
جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے ملک میں مارشل لا لگانے والے صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی توثیق کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کر دیا ہے جس کے بعد نئے صدارتی انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔فرانسیسی خبر رساں دارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو متفقہ فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے ججز کو اضافی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔64 سالہ یون سک کی جانب سے تین دسمبر کو سویلین حکومت کو معطل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ پارلیمان میں مسلح اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ بعدازاں ان کو بغاوت کے مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔لاکھوں شہریوں نے عدالتی فیصلہ ٹی وی سکرینوں پر براہ راست دیکھا اور یہ کارروائی ملک کی میسجنگ ایپ کاکاؤ ٹاک پر بھی نشر کی گئی جو بہت زیادہ ٹریفک کی وجہ سے ڈاؤن بھی رہی۔عدالت کے قائم مقام صدر مون ہیونگ بائے نے فیصلے میں کہا کہ ’آئینی خلاف ورزیوں اور ان کے سنگین نتائج کے پیش نظر یون سک کو برطرف کیا جاتا ہے۔‘یون سک یول کو ہٹائے جانے کے فیصلے کے بعد نئے صدارتی انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے جن کا 60 روز کے اندر منعقد کروایا جانا لازمی ہے۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان اگلے چند روز میں کیا جائے گا۔مقدمے کی سماعت کرنے والے تمام ججوں نے متفقہ طور پر صدر کو برطرف کرنے کا فیصلہ سنایا ہے، جن کو پولیس کی جانب سے اضافی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔فیصلے کے وقت اے ایف پی کے رپورٹرز نے یون کے حامیوں کو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے سنا۔ججز نے فیصلے میں کہا کہ ’یون کے اقدامات سے قانون کی حکمرانی، مقامی انتظامی امور اور تمام ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی۔‘مارشل لا لگائے جانے کے خلاف کورین عوام نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا (فوٹو: روئٹرز)فیصلے کے مطابق اراکین پارلیمان کے حکم نامے پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے پارلیمان میں مسلح فوجیوں کا بھجوایا جانا ’فوج کے سیاسی لحاظ سے غیرجانبدار ہونے کی خلاف ورزی ہے۔‘ججز کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’سیاسی مقاصد کے لیے فوج کو تعینات کیا۔‘فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’یون کی جانب سے کیے جانے والے اقدام عوام کے اعتماد میں خیانت اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘فیصلے کے وقت حزب اختلاف کے قانون سازوں نے تالیاں بجائیں اور اس کو ایک ’تاریخی‘ موقع قرار دیا جبکہ یون کی پارٹی کے قانون ساز اُس وقت عدالت سے باہر نکل گئے۔یون سک یول جنوبی کوریا کے دوسرے صدر ہیں جن کے خلاف مواخذے کی عدالت کی جانب سے توثیق کی گئی۔ پہلی بار ایسی ہی کارروائی 2017 میں سابق صدر پارک گیون ہائے کے خلاف بھی ہوئی تھی۔کئی ہفتوں کی کشیدہ سماعتوں کے بعد ججز نے کیس پر غور کرنے کے لیے ایک ماہ سے زائد کا وقت لیا جس کی وجہ سے ملک میں بے چینی کی فضا قائم رہی۔یون سک یول کی برطرفی کے بعد ملک میں انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)جمعے کو پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے اور عدالت کے باہر سخت سکیورٹی حصار قائم کیا گیا اور قریبی علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں بھی تعینات کی گئیں۔عدالتی فیصلہ سنائے جانے کے بعد یون سک یول کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے نعرے بازی جبکہ چند کو خوشی سے روتے ہوئے دیکھا گیا۔25 سالہ شہری کم من جی کا کہنا تھا کہ ’جب برطرفی کا اعلان کیا گیا تو سب نے مل کر کہا کہ آج ہم شہری جیت گئے۔‘دوسری جانب یون سک یول کے حامی ان کی رہائش گاہ کے باہر اکھٹے ہوئے ہوئے اور فیصلے کی مخالفت میں نعرے بازی کی۔