انجینیئر محمد علی مرزا کو حراست میں کیوں لیا گیا؟


پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر جہلم سے تعلق رکھنے والے معروف مذہبی سکالر انجینیئر محمد علی مرزا کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔جہلم پولیس کے ترجمان عمر سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد علی مرزا کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس ترجمان نے بی بی سی کے ساتھ وہ درخواست بھی شیئر کی ہے جس کی بنیاد پر انجینیئر محمد علی مرزا کو حراست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔یاد رہے کہ تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کی حفاظتی حراست کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے جنھیں عوامی تحفظ یا نظم کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ قانون ایک طے شدہ مدت کے لیے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراست کے لیے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔انسانی حقوق کے کارکنان پاکستانی قانون میں موجود اس شق کو متنازع قرار دیتے ہیں اور ان کا الزام ہے کہ اس قانون کو بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔جہلم پولیس کے ترجمان کے مطابق انتظامیہ نے یہ فیصلہ اُس درخواست کی بنیاد پر کیا ہے جو ڈسٹرکٹ پولیس افسر، جہلم کے نام تحریر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں انجینیئر محمد علی مرزا کی جانب سے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُن کی جانب سے ادا کیے گئے کچھ کلمات نے مبینہ طور پر’مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح‘ کیے ہیں اور درخواست گزار نے اِسی بنیاد پر محمد علی مرزا کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی استدعا کی ہے۔یاد رہے کہ ہلکے پھلکے انداز میں مسکراتے ہوئے بات کرنے والے انجینیئر محمد علی مرزا پاکستان کے ایک معروف مبلغ ہیں جو اپنے غیر روایتی نظریات کی بنا پر اکثر زیرِ بحث رہتے ہیں اور مئی 2020 میں بھی انھیں مبینہ طور پر 'مذہبی شخصیات کی گستاخی' کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعدازاں عدالت نے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔اپنے غیرروایتی نظریات اور مذہبی خیالات کے باعث اُن پر ماضی میں قاتلانہ حملے بھی ہوئے جس میں وہ محفوظ رہے ہیں۔ جہلم پولیس کے مطابق مارچ 2021 میں ہوئے چاقو کے ایک حملے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح سنہ 2017 میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔انجینیئر محمد علی مرزا کون ہیں؟جہلم سے تعلق رکھنے والے انجینیئر محمد علی مرزا اسی شہر میں واقع اپنے مدرسے میں مختلف مذہبی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں جس کے دوران لوگوں کے سوالوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اُن کے اپنے یوٹیوب چینل پر موجود 2471 سے زائد ویڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں اور اُن کے سبسکرائبرز کی تعداد 31 لاکھ سے زیادہ ہے۔متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے انجینیئر محمد علی مرزا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ کسی مذہبی یا سیاسی گروہ سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کرتے چنانچہ وہ آزادی سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ خود کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اُن کا تعلق کسی مسلک سے نہیں ہے اور اُن کا نعرہ ہے کہ ’میں ہوں مسلم علمی کتابی۔‘شیخ ابوبکر احمد: انڈین نرس کی پھانسی کی سزا پر عین وقت پر عملدرآمد معطل کروانے والے ’مفتی اعظم‘ کون ہیں؟بہائی مذہب کیا ہے اور قطر میں اس کے رہنما کو سوشل میڈیا پوسٹس پر سزا کیوں سنائی گئی؟سنہرا اسلامی دور: امام بخاری اور ان کی علمیت پسندیمارچ 2021 میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے صحافی کلبِ علی کا کہنا تھا کہ انجینیئر محمد علی مرزا کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ اُن کی بات کا جواب عام طور پر دلیل سے نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے جواب میں اُن کی شخصیت کو ہدف بنایا جاتا ہے۔کلبِ علی روزنامہ ڈان سے وابستہ ہیں اور مذہبی اُمور پر رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔کلب علی کے مطابق انجینیئر محمد علی مرزا سے تقریباً ہر مسلک کے لوگ ہی ناراض ہوتے ہیں، کیونکہ وہ دلیل سے بات کرتے ہیں جو کبھی کسی مسلک کے لوگوں کے خلاف ہوتی ہے تو کسی کے حق میں۔ ’لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ ان کے فالوورز ہیں جو اُن کی گفتگو کو سُنتے ہیں۔‘اس بات کا اندازہ اُن کی یوٹیوب ویڈیوز کے نیچے موجود کمنٹس سے بھی ہو سکتا ہے جس میں زیادہ تر لوگ اُنھیں ’مسلک سے بالاتر ہو کر متحد کرنے والا شخص‘ قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ اُن سے سخت علمی اختلاف رکھتے ہیں۔کلبِ علی کا کہنا تھا کہ انجینیئر محمد علی مرزا کو اکثر و بیشتر مختلف مسالک کی جانب سے ایک دوسرے کا ’ایجنٹ‘ بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ’ماضی میں اُنھیں ’احمدی ایجنٹ‘ بھی کہا جاتا رہا ہے تو کبھی اُنھیں ’شیعہ ایجنٹ‘ بھی کہا گیا، تاہم اُن کی باتوں کو دلیل سے رد کرنے کے بجائے اُن کی ذات کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔‘شیخ ابوبکر احمد: انڈین نرس کی پھانسی کی سزا پر عین وقت پر عملدرآمد معطل کروانے والے ’مفتی اعظم‘ کون ہیں؟بہائی مذہب کیا ہے اور قطر میں اس کے رہنما کو سوشل میڈیا پوسٹس پر سزا کیوں سنائی گئی؟حضرت ابراہیم کی ’بڑی آزمائش‘: قربانی کا تصور اسلام، یہودیت اور مسیحیت میں

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید پاکستان کی خبریں

بلوچستان میں ایک بار پھر موبائل انٹرنیٹ سروس معطل

بی بی سی کی ٹیم نے چنیوٹ میں کیا دیکھا: ’ہمارا سارا غلّہ اور سامان پانی کی نذر ہو گیا‘

لاہور میں تیز بارش سے گھروں کی چھتیں گِرنے سے چار ہلاکتیں، سندھ میں سیلاب سے ’ساڑھے 16 لاکھ افراد متاثر ہونے کا خدشہ‘

سندھ میں سیلاب سے ساڑھے 16 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ، حکام کو کڑی نگرانی کرنے اور الرٹ رہنے کے احکامات

دریائے سندھ میں ’منگل اور بدھ کی رات سیلاب آنے کا خدشہ‘، حکام کو کڑی نگرانی کرنے اور الرٹ رہنے کے احکامات

سرکاری ملازم پر تشدد کیس، فرحان غنی سمیت 3 ملزمان رہا، مقدمہ واپس

سیلاب سے پہلے اور بعد کی صورتحال: پنجاب کے دریاؤں نے کیسے مختلف شہروں میں تباہی مچائی؟

سیلاب کے بعد لاہور میں بےیقینی کی صورتحال، ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز میں کمرے ملنا مشکل

’سب کھو دیا تھا،‘ سندھ میں 2010 کے سیلاب متاثرین کو پھر خوف و پریشانی کا سامنا

لائیو: دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ کی ’گذشتہ تین دہائیوں میں بلند ترین سطح‘، پی ڈی ایم اے

مون سون بارشوں کا 9 واں سپیل، منگل تک پنجاب میں شدید بارشوں کی پیشگوئی

سندھ میں گڈو بیراج پر سُپر فلڈ کا امکان: ’پانی کی آمد میں مزید دو دن لگ سکتے ہیں‘

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن ختم، کیمپس بند کرنے کی تیاری

لاہور کی رہائشی سوسائٹی جہاں سیلاب لوگوں کی جمع پونجی بہا لے گیا: ’سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھر چھوڑنا ہے یا رُکنا ہے؟‘

افغان طالبان کا پاکستان پر ڈرون حملوں کا الزام: افغانستان نے کابل میں پاکستانی سفیر کو ڈیمارش جاری کیا، وزیر خارجہ کی تصدیق

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی