’کچھ نہیں بچا، سمجھ نہیں آ رہا کہاں جائیں‘، پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی دردناک داستانیں


پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی اور خاص طور پر اپر پنجاب میں سیالکوٹ ریجن میں جموں سے آنے والے برساتی نالوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔اگرچہ ان علاقوں میں پانی کا بہاؤ کم ہو رہا ہے لیکن یہ سیلاب اپنے پیچھے کئی دردناک داستانیں چھوڑ گیا ہے۔ایسی ہی ایک درد بھری کہانی سمڑیال کے گاؤں ماجرہ کلاں میں ایک گھر کی ہے جہاں ایک ہی خاندان کے چھ افراد بچوں سمیت لوگوں کی نظروں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئے۔اس گاؤں کے ایک بزرگ حاجی شمشیر نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’عمران نامی 36 سالہ نوجوان ہمارے ساتھ والے گھر میں رہتا تھا۔ جب اچانک رات کو پانی آیا تو ان کو نکلتے ہوئے تھوڑی دیر ہو گئی۔ ہم لوگ بھاگ کر چھتوں پر چڑھ گئے ان کے ہاں سیڑھیاں نہیں تھیں تو گلی میں نکلے اور اپنے رشتہ داروں کی طرف بھاگے لیکن پانی اتنا آ گیا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے پانی میں بہہ گئے۔‘ماجرہ کلاں میں اس وقت سوگ کا عالم ہے اور ریسکیو ٹیمیں ڈوب جانے والے افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔ عمران اور ان کی اہلیہ اور دو بچوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ابھی بھی دو بچیوں کی تلاش جاری ہے۔حاجی شمشیر بتاتے ہیں کہ ’یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا کہ ہم سنبھل ہی نہ سکے۔ میں نے اپنے ہوش میں اس طرح کی صورت حال 1973 میں دیکھی جبکہ اس کے بعد 2025 میں۔ اس دفعہ فرق صرف یہ تھا کہ زیادہ اچانک اور تیز پانی تھا۔ گاؤں کی گلیوں میں چھ چھ فٹ کی لہریں تھیں۔ بس قیامت کا سماں تھا۔‘نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث پنجاب میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ اپر پنجاب میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو مالی نقصان بھی پہنچا۔سمڑیال کے گاؤں ماجرہ کلاں کے ایک ہی خاندان کے چھ افراد سیلاب میں بہہ گئے (فوٹو: اے ایف پی)ظفروال کی ایک خاتون عزرہ بی بی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا تین مرلے کا گھر پانی میں بہہ گیا۔’میری بچی کا جہیز کا سامان تھا وہ سارے کا سارا پانی میں بہہ گیا۔ اس وقت میرے بچے گھر میں اکیلے تھے جب شور مچا کہ پانی آ رہا ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی کام پے تھے ہم گھر بھاگے لیکن ہم صرف اپنے بچوں کو ہی بچا سکے۔‘اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جب پانی نیچے گیا تو واپس جا کر دیکھا تو گھر پانی میں بہہ گیا تھا اور ساری زندگی کی محنت کی کمائی ختم ہو چکی تھی۔ ہم نے کُھلے آسمان کے تلے رات گزاری ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں جائیں۔‘تحصیل ظفروال میں نالہ ڈیک نے تباہی مچائی اور کھڑی فصلوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔محمد علی کی نرمے کی 10 ایکڑ کی فصل تباہ ہو گئی، وہ بتاتے ہیں کہ ’کسی کا بھی کچھ نہیں بچا۔ میرا دس ایکڑ کا نرما تھا۔ سب ختم ہو گیا۔ ہم تو بجلی کے بل ہی بھر بھر کے ختم ہو گئے ہیں اب فصل ہوئی تو اسے پانی بہا کر لے گیا۔‘ماجرہ کلاں میں اس وقت سوگ کا عالم ہے اور ریسکیو ٹیمیں ڈوب جانے والے افراد کو تلاش کر رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)انہوں نے کہا کہ ’لوگوں کی محنت ان کی آنکھوں کے سامنے ختم ہوئی۔ ایسی بے بسی تھی کہ آپ کو بتا نہیں سکتے۔ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے لیکن ہمیں دُکھ اس بات کا بھی ہے کہ ہمیں حکومتی مشینری بھی حرکت میں نظر نہیں آئی۔ کچھ علاقوں کو صرف بند بہتر کر کے بچایا جا سکتا تھا۔‘ دوسری طرف پنجاب حکومت نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو صوبے میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا ٹاسک دے دیا ہے۔وزیراعلیٰ آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پنجاب کا خزانہ بھرا ہوا ہے اور وسائل کی کسی قسم کی کوئی قلت نہیں ہے۔ اس مشکل وقت میں حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت لوگوں کے نقصان کو پورا کرنے میں مدد کرے گی۔‘

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید پاکستان کی خبریں

مون سون بارشوں کا 9 واں سپیل، منگل تک پنجاب میں شدید بارشوں کی پیش گوئی

تین مشرقی دریاؤں میں طغیانی کے بعد سندھ میں بھی سیلاب کا خطرہ: این ڈی ایم اے

’ہمیں مہاجر کی نظر سے نہیں دیکھا‘، چترالیوں اور افغانوں کے مابین مضبوط تعلق کی وجہ کیا ہے؟

لائیو: دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلہ چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے، پی ڈی ایم اے

’سمجھ نہیں آ رہا کہاں جائیں‘،سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی دردناک داستانیں

پنجاب میں سیلاب سے تباہی: پاکستان راوی، ستلج اور بیاس پر ڈیم تعمیر کر سکتا ہے؟

سیلاب سے سیالکوٹ ایئرپورٹ بند، ’پہلے گھنٹوں بارش میں پھنسے رہے اور اب لاہور جانا ہے‘

پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے سبب 28 اموات، این ڈی ایم اے کی سندھ میں ’شدید اونچے درجے کے سیلاب‘ کی وارننگ

پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے سبب 28 اموات، قصور کو بچانے کے لیے بند میں سوراخ کرنا پڑ رہا ہے: پی ڈی ایم اے

پنجاب میں سیلاب سے تباہی: کیا پاکستان راوی، ستلج اور بیاس پر ڈیم تعمیر کر سکتا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ: کیا پاکستان راوی، ستلج اور بیاس پر ڈیم تعمیر کر سکتا ہے؟

چاغی: افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے رجسٹریشن ،4 کیمپ قائم

یکم ستمبر سےجعلی شناختی کارڈ والے افغان مہاجرین کے خلاف ایکشن ہوگا

لائیو: چناب اور راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ، پنجاب میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد متاثر، ایک ہزار سے زائد گاؤں زیرِ آب

’کچھ نہیں بچا، سمجھ نہیں آ رہا کہاں جائیں‘، پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی دردناک داستانیں

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی