
Getty Imagesامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد ممالک سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف (ٹیکس) کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور ان ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے، جس پر 29 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔ یہ نئی شرح تقریباً 100 ممالک کو متاثر کرے گی، جن میں سے 60 ممالک کو زیادہ درآمدی ٹیکس کا سامنا کرنا ہو گا۔بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ تمام ممالک پر ’کم سے کم‘ 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ امریکی معیشت کی ’بحالی میں مدد‘ حاصل کی جا سکے۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ 5 اپریل سے 10 فیصد ٹیرف وصول کرنا شروع کر دے گا جبکہ بعض ممالک کے لیے زیادہ ڈیوٹی کا نفاذ 9 اپریل سے ہو گا۔تاہم امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں اپنی اشیا امریکہ میں تیار کرتی ہیں ان پر کسی بھی قسم کا ٹیرف عائد نہیں کیا جائے گا۔ ’اگر آپ اپنی مصنوعات یہاں امریکہ میں بناتے ہیں تو آپ پر ٹیرف کا اطلاق نہیں ہو گا۔‘ٹرمپ اپنے خطاب کے دوران ایک بورڈ بھی ہاتھ میں تھامے ہوئے نظر آئے جس کے مطابق برطانیہ سے امریکہ میں درآمد کی جانے والی اشیا پر 10 فیصد جبکہ یورپی یونین کے ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 20 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ درآمد کی جانے والی غیرملکی کاروں پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔فچ ریٹنگ ایجنسی میں امریکی اقتصادی تحقیق کے سربراہ اولو سونالو نے نئے ٹیرف کو نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی معیشت کے لیے ’گیم چینجر‘ قرار دیا۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ’بہت سے ممالک ممکنہ طور پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔‘آئی ایم ایف کے ماہر اقتصادیات کین روگوف نے ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرایا ہے۔‘امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد ایشیا کے مختلف ممالک میں جمعرات کے روز آغاز پر ہی مارکیٹس مندی کا شکار نظر آئیں۔دوسری جانب امریکی سٹاک مارکیٹ صدر کی جانب سے اس اعلان تک تجارت کے لیے بند رہی، جسے ٹرمپ نے اپنے ملک کے لیے ’یوم آزادی‘ قرار دیا۔واضح رہے کہ کینیڈا اور میکسیکو کے حوالے سے امریکہ نے نئے ٹیرف کا اعلان نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق وہ دونوں ممالک کو پچھلے ایگزیکٹو آرڈر میں طے شدہ فریم ورک کا استعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف (ٹیکس) عائد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں کچھ چھوٹ کا اعلان بھی کیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا امریکی امداد بند کرنے کا فیصلہ: پاکستان کس حد تک متاثر ہو گا؟40 سال قبل جاپان کا وہ دورہ جس نے ٹرمپ کی آج کی تجارتی پالیسی تشکیل دیٹرمپ کی برکس ممالک کو ’دھمکی‘ لیکن کیا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی لے سکتی ہے؟ٹرمپ کی ’ٹیرف وار‘ جس سے انڈیا کو دیگر ملکوں کی نسبت ’زیادہ نقصان‘ کا خدشہ ہےکس ملک پر کتنا ٹیرف عائد کیا گیا؟چین پر 34 فیصدویتنام پر 46 فیصدتائیوان پر 32 فیصدجاپان پر 24 فیصدانڈیا پر 26 فیصدجنوبی کوریا پر 25 فیصدتھائی لینڈ پر 36 فیصدملیشیا پر 24 فیصدکمبوڈیا پر 49 فیصدبنگلہ دیش پر 37 فیصدسنگاپور پر 10 فیصدفلپائنز پر 17 فیصدپاکستان پر 29 فیصدسری لنکا پر 44 فیصدمیانمار پر 44 فیصداس کے علاوہ امریکی صدر نے یورپی یونین کے ممالک پر 20 فیصد، کوسووہ پر 10 فیصد، سوئٹزرلینڈ پر 31 فیصد، برطانیہ پر 10 فیصد، ناروے پر 15 فیصد، یوکرین پر 10 فیصد اور سربیا پر 37 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔وائٹ ہاؤس کی ریپڈ رسپانس ٹیم نے دیگر ممالک پر عائد کیے جانے والے ٹیرف کی تفصیلات اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کر دی ہیں۔ٹیرف یا درآمدات پر ٹیکس کیا ہے؟ٹیرف اندورن ملک عائد کیا جانے والا ٹیکس ہے جو بیرون ممالک سے امریکہ پہنچنے والے سامان تجارت پر عائد کیا جاتا ہے اور اس کا نفاذ درآمدات کی قیمت کے تناسب سے ہوتا ہے۔یہ رقم ملک میں موجود اُس کمپنی کو ادا کرنی ہوتی ہے جو یہ سامان بیرون ممالک سے درآمد کرتی ہے نہ کہ وہ غیر ملکی کمپنی جو اس سامان کو برآمد یا ایکسپورٹ کرتی ہے۔ لہٰذا اس لحاظ سے، یہ ایک ڈائریکٹ ٹیکس ہے جو مقامی امریکی کمپنیوں کی جانب سے امریکی حکومت کو ادا کیا جاتا ہے۔سنہ 2023 کے دوران امریکہ نے دنیا بھر سے لگ بھگ 3.1 کھرب ڈالر کی مصنوعات درآمد کیں جو امریکی جی ڈی پی کے تقریباً 11 فیصد کے مساوی ہے اور ان درآمدات پر عائد محصولات کی مد میں امریکی حکومت نے اس دورانیے میں 80 ارب ڈالر کمائے، جو کل امریکی ٹیکس محصولات کا تقریباً دو فیصد ہے۔تو یہ سوال اہم ہے کہ اس نوعیت کے ٹیکس یا ٹیرف کا حتمی ’معاشی‘ بوجھ کہاں پڑتا ہے؟ یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔اگر بیرون ممالک سے سامان درآمد کرنے والی کمپنیاں ٹیکس کی صورت میں عائد ہونے والی نئی قیمت کا اطلاق اُن صارفین پر کرتی ہیں جو یہ مصنوعات خریدتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سب کا بوجھ امریکی صارفین کو ہی سہنا پڑے گا اور اگر امریکی درآمدی کمپنیاں یہ نیا اضافی ٹیکس خود برداشت کرتی ہیں تو اس کا نتیجہ کمپنیوں کو کم منافع کی صورت میں نکلے گا۔ایک تیسری صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ غیرملکی برآمد گنندگان اپنے امریکی گاہکوں کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی اشیا کی قیمتیں کم کرتے ہیں تو اس صورتحال میں برآمدات کرنے والی فرم کو کم منافع کی شکل میں اس ٹیکس کا معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔یہ تینوں منظر نامے ممکن ہیں۔ ٹرمپ کے سابقہ دور حکومت میں سنہ 2017 سے سنہ 2020 کے درمیان برآمدی اشیا پر عائد کیے گئے اضافی ٹیکس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں زیادہ تر معاشی بوجھ بالآخر امریکی صارفین یعنی عام امریکی شہری کو ہی برداشت کرنا پڑا۔ستمبر 2024 میں شکاگو یونیورسٹی کے ایک سروے میں ماہرین اقتصادیات کے ایک گروپ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ اس بیان سے متفق ہیں کہ ’محصولات یا اضافی ٹیکس عائد کرنے کے نتیجے میں پڑنے والے معاشی بوجھ کا ایک بڑا حصہ امریکہ کے عام صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جو قیمتوں میں اضافے کی شکل میں یہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔‘98 فیصد ماہرین اقتصادیات اس خیال سے متفق تھے جبکہ صرف دو فیصد نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا۔Getty Imagesکیا اس اقدام سے تجارتی خسارہ بڑھے گا؟سنہ 2016 میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل اشیا اور سروسز کا خسارہ 480 ارب ڈالر تھا جو امریکی جی ڈی پی کا تقریبا 2.5 فیصد ہے۔ 2020 تک یہ بڑھ کر 653 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو جی ڈی پی کا تقریباً تین فیصد ہے۔ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس کی ایک وضاحت یہ ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ محصولات نے امریکی ڈالر کی عالمی قدر میں اضافہ کیا (یعنی عالمی تجارت میں غیر ملکی کرنسیوں کی طلب کو خود بخود کم کر کے) اور اس سے امریکی ایکسپورٹرز کی مصنوعات عالمی سطح پر کم مسابقتی بن گئیں۔تجارتی خسارے کو ختم کرنے میں اس ناکامی کے پیچھے ایک اور عنصر یہ ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ عالمی معیشت میں ٹیرف کو کبھی کبھی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے سنہ 2018 میں چین سے درآمد شدہ سولر پینلز پر 30 فیصد محصولات عائد کیے تھے۔امریکی محکمہ تجارت نے سنہ 2023 میں اس بات کے ثبوت پیش کیے تھے کہ چینی سولر پینل مینوفیکچررز نے اپنے اسمبلی آپریشنز کو ملائیشیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویتنام جیسے ممالک میں منتقل کیا تھا اور پھر ان ممالک سے تیار شدہ مصنوعات کو امریکہ بھیجا تھا۔کچھ ماہرین اقتصادیات امریکی صنعت کو فروغ دینے کے اقدام کے طور پر ٹرمپ کے محصولات کے منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں جیسے لابی گروپ ’کولیشن فار اے پراسپرس امریکہ‘ سے منسلک جیف فیری لیکن یہ حمایت کرنے والے اقلیت میں ہیں۔قدامت پسند تھینک ٹینک ’امریکن کمپس‘ کے ڈائریکٹر اورین کاس کا کہنا ہے کہ محصولات سے امریکی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے کہ وہ امریکہ میں ہی مینوفیکچرنگ کریں۔ اس سے قومی دفاع اور ترسیل میں تحفظ جیسے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔نئی تجارتی جنگ کا خدشہ: ٹرمپ کی جانب سے درآمدات پر عائد ٹیکس امریکہ کی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟صرف بیان بازی یا حقیقت۔۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا، گرین لینڈ اور پانامہ کینال پر ’قبضے‘ کی دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں؟ٹرمپ انتظامیہ کا امریکی امداد بند کرنے کا فیصلہ: پاکستان کس حد تک متاثر ہو گا؟ٹرمپ کی برکس ممالک کو ’دھمکی‘ لیکن کیا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی لے سکتی ہے؟ٹرمپ کی ’ٹیرف وار‘ جس سے انڈیا کو دیگر ملکوں کی نسبت ’زیادہ نقصان‘ کا خدشہ ہے40 سال قبل جاپان کا وہ دورہ جس نے ٹرمپ کی آج کی تجارتی پالیسی تشکیل دی