
بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے اور لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کے لیے ماہانہ بل ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔خاص طور پر تنخواہ دار اور مزدور طبقے کے لیے ماہانہ یوٹیلٹی بلز کی رقم کا بندوبست ایک مستقل آزمائش ہے اور ان کی تکلیف ایسے علاقوں میں بڑھ جاتی ہے جہاں گھنٹوں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ بھی ہوتی ہو۔ان حالات میں متوسط طبقے کی بڑی تعداد توانائی کے متبادل ذرائع یعنی سولر انرجی کی طرف منتقل ہوئی ہے لیکن لوئر مڈل کلاس اور اس سے بھی نچلے طبقے کے لیے یہ سولر سسٹم لگوانا اب بھی مہنگا کام ہے کیونکہ اس کے لیے یکمشت بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سولر مصنوعات کے تاجر شیخ عبدالاحد کے مطابق اب مارکیٹ میں ایسے حل آ گئے ہیں جس سے کم آمدنی والے افراد بھی بہتر فنانشل مینیجمنٹ کے ذریعے سولر سسٹم حاصل کر سکتے ہیں جس سے ان کی ماہانہ بل سے جان چھوٹ جائے گی اور اسی رقم سے واہ اپنا ذاتی سولر سستم خرید سکیں گے۔شیخ عبدالاحد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایک اوسط گھر کے لیے تین کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کرانے میں چار سے پانچ لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے جس کی ادائیگی اب بینکوں کے علاوہ نجی اداروں کی ماہانہ قسط سکیموں کے ذریعے با آسانی کی جا سکتی ہے۔‘ان سکیموں کے تحت صارفین کو چند بنیادی شرائط پوری کرنے کے بعد سولر پینل مل جاتا ہے اور وہ ہر ماہ ایک مخصوص رقم ادا کرتے ہیں، جو بجلی کے بل سے کہیں کم ہوتی ہے۔شیخ عبدالاحد کے مطابق ’قسطوں پر سولر سسٹم حاصل کرنے کے لیے صارفین کو سب سے پہلے کسی بینک یا کمپنی سے رابطہ کرنا ہوتا ہے، جہاں مختلف مالیاتی ادارے اور کمپنیاں اپنی سکیمز کی تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔‘زیادہ تر ادارے درخواست گزار سے ماہانہ آمدنی کا ثبوت طلب کرتے ہیں تاکہ اس کی ادائیگی کی صلاحیت کی تصدیق کی جا سکے۔کچھ کمپنیوں میں 20 سے 30 فیصد یا طے شدہ فارمولے کے مطابق ابتدائی ادائیگی درکار ہوتی ہے جبکہ باقی رقم آسان قسطوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق سولر توانائی بجلی کے بحران کا ایک مؤثر اور پائیدار حل ثابت ہو سکتی ہے (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)سولر سسٹم کی تنصیب کے بعد نیٹ میٹرنگ کا عمل مکمل کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں بھیجی جا سکتی ہے۔ یوں صارفین کو نہ صرف بجلی کے اخراجات میں کمی بلکہ ممکنہ مالی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔یونائیٹڈ سولر ایسوسی ایشن کے رہنما آفتاب میمن کا کہنا ہے کہ ’قسطوں پر سولر فراہمی کے ان منصوبوں کی بدولت پاکستان میں سولر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ صارفین کو اس کا فائدہ ہو رہا ہے۔‘آفتاب میمن کے خیال میں حکومت کی پالیسیوں میں عدم استحکام اور آئے روز نیٹ میٹرنگ اور صارفین سے حاصل کی جانے والی بجلی کے نرخوں کے متعلق منفی اعلانات سے لوگوں میں اس کی افادیت کے بارے میں شکوک بڑھ جاتے ہیں۔’کئی صارفین نے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری اس امید پر کی تھی کہ سولر سسٹم سے انہیں طویل مدتی فائدہ ہو گا مگر حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں تبدیلی سے صارفین کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘ماہرین کے مطابق سولر توانائی بجلی کے بحران کا ایک مؤثر اور پائیدار حل ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے عام آدمی کی دسترس میں آنے کے لیے مزید حکومتی اقدامات اور پالیسیوں میں استحکام ضروری ہے۔