بھی کہا تھا کہ انہوں نے 2023 ویمنز ورلڈ کپ کے دوران اسی نوعیت کی ایک درخواست مسترد کر دی تھی۔گاڑیوں کے قافلوں اور نجی چارٹر پروازوں جیسی سہولتوں کے علاوہ انفانٹینو کو ایک بڑی تنخواہ بھی ملتی ہے، جو 2016 میں پہلی بار منتخب ہونے کے وقت ملنے والی آمدنی سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔انفانٹینو، جنہیں 10 برس قبل تقریباً 13 لاکھ پاؤنڈ سالانہ معاوضہ ملتا تھا، اب تقریباً 40 لاکھ پاؤنڈ حاصل کرتے ہیں۔ اس میں 22 لاکھ پاؤنڈ بنیادی تنخواہ اور 18 لاکھ پاؤنڈ کی بونس ادائیگی شامل ہے۔ان کے پیش رو سیپ بلاٹر کو فیفا کے صدر کے طور پر اپنے آخری سال میں مجموعی طور پر 26 لاکھ پاؤنڈ معاوضہ ملا تھا۔انفانٹینو کو اپنی تنخواہ کے علاوہ یومیہ الاؤنس بھی ملتا ہے، جو سفری اخراجات اور رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے اور اس کی مالیت سالانہ تقریباً 20,500 پاؤنڈ ہے۔دنیا کے سب سے مقبول کھیل کے سربراہ کے طور پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ان کا معاوضہ بھی اسی حیثیت کے مطابق ہو۔انفانٹینو کا مؤقف ہو گا کہ فیفا کی آمدنی میں ریکارڈاضافے اور رکن فیڈریشنوں کے لیے فنڈنگ بڑھانے کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اس تنخواہ کے مستحق ہیں۔انفانٹینو اور ٹرمپ کے درمیان قربتڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انفانٹینو کی قربت بظاہر ان کے اثر و رسوخ میں مزید اضافے کا باعث بنی ہے۔عالمی فٹ بال کے حلقوں میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے نتیجے میں وہ اپنی فٹ بال سے متعلق ذمہ داریوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔مئی 2025 میں انفانٹینو ٹرمپ کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک سفارتی دورے پر تھے اور اسی وجہ سے وہ پیراگوئے میں ہونے والی فیفا کانگریس میں تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے پہنچے تھے۔یو ای ایف اے نے انفانٹینو پر ’نجی سیاسی مفادات کو ترجیح دینے‘ کا الزام عائد کیا تھا اور احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔اسی دوران فیفا پیس پرائز بھی توجہ کا مرکز بنا، جو ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا گیا تھا۔ یہ اعزاز اس وقت دیا گیا جب چند ہی ہفتوں بعد امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کے مقصد سے کارروائی کی اور ایران پر فضائی حملے کیے۔تنقید کے باوجود فیفا کی اخلاقی کمیٹی نے اس انعام کے حوالے سے انفانٹینو کی سیاسی غیر جانبداری پر اٹھائے گئے اعتراضات اور شکایات پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔سال کے آغاز میں انفانٹینو نے غیر متوقع طور پر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی، جو غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا کہنا تھا کہ سیاسی غیر جانبداری سے متعلق اس کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی۔تاہم، بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ انفانٹینو خود کو امریکی صدر کے بہت زیادہ قریب لے گئے ہیں۔یہ تاثر اس وقت مزید مضبوط ہوا جب امریکہ کے فارورڈ فولارین بالوگن ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈ ملنے کے باوجود پابندی سے بچ گئے۔فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی کا یہ فیصلہ غیر معمولی نوعیت کا تھا، خاص طور پر اس کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ذاتی طور پر جیانی انفانٹینو کو فون کر کے ریڈ کارڈ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کی تھی۔انفانٹینو نے اصرار کیا کہ یہ فیصلہ ایک آزاد ادارے نے کیا تھا اور اس پر کسی شخص کا اثر و رسوخ نہیں ہو سکتا تھا۔ورلڈ کپ کے آخری ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ اور انفانٹینو نیویارک میں واقع ٹرمپ ٹاور میں ایک ساتھ نظر آئے۔ اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے فیفا کے صدر کو فون کیا تھا، جنہوں نے ’ایک اور بہترین فیصلہ‘ کیا۔پھر شاید ٹرمپ کے ساتھ انفانٹینو کی قریبی وابستگی کا نقطۂ عروج فیفا فارورڈ انٹرپرائز کا منصوبہ تھا۔اس منصوبے کے تحت مجوزہ نجی سرمایہ کار ایک ایسی کمپنی تھی، جس کے تعلقات ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی سے جوڑے جاتے تھے۔میڈیا کے سوالات کے جوابات دینے میں ہچکچاہٹGetty Imagesجیانی انفانٹینو نے گذشتہ چار برسوں کے دوران صرف دو پریس کانفرنسیں کی ہیںانفانٹینو کے آزادانہ فیصلوں اور طرزِ عمل پر سوالات کم ہی اٹھتے ہیں کیونکہ وہ میڈیا سے شاذ و نادر ہی گفتگو کرتے ہیں۔گذشتہ چار برسوں کے دوران انہوں نے صرف دو پریس کانفرنسیں کی ہیں اور دونوں ایک ایک گھنٹے پر مشتمل تھیں جو ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل منعقد کی گئیں۔اس کے علاوہ انفانٹینو عموماً فیفا کی جانب سے تیار کردہ انٹرویوز میں ہی نظر آتے ہیں، جو ادارے کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔2026 ورلڈ کپ سے قبل انفانٹینو نے ٹکٹوں کی بلند قیمتوں اور شائقین کے ویزوں سے متعلق ممکنہ سوالات کا پیشگی جواب دینے کی کوشش کی۔لیکن ورلڈ کپ سے قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں صومالی ریفری عمر آرتان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انفانٹینو کا یہ کہنا کہ ’بس آپ سب جانتے ہیں، پرسکون رہیں، آرام کریں‘ تشویش کا باعث بنا۔ عمر آرتان کو میامی ہوائی اڈے پر امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔فیفا کے اپنے میڈیا کے ذریعے بیانات جاری کر کے انفانٹینو بیانیے کی تشکیل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔بدھ کو جاری کیے گئے فیفا کے بیان میں کسی حد تک ندامت اور افسوس کا اظہار کیا گیا تھا، لیکن اس میں ایک سخت ردعمل بھی شامل تھا۔اس بیان نے انفانٹینو کو اپنے ناقدین کو جواب دینے کا موقع دیا اور انہوں نے کہا کہ فیفا ’اپنی دیانت داری، اچھی حکمرانی اور قانونی طریقۂ کار پر ہونے والے کسی بھی حملے کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔‘ناقدین کے اعتراضاتاس عہدے کی کشش کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1961 میں اسٹینلی روس کے منتخب ہونے کے بعد فیفا کے صرف چار مستقل صدور رہے ہیں۔یورپ سے باہر انفانٹینو کے دور میں حاصل ہونے والی ریکارڈ آمدنی نے کئی ممالک کے فٹ بال پروگراموں اور سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے ہیں۔ اس سے ان کے لیے حمایت اور وفاداری پیدا ہوئی ہے، جو رائے شماری میں بھی ان کے حق میں جاتی ہے۔تاہم یو ای ایف اے اور چند دیگر قومی فٹ بال ایسوسی ایشنز کے نزدیک ان کے خلاف اعتراضات اور تنازعات کی فہرست اب بہت طویل ہو چکی ہے۔ان کے ناقدین، جن میں سے بہت سے یورپی فٹ بال حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ فیفا کو مزید کسی شخصی یا آمرانہ طرز کے منصوبے کے طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔ورلڈ کپ کو وسعت دینا انفانٹینو کے انتخابی منشور کا حصہ تھا اور اگر وہ چوتھی مدت کے لیے منتخب ہو جاتے ہیں تو 2030 کے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 64 کیے جانے کا امکان بہت زیادہ ہے۔اس کے علاوہ گرمیوں میں منعقد ہونے والے توسیع شدہ کلب ورلڈ کپ کا انعقاد بھی ان کے اقدامات میں شامل تھا۔ اس ٹورنامنٹ کی ٹرافی پر ایک ذاتی خراجِ تحسین بھی کندہ ہے: ’فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے متاثر ہو کر۔‘Getty Imagesفیفا کے صدر امریکی صدر کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیںمردوں کے آئندہ دو ورلڈ کپ کی میزبانی کی غیر معمولی تقسیم نے بھی اس امر کو یقینی بنانے میں مدد کی کہ سعودی عرب، جو انفانٹینو کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے، 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کر لے۔اس موسمِ گرما میں ہونے والے ورلڈ کپ کی قرعہ اندازی ایک طویل، پرتکلف اور غیر معمولی تقریب تھی۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ مرکزِ نگاہ تھے اور جیانی انفانٹینو بھی نمایاں طور پر ان کے ساتھ موجود تھے۔بہت سے شائقین کا خیال تھا کہ ٹکٹوں کی قیمتیں حد سے زیادہ زیادہ تھیں، جبکہ بعض ایسے افراد بھی تھے جو ٹکٹ خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے لیکن انہیں ویزا نہیں مل سکا۔فیفا نے ٹکٹوں کی فروخت کے لیے ایک ثانوی مارکیٹ پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں قیمتوں پر کوئی حد مقرر نہیں تھی اور فروخت ہونے والے ہر ٹکٹ پر 30 فیصد حصہ وصول کیا جاتا تھا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ منافع اب شائقین کے تجربے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے، یہاں تک کہ نیویارک اور نیو جرسی کے اٹارنی جنرلز نے فیفا کو اس کے ٹکٹ فروخت کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لیے طلبی کے نوٹس جاری کیے۔ان تمام تنازعات کے باوجود یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جیانی انفانٹینو دوبارہ منتخب ہو جائیں گے کیونکہ دنیا بھر کی بہت سی رکن فٹ بال ایسوسی ایشنز میں انہیں مضبوط حمایت حاصل تھی۔درحقیقت ورلڈ کپ سے پہلے ہی 111 رکن ایسوسی ایشنز ان کی حمایت کا اعلان کر چکی تھیں، جو انہیں دوبارہ منتخب کرانے کے لیے کافی تعداد تھی۔اب یہ منظرنامہ فیفا کے ناکام نجی سرمایہ کاری منصوبے کے اثرات کے بعد غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔یو ای ایف اے اس موقع کو انفانٹینو کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔تاہم جیسا کہ کولمبیا کے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں ان کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے، ایسا کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید تازہ ترین خبریں

’اگر آپ کی ناک بھی بہہ رہی ہو تب بھی آپ کو کوئی جج نہیں کرتا تھا‘: کیا مائی سپیس واپس آ رہا ہے؟

سیاست دانوں سے قربت، پرائیوٹ جہازوں کا استعمال اور طاقت: فیفا کے صدر کی زندگی پر ایک نظر

سیاست دانوں سے قربت، پرائیوٹ جہازوں کا استعمال اور طاقت: فیفا کے صدر کی زندگی کیسی ہے؟

مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں خطے کا کوئی بھی ملک شامل ہو سکتا ہے: پاکستان

وہ چار سادہ اصول جو جاپانی شہروں کو رہائش کے لیے دنیا کے بہترین مقامات بناتے ہیں

فریال تالپور کا میر رضا علی قتل کیس کا نوٹس، وزیراعلیٰ کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی سفارش

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ کے سات حلقوں میں پولنگ ملتوی، مقامی ووٹرز کیا چاہتے ہیں؟

’مجھے چھ سال کی عمر میں ماہواری شروع ہوئی اور ڈاکٹر نہیں جانتے تھے کہ ایسا کیوں ہوا؟‘

پیار کرنے والوں اور دھوکے بازوں کے لیے یکساں پرکشش اجتماعی شادی: ’ایک دلہن نے تو اپنے بھائی کو دولہا ظاہر کردیا‘

خضدار: حکومت کی جانب سے اسما جتک کے والد سمیت دیگر افراد کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم

پاکستان سپر لیگ: نجم سیٹھی کی تشویش، منافع غیر یقینی، پھر بھی اربوں روپوں کی سرمایہ کاری کیوں؟

عمان کے ساتھ ’مثبت مذاکرات‘ کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی امریکہ کے سامنے چھ شرائط

امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو’تباہ‘ کر دیا ہے: امریکی نائب صدر کا دعویٰ

میر عامر رضا قتل کیس: آئی جی سندھ نے نئی 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی

’میر رضا علی کو پیٹھ سے گولی لگی‘: کراچی کے نوجوان تاجر کی نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی