
امریکا نے 8 اکتوبر کو آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ملازمت سے منسلک مستقل رہائش کے سرکاری تصدیقی عمل میں شرکت معطل کر دی۔
ان کمپنیوں میں بھارتی ادارے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل، جبکہ امریکی کمپنیاں مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔
امریکی وزیرِ محنت کے مطابق ان اداروں کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی جبکہ پہلے سے زیرِ التوا درخواستوں پر کارروائی بھی روک دی جائے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کر رہی ہیں اور ملازمت سے متعلق ضوابط سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
Aapka browser video playback support nahi karta.
دوسری جانب ایلون مسک نے 7 اور 8 اکتوبر کو بھارت میں اسٹارلنک کی تجارتی خدمات کے آغاز میں تاخیر پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض بااثر کاروباری شخصیات بھارت کی مواصلاتی منڈی پر اپنی اجارہ داری اور اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہی بھارت میں اصل فیصلے کرتے ہیں؟
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مسک کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی ایک اور شخص کے بارے میں جاننا باقی ہے، تاہم انہوں نے اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا۔ اس پر ایلون مسک نے راہول گاندھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیا۔