ایران کے خلاف پہلی بار استعمال کیے گئے امریکی ’سمندری ڈرونز‘ کیسے کام کرتے ہیں؟


امریکی فوج کے مطابق اس نے ایران کے خلاف حالیہ حملوں میں پہلی بار ’ون وے اٹیک سی ڈرونز‘ استعمال کیے ہیں۔ یہ بغیر عملے کے چلنے والے سمندری ڈرونز ہیں جنھیں کسی ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد تباہ ہونے والے مشن کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ یہ سی ڈرونز آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں استعمال کیے گئے۔ 12 جولائی کو شروع ہونے والی حملوں کی نئی لہر میں امریکی افواج نے ایران میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں سمیت مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔سینٹ کام کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی جنگی طیاروں، بحری جہازوں، یک طرفہ حملہ آور فضائی ڈرونز اور پہلی بار’ون وے اٹیک سی ڈرونز‘ کا استعمال کیا گیا تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔اس سے قبل جون میں امریکی فوج نے کہا تھا کہ عمان کے ساحل کے قریب گرنے والے ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے عملے کے دو ارکان کو بچانے کے لیے ایک سمندری ڈرون استعمال کیا گیا تھا۔ یہ کسی بغیر عملے والی کشتی کے ذریعے امدادی مشن انجام دینے کی عوامی طور پر سامنے آنے والی پہلی مثالوں میں سے ایک تھی۔اب سوال یہ ہے کہ یہ سمندری ڈرونز کیا ہیں، یہ کیسے کام کرتے ہیں اور جدید بحری جنگ میں ان کا کردار کیوں بڑھ رہا ہے؟امریکی سمندری ڈرون کیا ہیں؟BBCاگرچہ سینٹ کام نے ایران میں استعمال کیے گئے سی ڈرون کا نام یا ماڈل نہیں بتایا، تاہم امریکی بحریہ کے پاس موجود ایسے نظاموں میں کورسیئر ایک نمایاں مثال ہے۔یہ بغیر عملے والی کشتی کے ذریعے امدادی کارروائی کی ان پہلی مثالوں میں شامل تھا جن کی تفصیلات عوامی طور پر سامنے آئیں۔امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ کے اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا جس کے بعد سینٹ کام نے کہا تھا کہ کورسیئر نامی سمندری ڈرون کے ذریعے امدادی کارروائی کی گئی اور ہیلی کاپٹر کے عملے کے ارکان کو ’تقریباً دو گھنٹوں کے اندر بچا لیا گیا۔‘ٹیکساس میں قائم بحری ڈرون ساز کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کا تیار کردہ کورسیئر ڈرون 24 فٹ لمبا ہے، 40 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے اور 450 کلوگرام وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ہڈسن انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ بحری ڈرون کے ماہر برائن کلارک کہتے ہیں: ’کورسیئر کی جسامت تقریباً اتنی ہی ہے جتنی ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کسی کشتی کی ہوتی ہے، اس کے اوپر ہموار ڈیک موجود ہے، اسے سامان لادنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور غالباً اس میں تین سے چار افراد سما سکتے ہیں۔‘آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد پائلٹوں کو سمندری ڈرون کی مدد سے کیسے بچایا گیا؟ترک ساختہ ’بغیر پائلٹ لڑاکا طیارہ‘ جسے فضائی جنگ کا ’گیم چینجر‘ قرار دیا جا رہا ہےلڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟بیراکتر آقنجی: ترکی کے ڈرون نے ’ہیٹ سگنل‘ کی مدد سے ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ کیسے تلاش کیا؟کلارک مزید کہتے ہیں کہ اس میں ایسا کیمرہ نصب ہے جو چاروں طرف کے مناظر دکھاتا ہے۔ اس میں طویل فاصلے کی نیویگیشن کے لیے ریڈار نظام اور مواصلات کو پکڑنے اور انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک الیکٹرانک ریڈیو سینسر بھی موجود ہے۔سینٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی سے وابستہ امریکی فوجی امور کی ماہر ڈاکٹر سٹیسی پیٹی جان کے مطابق: ’یہ کورسیئر کشتی کئی برسوں سے موجود ہے۔ امریکی بحریہ کے پاس ایسی تقریباً 50 کشتیاں ہیں۔‘وہ کہتی ہیں: ’ان کا استعمال عموماً بارودی سرنگوں کی نشاندہی یا نگرانی کے لیے ہوتا ہے، لیکن امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں موجود کورسیئر کے اس بیڑے پر اب بھی تجربات کر رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کیا کچھ کر سکتا ہے۔‘یہ سمندری ڈرون ٹاسک فورس 59 چلاتی ہے، جو بغیر عملے والے نظاموں کے لیے مختص امریکی بحریہ کا پہلا یونٹ ہے اور 2021 میں قائم کیا گیا تھا۔ امریکہ نے مارچ میں اسے مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنا شروع کیا تھا۔یہ ڈرونز کے استعمال کو بڑھانے کے لیے پینٹاگون کے منصوبے کا حصہ ہے۔ گذشتہ سال امریکی بحریہ نے کورسیئر کے تیار کنندہ ادارے سے اس کی خود کار کشتیوں کی پیداوار کے لیے 392 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔دنیا کے دیگر حصوں میں سمندری ڈرون کہاں استعمال ہو رہے ہیں؟BBCبی بی سی ویریفائیکے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان جنگ میں بھی سمندری ڈرونز کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔یوکرین نے روسی فوجی بحری جہازوں پر حملوں کے لیے ان ڈرونز میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا۔بحری ڈرون کے ماہر برائن کلارک کہتے ہیں: ’یوکرین کی جانب سے استعمال کیے جانے والے زیادہ تر بحری ڈرون چھوٹے ہوتے ہیں، تقریباً جیٹ سکی کے سائز کے، اور ان میں کسی شخص کے سوار ہونے کی گنجائش نہیں ہوتی۔‘یمن کے حوثی باغیوں نے بھی نام نہاد خود کش ڈرون کشتیوں کا استعمال کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی موجودہ تنازع کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون کشتیوں کا استعمال کیا ہے۔ڈاکٹر پیٹی جان کے مطابق ’امریکی سمندری ڈرون بڑی حد تک یوکرین جنگ اور اس دوران سامنے آنے والی جدتوں سے متاثر ہو کر تیار کیے گئے ہیں۔‘ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟ترک ساختہ ’بغیر پائلٹ لڑاکا طیارہ‘ جسے فضائی جنگ کا ’گیم چینجر‘ قرار دیا جا رہا ہےبیراکتر آقنجی: ترکی کے ڈرون نے ’ہیٹ سگنل‘ کی مدد سے ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ کیسے تلاش کیا؟روسی جنگی جہازوں کے لیے ’ڈراؤنا خواب‘ ثابت ہونے والے یوکرین کے سمندری ڈرون جنگ کا پانسہ کیسے پلٹ رہے ہیں؟آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد پائلٹوں کو سمندری ڈرون کی مدد سے کیسے بچایا گیا؟یوکرین کا پہلی بار زیرسمندر ڈرون سے روسی آبدوز تباہ کرنے کا دعویٰ: اس آپریشن کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید سائنس اور ٹیکنالوجی

’بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں‘: انڈیا میں 10 سالہ بچے کے عضو تناسل کی سرجری کے بعد ڈاکٹرز کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

کیا کچھ خواتین کو وہ رنگ بھی نظر آتے ہیں جو دیگر لوگ نہیں دیکھ سکتے؟

چند آسان ٹوٹکوں سے اناج کو کیڑوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھیں

مرد بانجھ پن کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاتے کیوں ہیں؟

سائبر دنیا میں نیا موڑ: خودکار اے آئی ایجنٹ نے ہگنگ فیس کے سرورز کو نشانہ بنا ڈالا

اے آئی ٹیکنالوجی سے بنی غیر معیاری ویڈیوز پر مونیٹائزیشن کی پابندی: یوٹیوب کا بڑا اعلان

’حکمتِ عملی، سیکس اور طاقت کی داستان‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستان‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستن‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستن‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا؟

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستان‘: خواتین نے اوڈیسی کی داستان کو کیسے نیا رُخ دیا؟

کیلے دو دن میں خراب ہوجاتے ہیں تو یہ طریقہ آزمائیں، 18 دن تک تازہ رکھنے کا ٹوٹکہ

پہلی مرتبہ نظامِ شمسی سے باہر کُرہِ ارض جیسے ایک سیارے کے گرد فضا دریافت: کیا زمین سے باہر بھی زندگی موجود ہے؟

ایک ہزار دینار کی روٹی اور انسانی گوشت کی فروخت: وہ قحط جس نے ایک خلیفہ کو محل کا سامان بیچنے پر مجبور کر دیا

’میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے استعفے تک: 1993 کا سیاسی بحران جب صدر اور وزیرِ اعظم کو ایک ہی دن عہدے چھوڑنے پڑے

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی