
اُس زمانے کے ہندوستان میں اخلاقیات کا درس دینے والے روایتی دیو داسیوں، طوائفوں اور رقاصاؤں کے بارے میں سوالات اُٹھا رہے تھے۔ مختلف رضا کار اور سماجی تنطیمیں، ان کے خلاف کارروائی کی نمائندگی کر رہی تھیں اور اس وقت کی برطانوی حکومت بھی ان کے خلاف درخواستوں پر کارروائی کر رہی تھی۔ ایسے میں کلکتہ کی مشہور طوائف گوہر جان ملک میں چوٹی کی گلوکارہ بن کر اُبھر رہی تھیں اور ملک میں بدلتے ہوئے ماحول کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔ اس وقت کروڑ پتی سمجھی جانے والی گوہر جان نے کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی کو الماری سے نکال کر گرامو فون ریکارڈز کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔ایک موقع پر گاندھی جی نے بھی عطیات جمع کرنے کے لیے گوہر جان کے رقص کا پروگرام منعقد کیا۔ لیکن جب گاندھی جی نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو اُنھیں بھی گوہر جان کی شخصیت کے نئے رُخ کا پتا چلا۔گوہر جان اور اُن کا خاندانگوہر جان کی پیدائش اعظم گڑھ (موجودہ اتر پردیش) میں ہوئی تھی۔ اُن کا نام ابتدا میں ایڈلین وکٹوریہ ہیمنگز رکھا گیا۔گوہر جان کے والد، ولیم یوارڈ، آرمینیائی نژاد تھے اور کلکتہ میں ایک کمپنی میں کام کرتے تھے، جبکہ ان کی والدہ، ایلن وکٹوریہ ہیمنگ، ایک پیشہ ور گلوکارہ تھیں۔ 1879 میں دونوں کی طلاق ہو گئی تھی۔سنہ 1881 میں یہ خاندان بنارس منتقل ہو گیا اور والدہ نے وہاں اسلام قبول کر کے اپنا نیا نام ’ملکہ جان‘ جبکہ ایلین کا نیا نام ’گوہر جان‘ رکھا گیا۔ گوہر جان کلکتہ آئیں اور کلاسیکی موسیقی اور رقص کی تربیت لی۔ وارانسی میں بھی اُن کا نام گونجنے لگا۔ گوہر جان کو اُس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ 13 سال کی تھیں۔ اس کے بعد وہ اس صدمے سے باہر آئیں اور موسیقی کی دُنیا میں اپنا نام بنایا۔آروڑا کرسینو ڈوس سینٹوس: ایک طوائف کی غیر معمولی داستان جو نفسیاتی علاج کے دوران آرٹسٹ بن گئیںگنگو بائی: جنھیں عاشق نے دھوکہ دے کر کوٹھے پر بیچ دیاریکھا بائی: ’میری ماں ایک طوائف تھیں اور انھیں اس پر کوئی شرمندگی نہ تھی‘مغل بادشاہ اکبر جن کے آخری ایام اپنے ہی باغی بیٹے سے لڑتے ہوئے گزرے گوہر جان شاعرہ بھی تھیں اور اُن کی شاعری اور غزلوں کا مجموعہ بھی شائع ہوا تھا۔ گوہر جان انگریزی، برطانوی اور شاہی خاندانوں کی تقریبات میں پرفارم کرنے لگیں جبکہ ایک موقع پر اُنھوں نے برطانوی بادشاہ جارج پنجم کے سامنے بھی پرفارم کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب آسٹریا میں ماچس کی ڈبیا پر بھی گوہر جان کی تصویریں چھپتی تھیں۔گوہر جان نے اپنے کاروبار اور ریکارڈنگز سے بہت سے پیسہ کمایا، وہ کروڑ پتی بن گئیں۔وہ ملکہ کہ طرح کپڑے اور زیورات پہنتی تھیں۔گوہر جان نے بجپن میں اپنی ماں کے ساتھ بے بسی اور غربت دیکھی تھی، اس لیے اُنھوں نے اپنی کمائی کے ذریعے سرمایہ کاری کی۔ اُن کی کلکتہ میں کئی کوٹھیاں تھیں۔گاندھی جی بھی گوہر جان سے متاثر تھےBBCمرنل پانڈے نے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 1920 میں بنارس کے آس پاس کی باصلاحیت خواتین گاندھی کے نظریات سے متاثر تھیں۔ گاندھی کا خیال تھا کہ یہ خواتین بھی ہندوستان کی ثقافت کا حصہ ہیں۔ اسی لیے وہ سوراج تحریک کے عوامی جلسوں میں انھیں مدعو کرتے تھے۔1920 میں، جب گاندھی جی سوراج فنڈ کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے، تو انھوں نے گوہرجان کو بھی بلایا اور ان سے اپیل کی کہ وہ تحریک میں حصہ ڈالیں۔گوہر جان خوش ہونے کے ساتھ ساتھ چونک بھی گئیں۔ اُنھوں نے دُنیا دیکھ رکھی تھی اور جانتی تھیں کہ معاشرہ پیشہ ور گلوکاروں کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ گوہر جان اپنے پروگرام کی پوری کمائی اس تحریک کو عطیہ کرنے کے لیے تیار ہو گئیں، ساتھ ہی اُنھوں نے یہ وعدہ بھی لیا کہ گاندھی خود بھی اس پروگرام کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ گاندھی نے اُن سے وعدہ کر لیا تھا۔ پروگرام والے روز گوہر جان نے گاندھی کا انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے کیونکہ اُن کی ایک اور سیاسی مصروفیت آڑے آ گئی۔گوہر جان نے بھرے ہال میں پرفارم کیا اور 24 ہزار روپے جمع کیے، جو اس دور میں ایک بہت بڑی رقم تھی۔اگلے روز گاندھی نے مولانا شوکت علی کو گوہر جان کے گھر جمع ہونے والی رقم لینے کے لیے بھیجا۔ گوہر جان اُنھیں صرف 12 ہزار روپے دینے پر آمادہ ہوئیں۔اُنھوں نے غصے سے کہا کہ باپو جی عزت و احترام کی بات کرتے ہیں لیکن اُنھوں نے وعدہ خلافی کی، لہذا اُن کا آدھی رقم پر حق ہے۔لیکن سنہ 1921 میں اُنھوں نے دوسرے گلوکاروں کے ساتھ مل کر گاندھی کی سول نافرمانی کی تحریک کی حمایت کی۔جنوبی ایشیا کی پہلی گراموفون سنگرتاریخ دان وویک سُمت نے ’مائی نیم از گوہر جان‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، جسے ’گوہر‘ نامی ڈرامے میں ڈھالا گیا اور اس کی ہدایت کاری اداکارہ للت دوبے نے کی تھی۔اس ڈرامے میں اداکارہ راجیشوری سچدیو نے گوہر جان کا کردار ادا کیا، جب کہ استاد ولایت علی خان کی بیٹی زیلا خان نے بڑی عمر کی گوہر جان کا کردار ادا کیا۔راجیشوری سچدیو کہتی ہیں ’اس وقت تجربہ کار فنکاروں نے گراموفون کے لیے گانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ چانس نہیں لینا چاہتے تھے، ان کا خیال تھا کہ تین منٹ میں ہندوستانی موسیقی گانا مشکل ہے۔ اس وقت گوہر جان نے ٹھمری یا خیال موسیقی گانے کی ہمت کی۔‘للت دوبے کہتی ہیں کہ وہ صرف طوائف نہیں تھیں، اس وقت کی باصلاحیت اور ذہین نوجوان خاتون طوائف بن گئی تھی۔ وہ ایک پڑھی لکھی اور مہذب خاتون تھیں۔للت دوبے کہتی ہیں کہ جب نواب اُنھیں کسی تقریب کے لیے مدعو کرتے تو گوہر جان پوری شان و شوکت کے ساتھ سفر کرتیں اور ایک پوری ٹرین اُن کے لیے بک کی جاتی۔للت کے بقول گوہر جان ہر ریکارڈنگ میں نئی جیولری اور نئے کپڑے زیب تن کرتی تھیں۔محقق فاطمہ جنید کے مطابق اپنے کریئر کے دوران گوہر جان نے 600 کے لگ بھگ گانے ریکارڈ کیے۔ اس وقت وہ ہر ریکارڈ کے لیے تین ہزار روپے وصول کرتی تھیں۔ اُنھوں نے ہندی، انگریزی، پشتو، عربی، فرانسیسی اور تامل سمیت تقریباً 20 زبانوں میں ٹھمری اور بھجن گائے۔گوہرجان پہلی جنوبی ایشیائی فنکارہ تھیں جنھوں نے گراموفون کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ ان کے گانے آج بھی دستیاب ہیں اور یوٹیوب پر سنے جا سکتے ہیں۔گوہر جان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنھیں محبت میں بار بار دھوکہ ہوا۔ جوانی میں اُنھیں اپنے سے نصف عمر کے ایک پٹھان نوجوان سے محبت ہو گئی اور اُنھوں نے اس سے شادی کر لی، لیکن ازدواجی زندگی کی خوشی شاید اُن کے مقدر میں نہیں تھی۔اس رشتے کے دوران اس شخص نے گوہر جان کی تمام جائیداد اپنے نام رجسٹر کروا لی۔ یہ معاملہ عدالت میں بھی گیا، لیکن گوہر جان کی باقی ماندہ کمائی اور جائیداد بھِی اس قانونی لڑائی میں خرچ ہو گئی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام گوہر جان کے مزاج میں بہت تلخی آ گئی تھی۔ وہ تنہا ہو کر رہ گئی تھیں اور ان کی مقبولیت بھی کم ہو گئی۔ وہ جنوبی انڈیا میں وفات پا گئیں۔گلوکارہ جیلا خان کہتی ہیں کہ ’تنہائی اور گمنامی کا خوف جس نے گوہر جان کو اپنی زندگی کے آخری ایام میں ستایا وہ کچھ ایسا ہے جس کا تجربہ آج بھی ہر فنکار کو ہوتا ہے۔استنبول کی ’طوائف گلی‘ کی تھیوڈورا سلطنت روم کی ملکہ کیسے بنی؟والیِ خیرپور جن کے لیے ہیرا منڈی کی گائیکہ کا عشق جوگ سے روگ بن گیاگنگو بائی: جنھیں عاشق نے دھوکہ دے کر کوٹھے پر بیچ دیاسیکس ورکر جس نے بحری قزاقوں کی سربراہ بن کر کئی سلطنتوں کی نیندیں اڑائیںگیتانجلی البم: پروین شاکر کا شعری کارنامہ جس کے چھپنے سے پہلے وہ زندگی کی بازی ہار گئیں