
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے، اس لیے ہر صوبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک جائزہ کمیٹی قائم کر کے قومی اور سیاسی سطح پر بحث کا آغاز کیا جائے کیونکہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے سیاسی اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے خبردار کیا ہے کہ قومی اسمبلی بھی سندھ کی تقسیم پر بات کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔
اس کے برعکس وزیراعظم کے مشیر رانا احسان افضل خان نے وضاحت کی ہے کہ فی الحال نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل پر کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی جائزہ کمیٹی کا قیام زیر غور ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام پر یہ بحث وزیر داخلہ محسن نقوی کے "سسٹم کولیپس" سے متعلق بیان کے بعد چھڑی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی گزشتہ روز ہی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے خلاف ایک قرارداد منظور کرچکی ہے، جس کی منظوری کے وقت اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا ہوا تھا۔