
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیرف کے اعلان پر امریکہ کے بڑے شراکت داروں کی جانب سے ابتدائی طور پر نپا تُلا ردعمل سامنے آیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی جن کو صدر ٹرمپ کے کافی قریب سمجھا جاتا ہے، نے یورپی یونین کے خلاف 20 فیصد ٹیرف کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کسی کا بھی فائدہ نہیں۔‘انہوں نے تجارتی جنگ سے بچنے کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ بھی دیا۔انہوں نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا کہ ’ہم امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جو بھی ہو سکا کریں گے تاکہ تجارتی جنگ سے بچا جا سکے کیونکہ اس سے مغرب دوسرے عالمی کھلاڑیوں کے مقابلے میں کمزور ہو گا۔‘ان کے مطابق ’معاملہ کوئی بھی ہو، ہم ہمیشہ کی طرح وہی کریں گے جو اٹلی اور اس کی معیشت کے لیے بہتر ہو اور یورپی یونین کے شراکت داروں کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔‘امریکی صدر کی جانب سے درآمدی ٹیکس پیش کیے گئے ہیں جن کو باہمی محصول کا نام دیتے ہیں اور یہ 10 سے لے 49 فیصد تک ہیں۔ٹرمپ نے اس کا آسان الفاظ میں یہ بتایا ہے کہ ’امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ وہی کرے گا جو وہ دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ کر رہے ہیں۔‘ٹرمپ کے اعلان کے تھوڑی دیر بعد برطانوی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ امریکہ برطانیہ کا قریبی اتحادی رہے گا۔بزنس سیکریٹر جوناتھن رینولڈز کا کہنا تھا کہ ’یو کے کو امید ہے کہ وہ ایسے معاہدے تک پہنچ جائے گا جس کی بدولت دس فیصد ٹیرف کے اثرات کم ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی تجارتی جنگ نہیں چاہتا اور ہماری توجہ کسی معاہدے تک پہنچنے پر مرکوز رہے گی اور حکومت سے جو بھی بن پایا ملک کے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے کرے گی۔‘میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے امریکی مصنوعات پر ممکنہ طور پر ٹیرف لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹیرف کے بدلے میں کوئی جوابی قدم نہیں اٹھائیں گے۔میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام کا کہنا ہے کہ وہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کریں گی کہ اس نئے ٹیرف سے ان کا ملک متاثر ہو گا یا نہیں۔ایک نیوز بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ’سوال یہ نہیں ہے کہ آپ میرے اوپر ٹیرف لگاتے ہیں، میں آپ پر ٹیرف عائد کرنے جا رہی ہوں، ہماری دلچپسی صرف میکسیکو کی معیشت کو مضبوط کرنے میں ہے۔‘کینیڈا جواباً امریکہ پر ٹیرف عائد کر چکا ہے، جبکہ یورپی یونین بھی کچھ ایسا ہی قدم اٹھا چکا ہے۔بدھ کو اعلان کے موقع پر ٹرمپ نے ان ممالک کے نام بھی بتائے جو نئے ٹیرف کی زد میں آئیں گے۔انہوں نے جوابی اقدام کرنے والے ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں ان کو اس پر الزام نہیں دوں گا کیونکہ ایسا انہوں نے اپنے ملک کی معیشت کے لیے کیا، مگر اب ہم بھی یہی اقدام کرنے جا رہے ہیں۔‘دوسری جانب تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تجارتی جنگ بہت کم فائدہ ہو گا، تاہم یہ امریکہ کو ہو گا نہ ہی ان ممالک کو جو جوابی ٹیرف لگا رہے ہیں۔اٹلی انسٹیٹیوٹ آف انٹرنینشل پالیٹکس میٹیو ویلا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپ کو دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔اگر ٹرمپ واقعی زیادہ ٹیرف لگاتے ہیں تو یورپ کو جواب دینا پڑے گا تاہم اس کا فائدہ اس میں ہے کہ کچھ نہ کرے۔