
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک فین ہونے کے ناتے گذشتہ کچھ عرصے سے شدید مایوسی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی میں پاکستانی ٹیم ہمیشہ نہیں جیتتی رہی، کئی بار ناکامیاں ہوئیں، مگر بہرحال پاکستان کی ایک بڑی اور خاصی مضبوط ٹیم تھی، جس میں کئی ورلڈ کلاس کھلاڑی شامل رہے ہیں۔مخالف ٹیمیں پاکستانی ٹیم کو کبھی انڈرایسٹیمیٹ نہیں کرتی تھیں، یہ تاثر عام تھا کہ پاکستانی ٹیم کسی بھی دن کچھ بھی کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اکثر ورلڈ کپ سے پہلے دنیا کے نامور کھلاڑی اپنی پیش گوئی کرتے ہوئے پاکستان کو سیمی فائنل تک جگہ ضرور دیتے۔آج کل پاکستانی ٹیم کی جو کارکردگی سامنے آرہی ہے، اسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کسی بھی ٹورنامنٹ سے قبل ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیا نتائج آئیں گے؟ پاکستان ٹاپ سکس میں بھی نہیں آپاتا۔چیمپئنز ٹرافی میں جو حال ہوا اور اب نیوزی لینڈ میں جس بُری طرح پاکستانی ٹیم میچز ہاری ہے، اسے دیکھنے والے کو تو پاکستانی ٹیم پر ترس ہی آرہا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جب ہمارے بولرز کی دُھنائی ہو رہی ہوتی ہے تو لگتا ہے پچ بیٹنگ ہے، مگر جب پاکستانی بلے باز میدان میں اُترتے ہیں تو ان کی کارکردگی دیکھ کر لگتا ہے پچ اچانک ہی مشکل اور ناسازگار بن گئی۔مجھے یوں لگتا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں بعض بنیادی نوعیت کی خامیاں ہیں جو اگر دُور نہیں کی گئیں تو اعلٰی پائے کی ٹیم بننے میں مشکل پیش آتی رہے گی۔کوچنگ: سب سے بڑی کمزوری اور خامی کوچنگ میں نظر آرہی ہے۔ دراصل پاکستان نے اس حوالے سے بہت زیادہ تجربے بلکہ ناکام ایڈونچر کیے ہیں۔ ایک بار وقار یونس نے ٹی وی پروگرام میں کہا کہ ’پاکستانی ٹیم کی کوچنگ اور موبائل فون کی بیٹری ایک جیسی ہے، دو سال کے بعد اس نے خراب ہونا ہی ہے۔ اسے بدلنا ہی پڑے گا۔‘بدقسمتی سے یہ عرصہ مزید کم ہوچکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کرکٹ بورڈ میں پے درپے آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ جیسے ہی کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ تبدیل ہوتی ہے، فوری طور پر قومی ٹیم کے کوچز بھی تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔اِن پے درپے تیز رفتار تبدیلیوں کا یہ نقصان ہے کہ جو بھی کوچ آئے، وہ مستقبل کی ٹیم تیار کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اسے معلوم ہے کہ تھوڑا وقت ملے گا، جو کرنا ہے اپنے آج پر فوکس کرو۔ مستقبل ہمارا دردِسر نہیں۔اہل اور بہتر کھلاڑیوں کی موجودگی میں ہلکے پلیئرز کھیلیں گے تو نتائج بُرے ہی آئیں گے (فوٹو: اے ایف پی)اُصولی طور پر کوچ سوچ سمجھ کر رکھنا چاہیے، جدید تقاضوں کی کرکٹ کو سمجھنے والا، جس کے پاس مستقبل کا ویژن ہو، اسے پھر کم سے کم دو سے تین سال کا وقت ملے تاکہ وہ چاہے تو اپنی ٹیم کے لیے نئے کھلاڑی تیار کر سکے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو بھی دو سال کا مینڈیٹ دیا جائے اور کسی شکست سے گھبرا کر اسے بدلنا نہیں چاہیے۔ سلیکشن کمیٹی کوچ کے ساتھ مل کر حال اور مستقبل کی حکمت عملی بنائے۔ جہاں ضرورت ہے، وہاں نیا کھلاڑی گروم کیا جائے، اسے بڑے ٹورنامنٹ سے پہلے کچھ تجربہ ملے تاکہ وہ چیلنج آنے پر اچھا کھیل سکے۔بہترین ٹیم نہ کھلانا: پچھلے کچھ عرصے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی بہترین ٹیم ٹورنامنٹس میں نہیں کھیل پا رہی۔ یہ سلیکشن کمیٹی کا قصور ہے، اکثر بہترین کھلاڑی کی جگہ پر قدرے کمزور اور عدم تسلسل کا شکار کھلاڑی کھلا دیا جاتا ہے۔یا پھر ایسا کھلاڑی جو کئی بار ناکام ہو چکا ہے اور اس کی پرفارمنس میں دم نہیں۔ زیادہ اہل اور زیادہ بہتر کھلاڑیوں کی موجودگی میں ہلکے پلیئرز کھیلیں گے تو نتائج ظاہر ہے بُرے ہی آئیں گے۔مثال کے طور پر ابرار احمد جیسے اچھے سپنر کو دو ورلڈ کپ مقابلوں میں ٹیم کے ساتھ رکھا گیا مگر کپتان بابراعظم نے ایک میچ بھی نہیں کھلایا۔ابرار احمد کی جگہ پر اوسط سے بھی کم درجے کی پرفارمنس دینے والے شاداب خان کو کھلایا جاتا رہا (فائل فوٹو: اے ایف پی)اس کی جگہ پر اوسط سے بھی کم درجے کی پرفارمنس دینے والے شاداب خان کو کھلایا جاتا رہا۔ حسن علی کو ہلکی کارکردگی کے باوجود کئی بار مواقع ملے۔ کبھی فہیم اشرف کو کھلایا جاتا رہا۔ اُن سے بہتر بولنگ کرانے والے عباس آفریدی کو مواقع نہیں ملے۔ آج ڈیبیو کرنے والے عاکف جاوید کی بولنگ دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ انہیں دو تین سال پہلے موقع ملنا چاہیے تھا۔ تب عاکف کی سپیڈ بھی زیادہ تھی۔ میر حمزہ کی ڈومیسٹک کارکردگی بہت اچھی رہی، مگر اسے بھی کم ہی موقع ملا۔سفیان مقیم کو موقع دیا تو سب کو اس کی مسٹری سپن بولنگ کا حقیقی اندازہ ہوا۔ حیرت ہوئی کہ اسے سال ڈیڑھ پہلے کیوں نہیں کھلایا گیا؟سفیان کی بدقسمتی تو یہ ہے کہ جنوبی افریقہ میں میچ وننگ بولنگ کے باوجود اسے چیمپئنز ٹرافی کے سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف صرف آخری ٹی20 کھلایا گیا، اس نے بڑی عمدہ بولنگ کرائی، مگر اسے پہلے ون ڈے سے پھر باہر رکھا گیا۔بیلنس ٹیم نہ کھلانا: یہ بڑی اہم اور بنیادی نوعیت کی کمزوری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹی20 اور ون ڈے کے لیے پاکستان کی بیلنس ٹیم نہیں کھیل رہی۔ دراصل ایک آئیڈیل یا اچھے کمبی نیشن کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے، پاکستانی ٹی میں ان کا فقدان رہا۔ اس کی دو مثالیں دیکھ لیں۔سفیان مقیم کو جنوبی افریقہ میں میچ وننگ بولنگ کے باوجود چیمپئنز ٹرافی کے سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)سٹرائیک ریٹ: ٹی20 میں اچھے اور تیز سٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیلنے والے بلے بازوں کی ضرورت ہے۔ کل 20 اوورز یعنی 120 گیندیں ہوتی ہیں۔ 20 اوورز میں 200 رنز یا 200 پلس رنز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک 140 سے 150 کے سٹرائیک ریٹ والے ٹاپ آرڈر بلے باز ہوں۔اسی طرح لوئر مڈل آرڈر میں ایسے پاور ہٹرز ہوں جو پندرہ بیس گیندوں پر پینتیس چالیس رنز یعنی 175 سے 200 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیل سکیں۔پاکستانی ٹیم کے ٹاپ آرڈر میں بابراعظم، رضوان دونوں بمشکل ایک 130 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلتے رہے جبکہ ہمارے پاس لوئر مڈل آرڈر (نمبر چھ، سات) پر تیز کھیلنے والے موثر بلے باز ہی نہیں تھے۔ کئی کھلاڑیوں کو موقع دیا جاتا رہا، آصف علی، اعظم خان، افتخار احمد، خوش دل شاہ، شاداب خان وغیرہ۔ یہ سب ناکام رہے، کسی سے ہٹنگ نہیں ہوتی تو کوئی ایک آدھ اچھی شاٹ کھیل کر آؤٹ ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ عرفان نیازی، طیب طاہر وغیرہ کو بھی کھلایا جا رہا ہے، مگر ایک بھی قابل اعتماد پاور ہٹر ٹیم میں نہیں۔پانچ سپیشلسٹ بولرز نہ ہونا: پاکستان نے اپنے کئی میچز اسی وجہ سے ہارے کہ ہم صرف چار مین بولرز کے ساتھ کھیلے اور پانچویں کا کوٹہ پارٹ ٹائم بولرز سے کرانے کی کوشش کی۔ نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلا۔ پاکستانی ٹیم نے کئی میچز اس وجہ سے ہارے کہ ہم صرف چار مین بولرز کے ساتھ کھیلے (فائل فوٹو: اے ایف پی) یہی غلطی ہم نے چیمپئنز ٹرافی میں کی۔ ہم نے پانچویں بولر کے لیے خوش دل شاہ، سلمان آغا پر بھروسہ کیا، یہ ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ انڈیا کے خلاف میچ میں یہ پارٹ ٹائم سپنرز بُری طرح ایکسپوز ہوئے۔نیوزی لینڈ کے خلاف آج پہلا ون ڈے میچ صرف اسی وجہ سے ہم ہارے۔ آج پاکستان نے پانچواں بولر کھلایا ہی نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سلمان آغا کی زبردست پٹائی ہوئی، مجبوراً باقی پانچ اوورز کرانے کے لیے عرفان نیازی سے بولنگ کرانا پڑی۔افسوسناک بات یہ ہے کہ عرفان نیازی نے کبھی فرسٹ کلاس میں بھی ون ڈے میچز میں بولنگ نہیں کرائی، اسے بھی خُوب پڑ گئیں۔ ان دونوں بولرز کے کرائے گئے 10 اوورز میں ایک 118 رنز بن گئے۔ یہ خوفناک تھا۔کسی بھی سپیشلسٹ بولر کو کھلایا جاتا تو زیادہ سے زیادہ دس اوورز میں ساٹھ، پینسٹھ رنز بنتے، یوں پاکستانی ٹیم کو پچاس ساٹھ کم رنز کا ہدف ملتا۔ ایسی صورت میں میچ جیتا جا سکتا تھا۔ پاکستان نے یہی غلطی آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں بھی کی تھی۔ تب حارث رؤف بہت اچھی فارم میں تھا، اس نے وکٹیں لے لیں اور پاکستانی ٹیم نے 40 اوورز میں مخالف کو آؤٹ کر لیا۔ ورنہ وہاں بھی میچ اگر آخر تک جاتا تو پاکستان یقینی ہار جاتا۔عاکف جاوید کی بولنگ دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ انہیں دو تین سال پہلے موقع ملنا چاہیے تھا (فوٹو: اے ایف پی)عاقب جاوید نجانے سفیان مقیم سے چِڑ گئے ہیں یا پھر ان کی اپنی کوئی خاص حکمتِ عملی ہے، ورنہ آج سفیان مقیم کو کھلانا چاہیے تھا۔ وہ مسٹری سپنر ہے، درمیانی اوورز میں اگر وکٹیں لے لیتا تو نیوزی لینڈ کی ٹیم 150 تک آؤٹ کی جا سکتی تھی۔ سفیان مقیم کو صرف اس لیے نہیں کھلایا گیا تاکہ ایک اضافی بلے باز کھلایا جا سکے۔ فائدہ مگر کیا ہوا؟پاکستان کو پانچ سپیشلسٹ بولرز کے ساتھ جانا ہوگا۔ اس کے بغیر کسی اچھی ٹیم کو ہرانا ناممکن ہے۔ پارٹ ٹائم سپنر چھٹا، ساتواں بولر ہونا چاہیے، وہ ایک دو اوور کرا لے تاکہ مین بولرز میں سے کوئی پٹے تو فائدہ ہوسکے۔ ہمیں کرنا یہ ہے کہ کم سے کم ایک اچھا بولنگ آل راؤنڈر ڈھونڈیں۔ ایک ایسا بولر جو اپنے کوٹے کے اوورز اچھے کرا سکے اور پھر بیٹنگ میں بھی وہ رنز کر سکتا ہو۔ ایک جینوئن فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر ڈھونڈے بغیر پاکستانی ٹیم ہمیشہ ان بیلنس کھیلے گی۔انڈیا کے ہاردک پانڈیا، رویندر جدیجا، آسٹریلیا کے میکسویل، نیوزی لینڈ کے رچن رویندر، گلین فلپس، بریسویل، افغانستان کے عمرزئی اور محمد نبی جیسے بولنگ آل راؤنڈر ڈھونڈنا ہوں گے۔اس وقت ہمارے پاس دو اچھے سپنرز ابرار اور سفیان مقیم موجود ہیں۔ اس لیے سپن آل راؤنڈر کے بجائے فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر دیکھیں یا جو ہیں، انہیں مواقع دیں۔ عامر جمال کو ساتھ لے جانا چاہیے تھا۔ڈومیسٹک میں کوئی اچھا آل راؤنڈر دیکھیں یا دو تین نوجوان اس مقصد کے لیے تیار کریں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہمیں پانچ سپیشلسٹ بولرز اور چھ بلے بازوں کے ساتھ ہی جانا چاہیے۔پانچ سپیلشسٹ بولرز آپ کو میچ جتوا کر دے سکتے ہیں۔ چار بولرز کے ساتھ جتنے رنز پڑ جائیں گے، وہ سات بلے باز بھی نہیں کر پائیں گے۔ ہر بار حسن نواز کی سنچری اور حارث کی دھواں دھار اوپننگ کے کرشمے نہیں ہوسکتے۔ نجانے کوچ عاقب جاوید ان بنیادی چیزوں کا ادراک کرنے میں تاخیر کیوں کر رہے ہیں؟