
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی پریمیئر لیگ کے میچز نہ کھیلنے کی دھمکی پر ایک ڈائریکٹر نظم السلام کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
بنگلا دیش کے کھلاڑیوں نے دھمکی دی تھی کہ آج بنگلا دیش پریمیئر لیگ کے میچز سے پہلے اگر نظم الاسلام کو عہدے سے نہیں ہٹایا گیا تو وہ میچز میں حصہ نہیں لیں گے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے میچ سے پہلے ہی ڈائریکٹر نظم الاسلام کو ہٹا کر ان کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
کھلاڑیوں کا اس وقت سخت رد عمل سامنے آیا جب نظم الاسلام نے ایک قابل اعتراض بیان دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر بنگلا دیش آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں حصہ نہیں لیتا بورڈ کو کوئی خالی نقصان نہیں ہوگا بس پلیئر کو ان کی میچ فیس نہیں ملے گی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ایک ٹورنامنٹ میں پلیئرز کو میچ فیس نہیں ملی تو آسمان نہیں گرے گا اس لیے کیونکہ جب یہ برا کھیلتے ہیں تو بورڈ ان سے کوئی پیسے واپس نہیں مانگتا۔
اس بیان کے بعد بنگلا دیش کے سارے کھلاڑیوں کی طرف سے شدید رد عمل آیا اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو بیک فٹ پر ہونا پڑا۔
یاد رہے کہ اس وقت آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان بھارت میں میچز کھیلنے پر تنازعہ جاری ہے اور اس کا اب تک کوئی حل نہیں نکل پایا ہے۔
نظم الاسلام نے اس سے پہلے بھی قابل اعتراض بیان دیا ہے اور پچھلے ہفتے ہی انہوں نے بنگلا دیش کے سابق کپتان تمیم اقبال کو ایک انڈین ایجنٹ قرار دیا تھا جس پر دیگر کھلاڑیوں نے احتجاج کیا تھا۔
دوسری جانب بی سی بی کے مطابق بورڈ ممبر کے حالیہ قابل اعتراض بیانات کی مذمت کو دہراتے ہیں، اس حوالے سے شوکاز نوٹس جاری کر کے 48 گھنٹوں کے اندر جواب طلب کرلیا گیا ہے۔
بی سی بی کا کہنا ہے کہ معاملےکی تہہ تک پہنچنے کے لیے کارروائی کا تمام عمل مکمل کیا جائے گا، معاملے کو ضابطے کے مطابق نمٹایا جائے گا اور کارروائی کے نتائج کی بنیاد پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
بی سی بی نے کہا کہ بورڈ کو امید ہے کہ کرکٹرز پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کریں گے اور بی پی ایل کی کامیاب تکمیل کے لیے کھلاڑی تعاون کریں گے۔
بی سی بی کے مطابق بنگلا دیش پریمیئر لیگ فائنل مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور یہ لیگ بنگلا دیش کرکٹ اور ملکی اور غیر ملکی فینز کے لیے ایک خاص حصہ رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ بنگلا دیش کے کرکٹرز نے بورڈ ڈائریکٹر نظم الاسلام کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔