اسرائیل کا غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل شخصیات پر اعتراض، صدر ٹرمپ کی ترکی اور مصر کے صدور کو بورڈ کا حصہ بننے کی دعوت


Getty Imagesاسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ارکان کے ناموں پر اس سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور یہ اس کی غزہ پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔ وائٹ ہاؤس نے جمعے کو صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر اہم شخصیات اس کی رُکن ہوں گی۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی وزیر خارجہ کو اس معاملے پر امریکی وزیر خارجہ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ترکی، مصر، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا اور کینیڈا کے رہنماؤں کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ مصر اور ترکی کے صدور کے دفاتر نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اس دعوت نامے کی تصدیق کی ہے۔تاحال یہ واضح نہیں کہ مزید کون سے نام اس ’بورڈ آف پیس میں‘ شامل کیے جا سکتے ہیں اور اس کی ساخت کو بھی بعض ماہرین ایک پیچیدہ عمل قرار دے رہے ہیں۔ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا ’بانی ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی ہے جس کا کام سرمایہ کاری اور سفارت کاری ہو گا۔ جبکہ دوسرا ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ ہے، جو ایک اور مجوزہ انتظامی گروپ نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے ساتھ مل کر زمینی کام کی نگرانی کا ذمے دار ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کا ہر رُکن ایک قلمدان کا ذمہ دار ہوگا جو کہ 'غزہ میں استحکام کے لیے انتہائی اہم' ہے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ بورڈ کے کس رُکن کو کیا ذمہ داری سونپی جائے گی۔اس بورڈ میں کون کون شامل ہے؟سر ٹونی بلیئرسابق برطانوی وزیرِ اعظم کا نام صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے ممکنہ رُکن کے طور پر طویل عرصے سے گردش کر رہا ہے اور گذشتہ برس امریکی صدر نے خود تصدیق کی تھی کہ ٹونی بلیئر نے اس بورڈ میں شامل ہونے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔لیبر پارٹی کے سابق رہنما سنہ 1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیرِ اعظم رہے ہیں اور ان ہی کی قیادت میں برطانیہ سنہ 2003 میں عراق جنگ میں شامل ہوا تھا۔ اسی سبب شاید کچھ لوگ ان کی صدر ٹرمپ کے بورڈ میں شمولیت کو متنازع سمجھتے ہوں۔Getty Imagesسر ٹونی بلیئر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپوزیر اعظم کے دفتر سے نکلنے کے بعد سنہ 2007 سے 2015 تک انھوں نے اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس کے لیے ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ کے طور پر کام کیا۔سر ٹونی بلیئر ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل وہ واحد فرد ہیں جو امریکی شہری نہیں ہیں۔اس سے قبل وہ ٹرمپ کے غزہ منصوبوں کو ’دو سالہ جنگ، دکھ اور تکلیف کے خاتمے کا بہترین موقع‘ قرار دے چکے ہیں۔مارکو روبیوبطور امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی حصہ ہیں۔ٹرمپ کے صدر بننے سے قبل وہ غزہ میں جنگ بندی کی مخالفت کرتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل ’حماس کے تمام عناصر کو تباہ کر دے۔‘تاہم بعد میں انھوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کی تعریف کی اور اسے 'بہترین' اور 'واحد' حل قرار دیا۔گذشتہ برس مارکو روبیو اسرائیلی پارلیمنٹ کے مقبوضہ غربِ اردن کے الحاق سے متعلق اقدام پر تنقید بھی کر چکے ہیں۔سٹیو وٹکوفرئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک شخصیت، صدر ٹرمپ کے گالف پارٹنر اور امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہوں گے۔رواں مہینے وٹکوف نے صدر ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کے دوسرے مرحلے کا بھی اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں غزہ کی از سرِ نو تعمیر، اسے اسلحے سے مکمل پاک کرنا اور حماس کو غیرمسلح کرنا بھی شامل ہوگا۔Getty Imagesآخری اسرائیلی یرغمالی اور ترکی کی ضد: غزہ میں ’انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس‘ کی تعیناتی میں کیا رکاوٹ ہے؟’ہم اُنھیں اپنا اصل چہرہ دکھائیں گے‘: غزہ میں حماس مخالف مسلح گروہ کے نئے رہنما کی دھمکی کیا معنی رکھتی ہے؟غزہ میں حماس مخالف مسلح گروہ: کیا اسرائیل اپنے ’دشمن کے دشمن‘ کی مدد کر رہا ہے؟153 فلسطینیوں کو جوہانسبرگ پہنچانے والی ’پراسرار فلائٹ‘ جس پر جنوبی افریقہ کے صدر بھی حیران ہیںجیرڈ کشنرامریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وہ سٹیو وٹکوف کے ساتھ اکثر روس اور یوکرین اور اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ ختم کروانے کے لیے بطور ثالث کام کرتے رہے ہیں۔گذشتہ برس نومبر میں انھوں نے امن معاہدے پر گفتگو کرنے کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات بھی کی تھی۔ہارورڈ یونیوسٹی میں ایک تقریر کے دوران سنہ 2024 میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر لوگ اپنا روزگار بڑھانے پر توجہ دیں تو غزہ کے ساحل پر موجود پراپرٹی بہت قیمتی ہو سکتی ہے۔‘مارک روونارب پتی کاروباری شخصیت مارک روون اپالو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او ہیں، جو کہ نیو یارک میں واقع ایک بہت بڑی نجی ایکوئٹی کمپنی ہے۔Getty Imagesمارک روونصدر ٹرمپ کے دوسری بار صدر بنتے وقت مارک روون کا نام سکریٹری خزانہ کے عہدے کے لیے بھی گردش کر رہا تھا۔اجے بانگاورلڈ بینک کے سربراہ اجے بانگا اپنے طویل کیریئر میں سابق صدر اوبامہ سمیت متعدد سیاستدانوں کی معاونت کر چکے ہیں۔بانگا سنہ 1959 میں انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور سنہ 2007 میں امریکی شہری بنے۔ انھوں نے بعد میں ایک دہائی تک ماسٹر کارڈ کے بطور سی ای او بھی کام کیا۔سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے سنہ 2023 میں انھیں ورلڈ بینک کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔رابرٹ گیبریلرابرٹ گیبریل امریکی قومی سلامتی کی ٹیم کے رکن بھی ہیں اور وہ ’ایگزیکٹو بورڈ‘ کے آخری رُکن ہیں۔گیبریل سنہ 2016 سے ٹرمپ کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور پی بی ایس کے مطابق وہ اس کے بعد ٹرمپ کے مشیر سٹیفن ملر کے خصوصی معاون کے طور پر کام کر رہے ہیں۔نکولے ملادینوفوائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بلغارین سیاستدان نکولے ملادینوف غزہ میں بورڈ کے نمائندہ ہوں گے۔Getty Imagesنکولے ملادینوفوہ ایک علیحدہ 15 رُکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کی نگرانی کریں گے، جسے نیشنل کمیٹی فور ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے۔این سی اے جی کی قیادت فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شاتھ کریں گے۔بورڈ کو کن چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے؟یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ یہ بورڈ کتنی جلدی غزہ میں تبدیلی لا سکتا ہے، جو فلسطینیوں کی روزمرہ کی زندگی میں حقیقی فرق ڈالے۔ خاص طور پر دیرپا امن اور اس سے جڑے ٹھوس اقدامات کا سلسلہ کب شروع ہو سکتا ہے۔ان دونوں مقاصد کے لیے بڑے چیلنجز باقی ہیں۔اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ غزہ میں تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور جنگ سے بچ جانے والے خاندان اب سردیوں کے موسم اور خوراک اور رہائش کی کمی سے نبرد آزما ہیں۔اگرچہ امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ کچھ بہتری آئی ہے، لیکن وہ اسرائیل پر اپنے کام پر مسلسل پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد فراہم کر رہا ہے، اور اس نے اقوامِ متحدہ پر غزہ میں پہلے سے موجود سامان کی تقسیم میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ کوئی بھی پابندی حماس کی دراندازی اور امدادی سرگرمیوں کا استحصال روکنے کے لیے بنائی گئی ہے۔تعمیرِ نو کی طرف بامعنی پیش رفت دکھانا بھی ایک مشکل کام ہو گا، جس میں نہ صرف اندازاً 60 ملین ٹن ملبے کو ہٹانا شامل ہے، بلکہ سب سے پہلے اس میں موجود لاشوں اور نہ پھٹے ہوئے بموں کو تلاش کرنا اور ان کو ٹھکانے لگانا شامل ہے۔ BBCحماس کو غیر مسلح کرنے کا چیلنج اور اسرائیل کے تحفظاتبعض ماہرین کے مطابق اس بورڈ کے لیے شاید سب سے بڑا چیلنج جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہی ہو گا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے میجر جنرل جیسپر جیفرز کو غزہ میں انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کا کمانڈر بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کی حمایت اس فورس کے پاس غزہ کو اسلحے سے پاک کرنے کا بڑا چیلنج بھی ہو گا۔ ابھی تک، اس بارے میں کوئی واضح روڈ میپ نہیں ہے کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کس طرح قائل کیا جائے گا، اور نہ ہی اس بارے میں کوئی واضح اندازہ ہے کہ کون سا ملک اس فورس کے لیے فوج فراہم کرے گا یا اس کی ترسیل اور اس کی شمولیت کے اصول کیا ہوں گے۔حماس نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے وسیع معاہدے کے حصے کے طور پر ہی خود کو غیر مسلح کرے گی۔اسرائیل، جس کی زمینی فوج اب بھی غزہ کی پٹی کے نصف سے زیادہ حصے پر قابض ہے، نے کہا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں پیچھے ہٹے گا جب حماس غیر مسلح ہو جائے۔ان سارے مسائل کا حل کیسے نکالا جا سکتا ہے، شاید یہ ہی اس پیس بورڈ کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ ’مکمل تباہی اور ملبے کا ڈھیر‘: جنگ کے دو سال بعد بی بی سی نے غزہ میں کیا دیکھا؟اسرائیل سے موصول ہونے والی فلسطینیوں کی 95 مسخ شدہ نامعلوم لاشوں کا معمہ: ’بعض کو جلایا گیا، کچھ کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا‘’اگر دونوں دستی بم پھٹ جاتے تو میں آج زندہ نہ ہوتا‘: دوست کی جان بچانے والے بپن جوشی جو خود حماس کی قید میں ہلاک ہو گئےصدر ٹرمپ کو ’پاکیزگی اور ابدیت‘ کی علامت سمجھا جانے والا تمغہِ نیل کیوں دیا گیا؟ذاتی تعلق، پس پردہ دباؤ اور دھمکی: ٹرمپ نے نتن یاہو کو غزہ امن معاہدے پر کیسے مجبور کیا؟

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید عالمی خبریں

اسرائیل کا غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل شخصیات پر اعتراض، صدر ٹرمپ کی ترکی اور مصر کے صدور کو بورڈ کا حصہ بننے کی دعوت

امریکہ سے تعلقات بگڑنے کا خوف اور مسلم دُنیا میں ساکھ کا مسئلہ: ایران کے معاملے پر اسلامی ممالک تقسیم کیوں ہیں؟

سور ذبح کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل جس کے بعد ہزاروں لوگ خاتون کے گاؤں پہنچ گئے

ایران پر حملہ خود روکا، کسی نے دباؤ نہیں ڈالا، صدر ٹرمپ

سرگودھا: دھند کے باعث ٹریفک حادثہ، 14 افراد جاں بحق، 9 زخمی

’جادوئی محلول‘ بنانے کی کہانی: وہ سیکریٹری جنھوں نے اپنی غلطیوں کے سبب لاکھوں ڈالر کمائے

’طاقت کے بل پر‘ چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ

’قیمتی خزانہ‘ سونپنے کے لیے ’صحیح شخص‘ کی تلاش: 20 روپے میں خریدی گئی ڈائری جو پاکستانی شاعر برطانوی خاتون کو لوٹانا چاہتے ہیں

ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں کون کون شامل ہے؟

کینیڈا کی تاریخ کی سب سے بڑی سونے کی ڈکیتی: ایک اہم گرفتاری کے بعد پولیس کو انڈین پنجاب میں مقیم ملزم کی تلاش

سلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان جو قتل ہونے کے خوف سے اپنی جیب میں ہمیشہ پستول رکھتے تھے

سسرال میں داماد کی پہلی بار آمد پر تاریخی ضیافت، ہر کوئی حیران

انسانیت سوز واقعہ، نومولود کو بیگ میں بند کر کے سڑک پر پھینک دیا گیا

بھارتی عدالت نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا

’پتا نہیں میرے بچوں اور ان کی والدہ کا مستقبل کیا ہو گا‘: امریکہ کی امیگریشن ویزوں پر پابندی سے پاکستانی خاندان ذہنی کرب کا شکار

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی