سڑک سے سکیورٹی رکاوٹ ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10، 10 سال قید اور جرمانے کی سزا


Getty Imagesوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سڑک سے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت درج ایک مقدمے میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سُنا دی ہے۔جمعرات (29 اکتوبر) کو اس کیس میں محفوظ مختصر فیصلہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سناتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو تین مختلف دفعات کے تحت یہ سزا سنائی گئی ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔اس کیس کی آخری سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہی ہوتی رہی ہیں جہاں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ گذشتہ کئی ماہ سے قید ہیں۔ایمان مزاری اور اُن کے شوہر پر الزام تھا کہ انھوں نے 25 اکتوبر 2024 کو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹا کر کارِ سرکار میں مداخلت کی اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ ایمان اور ہادی اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔گذشتہ منگل (27 اکتوبر) کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔ اپنے بیان میں ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ وہ بطور احتجاج اس مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہیں۔واضح رہے کہ اس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فرم جرم اڈیالہ جیل میں ان کی حراست کے دوران ہی عائد کی گئی تھی۔دونوں ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کہا تھا کہ اگر وہ (ملزمان) حتمی دلائل دینا چاہیں تو انھیں ایسا کرنے کی اجازت ہو گی۔یاد رہے کہ جنوری 2026 میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو متنازع ٹویٹس کیس میں الگ الگ دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 برس قیدِ بامشقت کی سزا سُنائی تھی۔ اگست 2026 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے اُن کی یہ سزا معطل کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم اس کیس میں رہائی کے فوراً بعد ان دونوں کو اڈیالہ جیل ہی سے اس کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا جس میں انھیں اب 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔کن الزامات کے تحت کتنی سزا دی گئی؟Getty Imagesسول سوسائٹی اور حقوق انسانی کی تنظیمیں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی رہائی کا مطالبہ کرتی رہی ہےایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو تین مختلف الزامات کے تحت قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں افراد کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 186 (کارِ سرکار میں مداخلت) کے تحت جرم ثابت ہونے پر ایک سال قیدِ اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ فیصلے کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انھیں مزید ایک ماہ قیدِ بھگتنا ہو گی۔اسی طرح پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 353 (سرکاری ملازم کو فرائص کی انجام دہی سے روکنا اور اس پر حملہ کرنا) کے تحت بھی مجرم قرار دیتے ہوئے دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انھیں مزید تین ماہ قید کاٹنا ہو گی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت بھی قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال قیدِ سخت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انھیں مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہو گی۔عدالت نے حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو دی گئی تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی (یعنی اگرچہ مجموعی سزا 13 سال کی ہے مگر اس پر بیک وقت عملدرآمد ہو گا چنانچہ سب سے طویل سزا، یعنی 10 سال، ہی زیادہ سے زیادہ سزا ہو گی)۔اس کے علاوہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی کا فائدہ بھی دیا گیا، جس کے تحت زیرِ حراست پہلے سے گزارا گیا وقت سزا میں شمار کیا جائے گا۔ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اپنے بیانات میں کیا کہا تھا؟ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت جج کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے ایمان مزاری نے کہا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں مبینہ سکیورٹی خلاف ورزی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام پر اُن کے خلاف درج مقدمہ ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کو نشانہ بنانے کے وسیع تر سلسلے کی کڑی ہے۔ اپنے بیان میں ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ وقوعے کے روز وہ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت جا رہی تھیں جہاں انھیں پندرہ منٹ میں پہنچنا تھا تاہم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ایک غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے لیے روٹ لگایا گیا تھا اور پولیس نے سڑک بند کر رکھی تھی۔ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بتایا تھا کہ غیر ملکی کرکٹ ٹیم متبادل راستے سے سٹیڈیم پہنچ چکی ہے۔اپنے بیان میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کے پاس سڑک بند کرنے کے لیے کسی مجسٹریٹ کا تحریری حکم موجود نہیں تھا اور استغاثہ بھی دورانِ ٹرائل ایسا کوئی حکم نامہ پیش نہیں کر سکا۔ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ تقریباً 15 منٹ انتظار کے بعد انھوں نے پولیس اہلکاروں سے سڑک کھولنے کی درخواست کی کیونکہ شہریوں کے نقل و حرکت کے آئینی حقوق متاثر ہو رہے تھے۔ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں سے صرف یہی کہا تھا کہ سڑک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ اگر بیرئیر ہٹانے سے سکیورٹی کو خطرہ تھا تو وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں نے وہاں سے گزرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں نہیں روکا۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار، عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیاایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت منظور: کیا کارِ سرکار میں مداخلت پر دہشتگردی کا مقدمہ بنتا ہے؟متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 برس قید کی سزامتنازع ٹویٹس کیس: پاکستان کے ’اندرونی معاملات‘ میں مداخلت پر ناروے کے سفیر طلب، سپریم کورٹ کا ایمان مزاری کا ٹرائل روکنے کا حکمانھوں نے پراسیکوشن پر جان بوجھ کر ویڈیو شواہد چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس سے ان کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوتا۔‘ایمان مزاری نے دعویٰ کیا تھا کہ سادہ لباس میں موجود ایک پولیس اہلکار، نے ان پر لوہے کا راڈ پھینکا جس سے وہ زخمی ہوئیں۔ایمان مزاری کا دعویٰ تھا کہ اس صورتحال میں میرے شوہر نے انھیں زودوکوب اور کسی نقصان سے بچانے کے لیے دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔انھوں نے کہا تھا کہ پمز ہسپتال نے ان کے زخمی ہونے کے بارے میں رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروا دی ہے۔ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اگر وہ یا ان کے شوہر پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہوئے تھے تو کسی اہلکار کے زخمی ہونے کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا، تاہم ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں۔انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اپنے رویے کی ان سے معافی بھی مانگی تھی۔ایمان مزاری نے الزام عائد کیا تھا کہ اس واقعہ سے متعلق مقدمہ کافی دیر تک پوشیدہ رکھا گیا۔انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں گرفتاری کے بعد ان کا جو ریمانڈ لیا گیا تھا اس کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود ایمان مزاری کے بقول اپنی کارروائی جاری رکھی۔ایمان مزاری نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں جبکہ کوئی آزاد یا نجی گواہ پیش نہیں کیا گیا۔انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف قائم کردہ تمام کیسز جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے اور مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے باعث درج کیے گئے۔انھوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود انھیں اڈیالہ جیل کے اندر ہی سے دوبارہ گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایمان مزاری کے مطابق انھیں اور ان کے شوہر کو پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا اور وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔Getty Imagesہادی علی چٹھہ نے اپنے بیان میں ایمان مزاری کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقوعے کے روز پولیس اہلکاروں نے خود تسلیم کیا تھا کہ راستہ صرف 15 منٹ کے لیے بند کیا گیا ہے۔ان کا الزام تھا کہ ایک پولیس اہلکار نے ان کی اہلیہ پر حملہ کیا جس کے بعد انھوں نے اپنی اہلیہ کے دفاع کے لیے جوابی اقدام اٹھایا۔انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ ان کی اہلیہ کو لگنے والی چوٹوں اور پولیس تشدد کی تصدیق کرتی ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کرنے کے بعد فرانزک اور وائس میسجنگ سمیت تمام تفتیشی کارروائیاں غیر قانونی طور پر کی گئیں۔ہادی علی چٹھہ نے مزید کہا تھا کہ ان کی عدم موجودگی میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں سرکاری کونسل کی تعیناتی کو انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔دونوں ملزمان کے بیانات کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کہا تھا کہ اگر ملزمان مزید حتمی دلائل دینا چاہیں تو انھیں اس کی اجازت ہو گی۔ عدالت نے اس مقدمے میں عاطف محمود کو سٹیٹ کونسل مقرر کیا تھا۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید تازہ ترین خبریں

ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک

ننگرپارکر میں ایمبولینس میں آتشزدگی، 10 افراد جاں بحق، 5 زخمی

نورین نیازی کی طبیعت اچانک خراب، جیل سے اسپتال منتقل

سڑک سے سکیورٹی رکاوٹ ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10، 10 سال قید اور جرمانے کی سزا

’میں ایک بھوت کے ساتھ رہتی ہوں‘: جاپان میں ’آسیب زدہ‘ سمجھے جانے والے گھروں کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟

ایران پر حملے کا سوال اور عالمی معیشت: امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے نتائج پوری دنیا پر کیسے اثر انداز ہوں گے؟

عمران خان کی بہن نورین نیازی کی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقلی: ’اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں‘

نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر اسرائیلی الیکشن ’چوری‘ کرنے کا الزام کیوں لگایا؟

’اچانک دھماکے شروع ہوئے اور چاروں طرف دھواں دھواں ہو گیا‘: انگور اڈہ میں پاکستان اور افغان طالبان میں سرحدی جھڑپ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’ہمارے خلاف مقدمات جبری گمشدگیوں کے کیسز کی پیروی پر درج کیے گئے‘: ایمان مزاری، ہادی چٹھہ کا دعویٰ

’ہر قسم کا اسلحہ استعمال ہو رہا تھا‘: انگور اڈہ میں پاکستان اور افغان طالبان میں سرحدی جھڑپ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کو برتری حاصل مگر اکثریت سے محروم

اسرائیل میں انتخابات: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، عرب جماعتیں اہمیت اختیار کر گئیں

اسرائیل میں انتخابات: 77 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل، نیتن یاہو اور آئزنکوٹ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

اسرائیل کی عرب اقلیت کیا ہے اور وہ حکومت سازی میں ’کِنگ میکر‘ کا کردار کیسے ادا کر سکتی ہے؟

• عالمی خبریں • تازہ ترین خبریں
• پاکستان کی خبریں • کھیلوں کی خبریں
• آرٹ اور انٹرٹینمنٹ • سائنس اور ٹیکنالوجی