’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستن‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا؟


Getty Imagesیونانی شاعر ہومر کی 2800 سال پرانی نظم، ’اوڈیسی‘ جسے کرسٹوفر نولین نے اب بڑی سکرین کے لیے ڈھالا ہے، محض بہادری کی ایک سادہ کہانی نہیں۔اس کا مرکزی کردار اوڈیسیئس اگرچہ ایک مرد ہیرو ہے، لیکن اس کی داستان اُن خواتین، حوروں، جادوگرنیوں، دیویوں اور پراسرار کرداروں کی چالاکیوں، تدبیروں اور کشش سے تشکیل پاتی ہے، جن سے وہ اپنے سفر کے دوران ملتا ہے۔ یہی عناصر اس کہانی کو غیر معمولی طور پر انسانی اور حقیقت کے قریب محسوس کرواتے ہیں۔یونانی نظم اوڈیسی افسانوی یونانی جنگجو اوڈیسیئس کی اس جدوجہد کی داستان بیان کرتی ہے، جس میں وہ ٹروجن جنگ میں برسوں لڑنے کے بعد اپنی سلطنت ایتھاکا واپس پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔گھر واپسی کا یہ خطرناک سفر ایک دہائی پر محیط ہے اور اسے بے شمار آزمائشوں، خطرات اور مہمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی داستان کو معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان نے بڑی سکرین کے لیے ڈھالا ہے، جس میں میٹ ڈیمن سمیت متعدد مشہور اداکار شامل ہیں۔اس میں مرکزی کردار اگرچہ ایک مرد ہے، لیکن اوڈیسی بنیادی طور پر ایسی داستان ہے جس میں خواتین کا کردار غالب نظر آتا ہے۔ اپنے وطن واپس لوٹنے اور اپنی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے کی اوڈیسیئس کی جدوجہد ہر موڑ پر ان خواتین، حوروں اور دیویوں کی تدبیروں، چالاکیوں اور کشش سے متاثر ہوتی ہے، جن سے اس کی راستے میں ملاقات ہوتی ہے۔اوڈیسی محض بہادری اور کارناموں کی ایک سادہ کہانی نہیں، بلکہ سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کے پیچیدہ تعلقات کی ایک ایسی داستان ہے، جو آج بھی اپنی معنویت اور کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔نظم اوڈیسی کا آغاز ’ان میڈیا ریس‘ کے انداز میں ہوتا ہے، یعنی کہانی بیچ سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت اوڈیسیئس جزیرۂ اوگیجیا کے ساحل پر بیٹھا رو رہا ہے، جہاں وہ گذشتہ سات برس سے حور کالیپسو کے ساتھ مقیم ہے۔اگرچہ اوڈیسیئس نے ٹروجن جنگ کے میدان میں اپنی بہادری کا لوہا منوایا تھا، لیکن اس مرحلے پر وہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اس تاثر کو یہ حقیقت مزید مضبوط بناتی ہے کہ اسے جزیرے سے رہائی دلانے کے لیے دیوتاؤں کی ایک کونسل کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔لیکن اوڈیسیئس دراصل کالیپسو کا اتنا قیدی نہیں جتنا اپنے آپ کا ہے۔ ایک جدید قاری بجا طور پر اس کی اِس کیفیت، یعنی آگے بڑھنے اور اپنے وطن واپس پہنچنے میں ناکامی کو جنگی صدمے کی علامت کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔تاہم اس سے کالیپسو کے اس پر اثرورسوخ کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اوڈیسیئس خود حور کے سامنے اعتراف کرتا ہے کہ خوبصورتی کے اعتبار سے اس کی بیوی پینیلوپی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ پینیلوپی محض ایک فانی انسان ہے۔اوڈیسیئس کی بیوی پینیلوپی اپنے شوہر کی طویل غیر موجودگی کے دوران ہرگز ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی نہیں رہی۔ اس نے بہادری اور غیر معمولی ذہانت کے ساتھ ان 108 خواستگاروں کی پیش قدمی کا مقابلہ کیا، جو اس سے شادی کرکے ایتھاکا کا نیا بادشاہ بننا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے لیے محل میں جمع ہو گئے تھے۔اپنے سسر لائرٹیز کے لیے کفن بُننے اور پھر رات کے وقت اسی بُنے ہوئے کپڑے کو ادھیڑ دینے کا پینیلوپی کا منصوبہ اس نظم کے سب سے یادگار واقعات میں شامل ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے وہ خواستگاروں کو مسلسل ٹالتی رہی اور وقت حاصل کرتی رہی۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ پینیلوپی ایک ایسا ’متحرک ہدف‘ ہے جس کی کامیابی یا ناکامی براہِ راست اوڈیسیئس کی اس صلاحیت پر اثر ڈالتی ہے کہ آیا وہ واپس آ کر اپنی بادشاہت دوبارہ حاصل کر سکے گا یا نہیں۔’مردوں کو بہکانے والی‘ جل پریوں کی افسانوی کہانی کیسے شروع ہوئیہرکیولیس کی کہانی: گود لیا بھالو جو بین الاقوامی سٹار بنا اور اپنے مالک کے پہلو میں دفن ہےغیات الدین بلبن: اس غلام کی کہانی جو دلی کا سلطان بنامحبت کی وہ کہانی جو ایک ڈراؤنی گیم سے شروع ہوئییہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دیوتاؤں میں اوڈیسیئس کی سب سے بڑی حامی ایک دیوی ایتھینا ہے، جو حکمتِ عملی اور دانش کی دیوی ہے، ٹرائے کی جنگ میں بھی اس کی مدد کرتی رہی اور اسی نے اس کی وطن واپسی کی کوششوں کا آغاز کیا۔بعد ازاں جب اوڈیسیئس فیاشیئنز کی سرزمین پر انتہائی کمزور حالت میں پہنچتا ہے، تو ایتھینا بڑی چابک دستی سے اس کی نجات کا انتظام کرتی ہے۔ وہ نہ صرف اس کی کمزوری کو چھپاتی ہے بلکہ اس کے حلیے کو بھی زیادہ پرکشش اور باوقار بنا دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی دیوتا جیسا دکھائی دینے لگتا ہے اور ان کی مشہور مہمان نوازی کا مستحق محسوس ہوتا ہے۔یہی مدد اوڈیسیئس کو سمندری سفر میں ماہر فیاشیئنز کا اعتماد جیتنے میں کامیاب بناتی ہے۔ بعد میں وہ اسے پناہ دیتے ہیں، قیمتی تحائف فراہم کرتے ہیں اور ایتھاکا واپس پہنچنے کے لیے ایک محفوظ سفر کا انتظام بھی کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایتھینا جب بھی اوڈیسیئس یا اس کے بیٹے ٹیلیماکس کے سامنے ظاہر ہوتی ہے، تو اکثر مرد کا بھیس اختیار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایتھاکا کے ایک دوست بادشاہ مینٹیز اور فیاشیئنز کے ایک مرد ایلچی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔Getty Imagesایتھینا یہ بخوبی جانتی ہے کہ زمین پر ظاہری اقتدار مردوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، لیکن واقعات کی سمت کا تعین اکثر خواتین اپنی ذہانت، تدبیر اور پردے کے پیچھے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملیوں کے ذریعے کرتی ہیں۔فیاشیئنز کی سرزمین پر پہنچنے کے بعد اوڈیسیئس اپنے شاہی میزبانوں کو اب تک پیش آنے والی مہمات کی داستان سناتا ہے، جن میں لوٹس کھانے والوں سے لے کر سائیکلوپس تک کے واقعات شامل ہیں۔ تاہم ان سفرناموں میں جن افسانوی خواتین سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، ان کی کہانیاں اکثر سب سے زیادہ پراسرار اور خوف انگیز محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی ظاہری شکل و صورت بظاہر خطرناک نہیں ہوتی۔اس کے سفر میں موجود خواتین کرداروں پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔ بظاہر نرم، دلکش یا بےضرر دکھائی دینے کے باوجود ان میں سے کئی کردار غیر معمولی طاقت اور اثرورسوخ رکھتے ہیں اور اوڈیسیئس کی تقدیر پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی تضاد ان خواتین کی موجودگی کو اوڈیسی کی سب سے دلچسپ اور پُراسرار خصوصیات میں سے ایک بنا دیتا ہے۔Getty Imagesدلکش ظاہری روپمثال کے طور پر اوڈیسیئس اپنے میزبانوں کو کھلے دل سے بتاتا ہے کہ وہ سائرنز کا نغمہ سننے کے لیے بے تاب تھا۔ سائرنز مغربی سمندر میں ایک دور افتادہ اور خطرناک چٹانی جزیرے پر رہتی تھیں۔بعد کی روایات اور یونانی فن میں سائرنز کو کبھی پرندہ نما خواتین اور کبھی جل پریوں کی صورت میں دکھایا گیا، لیکن اوڈیسیئس ان کی ظاہری شکل کے بجائے ان کے شہد جیسی میٹھی آواز کا ذکر کرتا ہے، جس میں ایسی کشش تھی کہ وہ مردوں کو اپنی طرف کھینچ کر بالآخر ان کی ہلاکت کا سبب بن جاتی تھیں۔سائرنز کے سامنے ایک وسیع سبزہ زار پھیلا ہوا تھا، جہاں ان بے شمار مردوں کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں جو ماضی میں ان کا نغمہ سننے کے لیے رکے تھے۔ اوڈیسیئس اس خطرے کا سامنا کرنے پر آمادہ تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اسے جہاز کے مستول سے باندھ دیں تاکہ وہ اس پراسرار اور مسحور کن موسیقی کے تعاقب میں سمندر میں نہ کود سکے۔سائرنز کی آواز جتنی دلکش اور حسین تھی، وہ اتنی ہی جان لیوا بھی تھیں۔سرسے ایک اور دلکش مگر خطرناک کردار تھیں۔ جو لوگ پہلی بار ان سے ملتے، وہ شاید انھیں خطرہ نہ سمجھتے، لیکن سائرنز کی طرح ان کی نرم اور دل فریب شخصیت کے پیچھے غیر معمولی جادوئی طاقتیں چھپی ہوئی تھیں۔ ہومر نے انھیں ایک جادوگرنی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے پاس ایسی جڑی بوٹیاں اور معجونیں تھیں، جن کی مدد سے وہ اوڈیسیئس کے ساتھیوں کو سوروں میں تبدیل کر دیتی تھیں۔تاہم اوڈیسیئس کے سفر میں نظر آنے والی دیگر بہت سی عجیب و غریب مخلوقات کی طرح سرسے صرف رکاوٹ نہیں بنتیں بلکہ مدد بھی فراہم کرتی ہیں۔ اگرچہ وہ اوڈیسیئس کو اپنا عاشق بنا لیتی ہیں، لیکن یہی سرسے انھیں عالمِ ارواح تک جانے کے قابل بھی بناتی ہیں، جہاں ان کی ملاقات پیش گو ٹائریسیاس سے ہوتی ہے۔ٹائریسیاس اوڈیسیئس کو ایتھاکا واپسی کے سفر کے بارے میں اہم مشورے اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔اس داستان کا مستقل پیغام یہ ہے کہ ان نسوانی عفریتوں اور دلکش حوروں کو محض نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اوڈیسیئس کو ایک حد تک ان کے اثر کو قبول کرنا پڑتا ہے، لیکن اتنا نہیں کہ وہ مکمل طور پر ان کے قابو میں آ جائے۔سفر کے دوران اس سے ملنے والے کردار بار بار اس کے عزم، خود پر قابو پانے کی صلاحیت اور اعتدال پسندی کے امتحان لیتے ہیں۔ اعتدال وہ خوبی تھی، جسے قدیم یونانی تہذیب میں نہایت اہم اور قابلِ ستائش سمجھا جاتا تھا۔جو قارئین اوڈیسیئس کی مہمات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ محض اس کی گھڑی ہوئی کہانیاں تھیں، ایسی داستانیں جو اس نے فیاشیئنز کو متاثر کرنے اور انہیں اپنے وطن واپس پہنچانے پر آمادہ کرنے کے لیے سنائیں، وہ غالباً اس علامتی تعبیر کو سب سے زیادہ قبول کریں گے۔شاید اوڈیسیئس درحقیقت جسمانی عفریتوں سے نہیں لڑ رہا تھا، بلکہ اپنے ہی اندر کے خوف، کمزوریوں اور نفسیاتی کشمکش کا سامنا کر رہا تھا۔ اور ان میں سے بہت سی اندرونی برائیاں اور آزمائشیں بظاہر جتنی بے ضرر دکھائی دیتی تھیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ثابت ہوتی تھیں۔اوڈیسیئس کی کہانیوں کی پھسلتی ہوئی نوعیت، ان کی شاندار وسعت، رنگا رنگی اور اعتبار کی حدود کو چیلنج کرنے کی صلاحیت، اس نظم کے حسن اور جادو کا ایک بڑا حصہ ہے۔ یہی خصوصیت اوڈیسیئس کو ایک منفرد ہیرو بھی بناتی ہے۔جیسا کہ ایملی ولسن نے اپنے ترجمے میں لکھا ہے، اوڈیسیئس ’ایک پیچیدہ انسان‘' ہے۔ وہ پیچیدہ اور گرفت میں نہ آنے والا اس لیے ہے کیونکہ وہ فریب اور چالاکی کا ماہر ہے۔ حالات کے مطابق وہ اپنی کہانی بھی بدل لیتا ہے اور اپنی شناخت بھی۔اوڈیسیئس کی یہی صلاحیت، حقیقت اور افسانے، سچ اور فریب، بہادری اور کمزوری کے درمیان حرکت کرنا، اسے روایتی ہیروز سے مختلف بناتی ہے اور اسی وجہ سے آج بھی ادب کے سب سے انسانی اور دلچسپ کرداروں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ذہین، تخلیقی اور خامیوں سے بھرپور، اوڈیسیئس بالآخر قدیم یونانی دنیا کا سب سے زیادہ انسانی ہیرو بن کر سامنے آتا ہے۔ خواتین کی دلکشی اور فیاشیئنز جیسی شاندار دنیاؤں کی کشش سے متاثر ہونے کی اس کی فطرت ہی اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔یہی وجہ ہے کہ اس کا کردار آج بھی ہمارے دل و دماغ سے بات کرتا ہے اور اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ڈیزی ڈن ایک ایوارڈ یافتہ کلاسیکی علوم کی ماہر اور مصنفہ ہیں۔ ان کی کتابوں میں دا مسنگ تھریڈ اور دا لیڈی برڈ ایکسپرٹ بُک آن ہومر شامل ہیں۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید سائنس اور ٹیکنالوجی

کیا کچھ خواتین کو وہ رنگ بھی نظر آتے ہیں جو دیگر لوگ نہیں دیکھ سکتے؟

چند آسان ٹوٹکوں سے اناج کو کیڑوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھیں

مرد بانجھ پن کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاتے کیوں ہیں؟

سائبر دنیا میں نیا موڑ: خودکار اے آئی ایجنٹ نے ہگنگ فیس کے سرورز کو نشانہ بنا ڈالا

اے آئی ٹیکنالوجی سے بنی غیر معیاری ویڈیوز پر مونیٹائزیشن کی پابندی: یوٹیوب کا بڑا اعلان

’حکمتِ عملی، سیکس اور طاقت کی داستان‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستان‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستن‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستن‘: خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رُخ دیا؟

’سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کی داستان‘: خواتین نے اوڈیسی کی داستان کو کیسے نیا رُخ دیا؟

کیلے دو دن میں خراب ہوجاتے ہیں تو یہ طریقہ آزمائیں، 18 دن تک تازہ رکھنے کا ٹوٹکہ

پہلی مرتبہ نظامِ شمسی سے باہر کُرہِ ارض جیسے ایک سیارے کے گرد فضا دریافت: کیا زمین سے باہر بھی زندگی موجود ہے؟

ایک ہزار دینار کی روٹی اور انسانی گوشت کی فروخت: وہ قحط جس نے ایک خلیفہ کو محل کا سامان بیچنے پر مجبور کر دیا

’میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے استعفے تک: 1993 کا سیاسی بحران جب صدر اور وزیرِ اعظم کو ایک ہی دن عہدے چھوڑنے پڑے

انڈین خلائی ادارے کے سائنسدان استعفے کیوں دے رہے ہیں؟

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی