’تاریخ کا بدلہ‘: اجیت ڈوول کا متنازع بیان جسے انڈیا کے بعد پاکستان میں بھی تنقید کا سامنا ہے


ANIانڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے حالیہ بیان پر پاکستان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی زبان ذمہ دارانہ ریاستی طرزِ عمل کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔بدھ کے روز وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس حوالے سے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے قومی سلامتی کے مشیر کے ریمارکس پر مبنی رپورٹس دیکھی ہیں اور اس طرح کی بیان بازی ان عناصر کی جانب سے حیران کن نہیں جو اپنی نفرت انگیز سوچ کو تاریخ کے فرضی بدلے کا لبادہ پہنا کر پیش کرتے ہیں۔‘واضح رہے کہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے ایک تقریب میں کہا کہ ’تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے۔ ہر نوجوان کے اندر وہ آگ ہونی چاہیے۔ ’بدلہ‘ لفظ اچھا لفظ نہیں لیکن بدلہ خود ایک طاقت ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔‘اجیت ڈوول کے ایک حالیہ پروگرام میں یہ کہنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی کہ ’تاریخ کا بدلہ لینا ہوگا۔‘ انڈیا میں اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے ان کے بیان کی مذمت کی تاہم بی جے پی سمیت کچھ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ڈوول کے بیان کو ’افسوسناک‘ قرار دیا۔https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2011371521491784150محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈوول جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز افسر، جس کا فرض ملک کو اندرونی اور بیرونی مذموم عزائم سے بچانا ہے، نے نفرت کے فرقہ وارانہ نظریے میں ملوث ہو کر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا لیا۔‘این ڈی اے کی سابق اتحادی محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’21ویں صدی میں صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کا مطالبہ محض ایک دھوکہ ہے جو غریب اور ناخواندہ نوجوانوں کو اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے اکساتا ہے، جسے پہلے ہی ہر طرف سے حملوں کا سامنا ہے۔‘ANIمحبوبہ مفتی نے ڈوول کے بیان کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا’مندر لٹ گئے، ہم خاموش تماشائی بنے رہے‘اجیت ڈوول نے سنیچر کے روز ’ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ - 2026‘ میں موجود نوجوان سامعین سے کہا کہ ’آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ ایک ایسے انڈیا میں پیدا ہوئے جو آزاد ہے۔ انڈیا ہمیشہ اتنا آزاد نہیں تھا جیسا کہ آپ کو نظر آتا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اس کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، بہت ذلتیں برداشت کی ہیں، بھگت سنگھ کے دور سے بہت سے لوگ بے سہارا ہوئے ہیں۔ سبھاش چندر بوس کو ساری زندگی جدوجہد کرنی پڑی، مہاتما گاندھی کو ستیہ گرہ کرنا پڑا اور بے شمار لوگوں کو اپنی جانیں قربان کرنی پڑیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے گاؤں جلا دیے گئے، ہماری تہذیب کو تباہ کر دیا گیا، ہمارے مندروں کو لوٹ لیا گیا، ہم خاموش تماشائیوں کی طرح بے بسی سے دیکھتے رہے، یہ تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے۔ لفظ بدلہ اچھا نہیں ہے، لیکن انتقام بذات خود ایک بڑی طاقت ہے۔‘ ’ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔ ہمیں اس ملک کو ایک ایسی جگہ پر واپس لانا ہے جہاں ہم اپنے حقوق، اپنے نظریات اور اپنے عقائد کی بنیاد پر ایک عظیم انڈیا بنا سکتے ہیں۔‘ جاسوسی کی دنیا میں سابق انڈین آئی بی چیفس اجیت ڈوول اور ایم کے ناراینن کا نام عزت سے کیوں لیا جاتا ہے؟محمد علی جناح کو ’انڈیا‘ کے نام پر کیا اعتراض تھا اور انھوں نے اسے ’گمراہ کُن‘ کیوں قرار دیا؟3 جون 1947: کیا انڈیا اور پاکستان کی آزادی کی تاریخ کا اچانک فیصلہ کیا گیا؟بھارت کا نام کیسے پڑا، ’آگ‘ اور ’دریا‘ کی کہانیڈوول نے کہا کہ ’ہماری بہت ترقی یافتہ تہذیب تھی، ہم نے کسی کے مندروں کو نہیں تباہ کیا، ہم نے کہیں بھی لوٹ مار نہیں کی، ہم نے باہر کے لوگوں پر حملہ نہیں کیا، جب کہ پوری دنیا بہت پسماندہ تھی، لیکن ہم اپنی سلامتی کو نہیں سمجھ سکے، تاریخ نے ہمیں سبق سکھایا۔‘این ایس اے ڈوول نے کہا ’ہمارے گاؤں جلا دیے گئے ہیں، ہماری توہین کی گئی۔‘موجودہ حکومت کے بارے میں ڈوول نے کہا ’آج ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ملک کو ایسی قیادت حاصل ہے۔ ایک ایسا لیڈر ہے جو 10 سالوں میں ملک کو کہاں سے کہاں لے گیا ہے۔‘ANI ڈوول کے بیان پر بحث اور تنقیدکانگریس کی قومی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’قومی سلامتی کے مشیر، جن کا فرض قوم کی حفاظت کرنا ہے، نوجوانوں کو تاریخ کا بدلہ لینے کے لیے اکسا رہے ہیں۔ اجیت ڈوول کو پہلے ملک کو جواب دینا چاہیے: پلوامہ اور پہلگام حملوں کے پیچھے دہشت گرد کہاں ہیں؟ دہلی میں دھماکے کس نے کروائے؟ آپ انٹیلی جنس، پہلگام اور دیگر کئی حملوں میں ناکامی کے ذمہ دار ہیں، آپ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔‘ سینئر صحافی اور مصنف تولین سنگھ نے لکھا کہ ’ہمارے قومی سلامتی کے مشیر کی تقریر نے مجھے الجھن میں ڈال دیا۔ انھوں نے ہماری تہذیب کو تباہ کرنے والوں سے بدلہ لینے کی بات کی۔ تو ہم سب سے پہلے کس پر حملہ کریں، افغانستان، ازبکستان یا ترکی؟‘دی ہندو کی سفارتی امور کی ایڈیٹر سوہاسینی حیدر نے لکھا ’کیا قومی سلامتی کے مشیر یہ تجویز کر رہے ہیں کہ انڈیا بدلہ لے گا؟ برطانیہ یا ازبکستان سے؟‘ دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج کے پروفیسر اور کانگریس لیڈر ڈاکٹر رتن لال نے ایکس پر ڈوول کے بیان کے حوالے سے لکھا کہ ’اگر یہ خبر سچ ہے تو ڈوول کو پہلے اپنے بیٹے کو آگے بھیجنا چاہیے۔‘تاہم بہت سے لوگوں نے اجیت ڈوول کی حمایت کی ہے۔دفاعی تجزیہ کار نتن گوکھلے نے ایکس پر لکھا کہ ’ٹویٹس، شارٹس یا ریلوں کی بنیاد پر رائے قائم نہ کریں۔ پوری تقریر کو سنیں اور پھر اپنی رائے بنائیں۔ بصورت دیگر، غلط فہمی کا خطرہ ہے، جیسا کہ بہت سے تجربہ کار صحافیوں اور تبصرہ نگاروں کے ساتھ ہوا ہے۔‘’ان کے مطابق، قیادت عہدے یا طاقت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ صحیح وقت پر درست فیصلے لینے اور پورے اعتماد کے ساتھ ان پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔‘پروفیسر شریش کاشیکر نے لکھا کہ ’ہمارے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی یہ تقریر بہت متاثر کن ہے۔ انھوں نے قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار کی واضح طور پر تعریف کی ہے۔ انھوں نے آج کے انڈین نوجوانوں کے لیے کچھ اہم تجاویز شیئر کی ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی کو ملک کے لیے مفید بنا سکیں۔‘آندھرا پردیش کے وزیر ستیہ کمار یادو نے ایکس پر لکھا کہ ’ترقی یافتہ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ میں، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا کہ جنگیں خونریزی کے لیے نہیں بلکہ کسی ملک کی مرضی کو توڑنے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔‘متحدہ ہندوستان کی وہ آخری رات جو گاندھی نے مستقبل کے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ گزاریکیا انڈیا 1200 سال تک غلام رہا؟محمد علی جناح کو ’انڈیا‘ کے نام پر کیا اعتراض تھا اور انھوں نے اسے ’گمراہ کُن‘ کیوں قرار دیا؟3 جون 1947: کیا انڈیا اور پاکستان کی آزادی کی تاریخ کا اچانک فیصلہ کیا گیا؟بھارت کا نام کیسے پڑا، ’آگ‘ اور ’دریا‘ کی کہانیانڈین فوج اور حکومت کے باہمی تنازعات اور 65 کی جنگ کی ’سب سے بڑی غلطی‘

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید سائنس اور ٹیکنالوجی

گوہر جان: کروڑ پتی طوائف جنھیں خود سے آدھی عمر کے نوجوان سے محبت میں دھوکہ ملا اور دولت بھی گئی

پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد کی ’پرسنل بیگیج‘ سکیم کا خاتمہ: کیا اب چھوٹی جاپانی گاڑیاں آنا بند ہو جائیں گی؟

سلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان جو قتل ہونے کے خوف سے اپنی جیب میں ہمیشہ پستول رکھتے تھے

شعبان 1447 ہجری کا چاند 19 جنوری کو پیدا ہونے کی توقع

انقلاب ایران اور دو ہنگامہ خیز ہفتوں کی کہانی: آیت اللہ خمینی کے امریکہ سے خفیہ روابط اور ’وعدوں‘ کی روداد

سردیوں میں مچھلی اور مرغی کا گوشت ایک ساتھ کھانے سے کیا ہوتا ہے؟ جاننے کے بعد آپ بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے

’کیا تم مر چکے ہو؟‘ وہ ایپ جو اکیلے رہنے والے افراد کی جان بھی بچا سکتی ہے

نوجوانوں میں گردے کی پتھری کے کیسز میں اضافہ، ماہرین نے وجوہات بتا دیں

ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت کا ہدف: حکومت پاکستان اور ٹرمپ خاندان سے منسلک کرپٹو کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

رحیم یار خان میں پانچ سالہ بچے کے سینے سے ’بغیر سر والا بچہ‘ نکالنے کی انوکھی سرجری

’تاریخ کا بدلہ‘: اجیت ڈوول کا متنازع بیان جسے انڈیا کے بعد پاکستان میں بھی تنقید کا سامنا ہے

پی ایس ایل وی راکٹ کی مسلسل دوسری ناکامی جسے انڈین خلائی ادارے کے لیے ایک ’بڑا دھچکا‘ قرار دیا جا رہا ہے

’شکسگام وادی ہماری ہے‘: پاکستان اور چین کا 62 سال پرانا سرحدی معاہدہ انڈیا میں موضوعِ بحث کیوں؟

’سب سے سستا فلیٹ ایک ارب روپے کا‘: لگژری گاڑیوں کی کمپنی جو دبئی میں فلک بوس عمارت بنا رہی ہے

’آپریشن بوٹ‘: جب امریکہ اور برطانیہ نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیا

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی