
بنگلا دیش میں کرکٹ کا بحران جمعرات کے دن حل نہیں ہو پایا باوجود اسکے کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے پلیئرز کے دباؤ میں آکر اپنے ڈائریکٹر ناظم الاسلام کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کردی۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے نظم الاسلام کو اپنے فائنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا اور ان کو بورڈ ڈائریکٹر ہونے کی حیثیت سے شوکاز نوٹس ایشو کردیا کہ وہ 2 دن میں جواب دیں کہ ان کے خلاف ایکشن کیوں نہ لیا جائے۔ مگر اس کے باوجود کھلاڑیوں نے آج بنگلا دیش پریمیئر لیگ کے دونوں میچز اور ڈھاکا لیگ کے چار میچز کا بائیکاٹ کیا۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امیر اسلام نے کھلاڑیوں سے بات چیت کرکے کوشش کی کہ معاملہ حل ہوجائے اور میچز ہوجائیں لیکن کھلاڑی گراؤنڈ پر ہی نہیں آئے جس کی وجہ سے آج بنگلا دیش میں کوئی کرکٹ نہیں ہوئی۔
کھلاڑیوں کا احتجاج نظم الاسلام کے اس بیان پر ہے جو انہوں نے منگل کے دن ایک انٹرویو میں دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر بنگلا دیش کی ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ نہیں بھی لیتی تو بورڈ کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوگا مگر کھلاڑیوں کو میچ فیس بھی نہیں ملے گی اور نہ ان کو کوئی مالی طور پہ تلافی کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلا دیش کی ٹیم جب برا کھیلتی ہے تو کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں سے پیسے تھوڑی واپس مانگتا ہے۔ اس بیان پر بنگلا دیش کے پلیئرز ویلفیئر نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جب تک کہ نظم الاسلام استعفیٰ نہ دے دیں۔
بنگلادیش پریمیئر لیگ کے آج کھیلے جانے والے میچ میں کھلاڑیوں نے بائیکاٹ کردیا۔
میرپور ڈھاکا میں بائیکاٹ کی وجہ سے چٹوگرام رائیلز اور ناؤخلی ایکسپریس کا میچ شروع نہیں ہوسکا، دونوں ٹیمیں ٹاس کے لیے میچ کے وینیو پر نہیں پہنچیں۔
خیال رہے کہ بورڈ ڈائریکٹر بنگلادیش نظم السلام کے بیان پر کرکٹرز نے کرکٹ سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، کھلاڑیوں نے تمام فارمیٹ کے کرکٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہوئے نظم السلام کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔