
Getty Imagesکورونا کی عالمی وبا کے بعد سے صفائی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات کی مانگ اور استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن کچھ مصنوعات، جنھیں ہم اپنے گھروں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، سے آپ کی صحت کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔انسان تقریباً 5000 سالوں سے کیمیائی اشیا کی مدد سے صفائی کر رہے ہیں۔ قدیم رومیوں نے سب سے پہلے ’پیشاب سکربر‘ کا استعمال کیا تھا۔ یہ استعمال اس وقت شروع ہوا جب انھیں پتہ چلا کہ پیشاب کو کپڑے صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شکر ہے کہ ہم اس کے بعد سے ایک طویل سفر طے کر چکے ہیں۔ابھی حال ہی میں کووڈ 19 نے ہماری حفظان صحت کی عادات کو تبدیل کیا ہے اور بہت سے گھر ممکنہ پیتھوجینز کے بارے میں زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔بیکٹریا کش سپرے سمیت گھریلو صفائی کی مصنوعات بیچنے والے دعوی کرتے ہیں کہ ان کی مدد سے بیت الخلاء، باورچی خانے کی سطحوں پر اور ہمارے گھروں کے آس پاس کے بیشتر نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کیا جا سکتا ہے۔لیکن سائنسی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں ہم ہوا اور دوسرے آلودگی کے ذرات میں شامل کیمیائی اجزا کی زد میں آ سکتے ہیں اور ان کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گھروں کو باقاعدگی سے صاف کرنے میں کیا خطرات شامل ہیں اور کیا ہمیں ان مصنوعات کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے جو ہم استعمال کر رہے ہیں؟فرنچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل ریسرچ انسرم کی محقق ایمیلی دا سلوا کہتی ہیں کہ گھریلو صفائی کی مصنوعات کا استعمال دمہ میں ’تبدیل ہونے والے خطروں کے عوامل‘ میں سے ایک ہے کیونکہ جراثیم کش ادویات اور صفائی کی مصنوعات دمہ کا سبب ہو سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے 2024 میں گھریلو صفائی کی مصنوعات کے صحت پر اثرات کا جائزہ لینے والے 77 مطالعات کا تجزیہ کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے سانس کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر سپرے کی شکل میں استعمال ہونے والی صفائی کی مصنوعات کے نظام تنفس پر زیادہ نقصان دہ اثرات کی بات کہی گئی ہے۔سائنسدانوں نے پایا کہ صفائی کے سپرے کے باقاعدگی سے استعمال سے دمے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کو دمہ ہے تو اس میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بڑوں میں دمہ کو کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ہفتے میں چار سے سات بار سپرے کے استعمال کو نوجوانوں میں دمہ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اور اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ زیادہ استعمال سے دمے کی علامات مزید خراب ہو جاتی ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ دیگر قسم کی صفائی ستھرائی کی مصنوعات کے مقابلے میں سپرے زیادہ نقصان دہ ہیں کیونکہ کیمیکل ہوا کے ذریعے ہماری سانسوں میں جاتا ہے اور اس کی زیادہ مقدار ہمارے جسم کے اندر آسانی سے جاتی ہے۔کچھ مطالعات میں محققین نے حمل کے دوران صفائی ستھرائی کی مصنوعات کے زد میں آنے پر توجہ مرکوز کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مصنوعات بچوں کے لیے اور بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ بڑوں کی نسبت زیادہ تیزی سے سانس لیتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صفائی کی مصنوعات استعمال کرنے سے ایسے مرکبات پیدا ہوتے ہیں جو کان، ناک اور گلے میں جلن کا سبب بن سکتے ہیں۔برطانیہ کی یارک یونیورسٹی میں ’ان ڈور ایئر‘ (اندرونی ہوا کی) کیمسٹری کی پروفیسر نکولا کارسلاو کہتی ہیں کہ ’اس کے کافی شواہد موجود ہیں کہ صفائی کی مصنوعات کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ ہیں، خاص طور پر اگر وہ ان کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس سے مشکل یہ جاننا ہے کہ کون سے مخصوص کیمیکل نقصان کا باعث بنتے ہیں۔‘بہر حال کچھ ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کچھ کیمیکلز سے زیادہ خطرات وابستہ ہیں۔ ان میں کلورین، امونیا، ہائیڈروکلورک ایسڈ، کلورامائن اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ اس لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ رد عمل کا موجب بنتے ہیں اور جب ہم سانس لیتے ہیں تو یہ سیلولر سطح پر ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔قدرتی صفائی کی مصنوعات کے بارے میں کیا خیال ہے؟حالیہ برسوں میں ’قدرتی‘ یا نیچرل گھریلو صفائی کی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، یعنی ایسی مصنوعات جن میں کوئی مصنوعی کیمیکل شامل نہیں ہو اور وہ جو ماحول کے لیے بہتر ہونے کے لیے بنائی گئیں ہو۔محققین نے 2024 کے جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’گرین پروڈکٹس‘ جن میں صرف بایوڈیگریڈیبل اجزاء ہوتے ہیں وہ روایتی مصنوعات کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سانس کی صحت پر ان کے اثرات کو جانچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔جب پچیکو دا سلوا نے محسوس کیا کہ سانس کی صحت پر ’گرین‘ اور گھریلو مصنوعات کے اثرات کا کوئی مطالعہ نہیں ہے تو انھوں نے 40،000 سے زیادہ لوگوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور ان سے پچھلے 12 مہینوں میں ان کی سانس کی صحت اور گھریلو صفائی کی مصنوعات کے استعمال کے بارے میں پوچھا۔انھیں توقع تھی کہ اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوگا کہ گرین پروڈکٹس اور گھریلو سپرے اور وائپس کا استعمال کم نقصان دہ ہوگا۔ تاہم انھوں نے ابتدائی طور پر دیکھا کہ تینوں مصنوعات کا ہفتہ وار استعمال دمہ سے منسلک تھا۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ’گرین پروڈکٹس‘ اور گھریلو مصنوعات کا استعمال دمہ کے لیے کم نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ کہ وائپس کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔پچیکو دا سلوا کہتی ہیں کہ صفائی کی ’گرین‘ مصنوعات ایک اصطلاح ہے جو عام طور پر مارکیٹنگ کے لیے غلط استعمال کی جاتی ہے۔’موت سے پہلے صفائی‘: مرنے کے بعد پیچھے رہ جانے والوں کو مشکل سے بچانے کا سویڈش طریقہعید الاضحیٰ: فریج کی صفائی اور گوشت کو محفوظ رکھنے کے سستے اور آزمودہ نسخے’ٹوائلٹ سیٹ سے بھی زیادہ گندی‘ اپنی پانی کی بوتل آپ کیسے صاف رکھ سکتے ہیں؟برتن دھونے والے سپونج پر ’انسانی فضلے کے برابر جراثیم‘: اسے صاف کیسے رکھا جائے اور کتنے عرصے بعد بدلا جائے؟ایک مطالعہ میں کارسلا نے قدرتی اجزاء پر مشتمل صفائی کی مصنوعات کا استعمال سے ہونے والے کیمیائی ردعمل کو دیکھا۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ ان میں سے اکثر میں خوشبودار کیمیکل ہوتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’مثال کے طور پر لیموں کی خوشبو والی صفائی کی مصنوعات کو لے لیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خوشبو لیموں کی ہے یا فیکٹری کی بنی چیز کی یہ ایک ہی مرکب ہے جسے ہوا میں چھوڑا جاتا ہے۔‘لیموں میں یہ مرکب لیمونین ہے اور جب یہ کیمیائی رد عمل سے گزرتا ہے تو یہ فارمل ڈیہائیڈ پیدا کر سکتا ہے جس سے ایک معروف سرطان پیدا ہوتا ہے۔کچھ لوگ چند صفائی کی مصنوعات کو اس خیال کے تحت استعمال کرتے ہیں کہ وہ صحت مند ہیں۔ لیکن اس بارے میں کچھ عمومی خیالات موجود ہیں کہ یہ اجزاء کیا ہو سکتے ہیں۔ ان میں پانی، سٹرک ایسڈ، نمک، بیکنگ سوڈا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے یہ کوئی حتمی نسخہ نہیں ہے، اور اس بارے میں معلومات کا فقدان ہے کہ کس طرح فعال اجزا کو محفوظ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔سائنسدانوں کو یہ خدشات بھی ہیں کہ اینٹی بیکٹیریل صفائی کی مصنوعات کا وسیع استعمال اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت میں حصہ ڈال رہا ہے کیونکہ اس کے استعمال سے بیکٹیریا اینٹی بائیوٹکس کے خلاف دفاعی قوت پیدا کرتے ہیں، جس سے بعض انفیکشنز کے خلاف ان کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین سکول آف پبلک ہیلتھ میں ایپیڈیمولوجی کی پروفیسر ایلین لارسن کا کہنا ہے کہ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اینٹی بیکٹیریل مصنوعات کا استعمال بعض اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ کراس ری ایکشن کا سبب بن سکتا ہے۔Getty Imagesصفائی کرنے والی مصنوعاتلارسن کا کہنا ہے کہ ’نتیجتاً نظریاتی طور پر نامیاتی اجسام کے خلاف ہمارے مدافعتی نظام کے عمل کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔‘لارسن نے مزید کہا کہ اس کی وضاحت حفظان صحت کے اس مفروضے سے کی جا سکتی ہے جس میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ کم عمری میں بچے جتنے زیادہ بیکٹیریا، وائرس اور دیگر جرثوموں کا سامنا کرتےہیں ان کا مدافعتی نظام اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں سائنسدانوں کی طرف سے اس نظریہ کی درستگی کے بارے میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔لارسن نے اپنا کریئر اینٹی بیکٹیریل مزاحمت کا مطالعہ کرنے کے لیے وقف کیا ہوا ہے اور سنہ 2007 میں انھوں نے اینٹی مائکروبیل صابن اور گھریلو صفائی کی مصنوعات سے انسانوں کے ایکسپوژر کے حوالے سے اپنے بڑھتے ہوئے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک تحقیق کی۔ لارسن یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا اینٹی بیکٹیریل کا دعوی کرنے والی مصنوعات کے استعمال سے صحت کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ انھوں نے مینہیٹن میں رہنے والے 238 خاندانوں کو ریڈم یعنی کسی اصول کے بغیر کچن سپرے اورسرفیس کلینر (جواینٹی بیکٹیریل، یا اینٹی بیکٹیریل اجزا سے پاک تھے) دیے۔ یہ سب کلینرعام مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ لیکن یہ مصنوعات دینے سے پہلے انھوں نے لیبل ہٹا دیے اور اس کے بعد لارسن نے تقریباً ایک سال تک ہر ہفتے اس تجربے میں شامل شرکا کی نگرانی کی اور انھوں نے سانس کی وائرل علامات (فلو، نزلہ، کھانسی اور ناک بہنا) کے متعلق جو باتیں بتائیں انھیں نوٹ کیا۔تحقیقی مطالعہ کے اختتام پر لارسن نے شرکا کے دو گروہوں کے درمیان سانس کی علامات میں کوئی فرق نہیں پایا۔ بالآخر اس سے انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ آیا ان کے لانڈری، نہانے اور کسی سطح کے کلینر میں اینٹی بیکٹیریل اجزاء موجود ہیں یا نہیں۔انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت اچھا ثبوت تھا اور سب سے اہم چیز سطح اور کپڑے کے درمیان، صفائی کے عمل کی وجہ سے پیدا ہونے والی رگڑ تھی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیا کسی پروڈکٹ پر اینٹی بیکٹیریل کا لیبل لگا ہوا ہے یا نہیں۔‘دیگر مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ نان بیکٹیریل صابن سے نہانے اور شاور لینے سے جلد کے بیکٹیریا ہمارے اردگرد کی ہوا میں پھیلتے ہیں اور لارسن کہتی ہیں کہ اسی طرح اپنے گھروں کو صاف کرتے ہوئے بھی ہو سکتا ہے۔Getty Images یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا مشورہ ہے کہ ہاتھ دھونے کی ترغیب سب سے زیادہ موثر ہے، اور ایسی کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ اینٹی بیکٹیریل صابن کسی عام صابن اور پانی سے زیادہ موثر ہے۔تاہم لارسن نے اپنے مطالعہ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انفیکشن کی وہ اقسام جو گھریلو صفائی ستھرائی سے متاثر ہوتی ہیں، جیسے کہ معدے کی بیماری، اصل میں بیکٹیریا کی وجہ سے ہو سکتی ہیں اور یہ کہ مطالعہ میں منتخب کردہ مصنوعات میں اینٹی وائرل خصوصیات کا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے۔لارسن کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اینٹی بیکٹیریل مصنوعات ہمیشہ وائرس کو نہیں روکتی ہیں، جو ہوا کے ذریعے پھیل سکتے ہیں اور اکثر سانس کے انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے جسم کے باہر کی چیزیں فلو یا زکام اور بخار میں سانس لینے سے زیادہ آلودگی کا باعث نہیں بنتی ہیں۔‘وہ اپنے مقالے میں لکھتی ہیں کہ اینٹی بیکٹیریل صفائی کی مصنوعات کے استعمال کے کسی بھی ممکنہ فائدے کو اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے نظریاتی خطرے کے خلاف دیکھا جانا چاہیے۔ شیفیلڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 'سافٹ' کلینزر، جو اینٹی بیکٹیریل اجزاء کے بغیر ہیں، وہ کورونا وائرس سمیت ’کورڈ‘ وائرس کو مار سکتے ہیں۔Getty Imagesصفائی نہ کرنے سے کرنا زیادہ بہتر ہےتو ہمیں اپنے گھروں کو کیسے صاف کرنا چاہیے؟کارسلا کا کہنا ہے کہ سائنس دان گھریلو صفائی کی مصنوعات اور ہماری صحت کے درمیان کے روابط کے پس پشت کام کرنے والے عوامل کو نہیں جانتے ہیں، لیکن عام مشورہ یہ ہے کہ ہم ان سے خود کو کم سے کم ایکسپوز کریں، اور انھیں صرف جتنی بار ضرورت ہو استعمال کریں۔مثال کے طور پر امریکی پھیپھڑوں کی ایسوسی ایشن کمرے، کچن یا دوسرے حصوں کو اچھی طرح سے ہوا دار رکھنے اور جلن پیدا کرنے والے اجزا کے استعمال سے بچنے کا مشورہ دیتی ہے۔کارسلا کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی آپ کو صفائی نہ کرنے کا مشورہ نہیں دے گا، کیونکہ صفائی سے بیماریوں کو کم کرنے میں بہت زیادہ مدد ملی ہے، کیونکہ 50 سال پہلے کے مقابلے ان میں کمی آئی ہے۔تاہم، ہمیں ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم جس کمرے کی صفائی کر رہے ہیں اس میں اچھی وینٹیلیشن موجود ہے جیسے اس میں کھڑکی کھلتی ہو۔وہ کہتی ہیں کہ ہماری صحت کے لیے خطرے کو کم کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ سپرے کے بجائے مائع کلینرز کا استعمال کیا جائے۔وہ کہتی ہیں کہ ’سپرے کسی پروڈکٹ میں موجود کیمیکلز کو ہوا میں موجود آبی ذرات میں تبدیل کرنے کا کام کرتا ہے جن کا سانس سے ذریعے جسم میں داخل ہونا آسان ہے جبکہ مائع مصنوعات کے استعمال میں آپ کے ساتھ ویسا نہیں ہوتا۔‘کارسلا یہ بھی مشورہ دیتی ہیں کہ ایسے کلینرز کو کم کر دیں جن میں بہت سی خوشبوئیں ہوتی ہیں، کیونکہ اس سے عام طور پر ان میں ایسی مصنوعات کا امکان بڑھ جاتا ہے جو ہماری سانس لینے کے ذرائع میں خلل ڈال دیتے ہیں۔اتفاق رائے یہ ہے کہ اپنے گھروں کو بالکال نہ صاف کرنے کے مقابلے میں گھروں کو صاف کرنا یقینی طور پر زیادہ محفوظ ہے۔اور اس تحقیق کے ساتھ کہ ’گرین پروڈکٹس‘ یا 'قدرتی' مصنوعات سے بھی کچھ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، شاید ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ صفائی کے دوران کسی سطح پر ہاتھ سے کی جانے والی رگڑئی بھی اتنی ہی مؤثر ہے جتنی کہ ہماری منتخب کردہ صفائی کی مصنوعاتکیونکہ جب ہم سطحوں کو صاف کرتے ہیں تو رگڑ پیدا ہونے سے بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔برتن دھونے والے سپونج پر ’انسانی فضلے کے برابر جراثیم‘: اسے صاف کیسے رکھا جائے اور کتنے عرصے بعد بدلا جائے؟کیا فلٹر کا ’صاف‘ پانی واقعی نلکے کے پانی سے بہتر ہوتا ہے؟’موت سے پہلے صفائی‘: مرنے کے بعد پیچھے رہ جانے والوں کو مشکل سے بچانے کا سویڈش طریقہعید الاضحیٰ: فریج کی صفائی اور گوشت کو محفوظ رکھنے کے سستے اور آزمودہ نسخےآپ کے منھ میں موجود بیکٹیریا جو بڑی آنت کے کینسر سمیت تین دیگر بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہےوہ ملک جہاں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ویٹر اور ڈرائیور تک بن جاتے ہیں: ’گریجویٹ کرتے ہی آپ بے روزگار ہو جاتے ہیں‘