
انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے رہنما پر زور دیا کہ وہ دو طرفہ تعلقات کو متاثر کرنے والی بیان بازی سے گریز کریں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جمعے کو شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے رہنما سے اپنی پہلی ملاقات کے دوران انڈین وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی۔جنوبی ایشیا کے ان دو پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات جو حسینہ واجد کی قیادت والی حکومت میں مضبوط تھے، اس وقت سے خراب ہو گئے ہیں جب وہ گزشتہ سال اگست میں طالب علموں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے بعد ملک سے فرار ہو گئی تھیں۔ملک چھوڑنے کے بعد سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے انڈیا میں پناہ لی تھی۔نوبل امن انعام یافتہ رہنما محمد یونس نے حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔محمد یونس کی جمعے کو بنکاک میں ’بمسٹک‘ سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائن پر انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی۔انڈیا کے خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وزیراعظم مودی نے بنگلہ دیشی رہنم پر زور دیا ہے کہ ماحول کو خراب کرنے والی کسی بھی بیان بازی سے گریز کیا جائے۔انڈین سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ’وزیراعظم مودی نے ایک جمہوری، مستحکم، پرامن، ترقی پسند اور سب کی نمائندگی والے بنگلہ دیش کے لیے انڈیا کی حمایت کا اعادہ کیا۔‘وکرم مصری نے کہا کہ انڈین وزیراعظم نے ’عملیت پسندی کے جذبے کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات‘ کی نئی دہلی کی خواہش کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے۔دوسری جانب بنگلہ دیش نے دونوں رہنماؤں کے درمیان 40 منٹ کی ملاقات اور تبادلہ خیال کو ’صاف گوئی پر مبنی، نتیجہ خیز اور تعمیری‘ قرار دیا ہے۔حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں انڈیا کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات میں گرم جوشی تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پیمحمد یونس کے پریس آفس نے ایک بیان میں کہا کہ بنگلہ دیشی رہنما نے وزیراعظم مودی کو بتایا کہ بنگلہ دیش دونوں ممالک کے مفاد میں تعلقات کو درست راستے پر لانے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ انڈیا کی جانب سے سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو پناہ دینے کے فیصلے پر بنگلہ دیش میں رائے عامہ کا ایک حصہ انڈیا کے خلاف ہو گیا ہے۔ نئی دہلی نے سابق بنگالی وزیراعظم کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس ملک بھیجنے کی ڈھاکہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد پڑوسی ملکوں کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انڈین تھنک ٹینک ’آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن‘ کے فارن پالیسی شعبے کے سربراہ ہرش پنت نے کہا کہ ’اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ دوطرفہ رابطوں کو بڑھانے کے عمل کا آغاز ہوگا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت صرف اس بات پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے کہ تعلقات میں استحکام آئے، یہی ترجیح ہوگی۔‘