لائیو: چناب اور راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ، پنجاب میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد متاثر، ایک ہزار سے زائد گاؤں زیرِ آب


اہم نکاتسیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب اور راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہصوبہ پنجاب میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد سیلاب سے متاثر، ایک ہزار سے زائد گاؤں زیرِ آبضلع شیخوپورہ​ اور لاہور کے ملحقہ علاقے ہائی رسک ایریاز قرارپاکستان کے مختلف حصوں میں آج سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئیصوبہ پنجاب میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد سیلاب سے متاثر، ایک ہزار سے زائد گاؤں زیرِ آبجمعے کو پنجاب ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد سیلابی صورتحال سے متاثر ہیں جبکہ ایک ہزار 769 گاؤں زیر ٓاب ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق فی الحال 365 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن کی تعداد میں ضرورت کے مطابق اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت چار سے ساڑھے چار ہزار افراد ان کمپپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔محکمے کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو بلاتعطل خوراک اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔پنجاب بھر میں انتظامیہ، پولیس اور فوج کی مدد سے 4 لاکھ 28 ہزار 177 افراد کو اب تک سیلابی علاقوں سے نکالا جا چکا ہے۔اس کے ساتھ ہی تین ہزار 174 جانوروں کو بھی ریسکیو کیا گیا۔ دریائے چناب اور راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ، لاہور کے ملحقہ علاقے ’ہائی رسک‘ قرارنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے جبکہ دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔این ڈی ایم اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دریائے چناب کے بہاؤ میں اضافے کے باعث31 اگست کو دوپہر 4 بجے کے قریب تریمو بیراج پر پانی کا بہاؤ 7 لاکھ سے 8 لاکھ کیوسک تک متوقع ہے جس کی وجہ سے شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ممکنہ شدید سیلابی صورتحال جھنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو متاثر کرے گی۔یہ سیلابی ریلے 3 ستمبر کی دوپہر تک پنجند تک پہنچیں گے جہاں 6 لاکھ 50 ہزار سے7 لاکھ کیوسک کا بہاؤ متوقع ہے۔ این ڈی ایم اے نے ممکنہ متاثرہ اضلاع حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجند اور بہاولپور کے علاقوں میں انخلاء کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب کے بائیں کنارے پر واقع 18 ہزاری کا علاقہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بریچنگ سائیٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقعاین ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ آج 29 اگست کو صبح 7 بجے بلاکی بیراج پر1 لاکھ 50 ہزار سے 2 لاکھ کیوسکز کے درمیان بلند سطح کا سیلاب آیا۔یکم ستمبر تک سیلابی ریلا سدھنائی تک پہنچے گا جو خطرناک حد تک 1لاکھ 25 ہزار سے1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک رہنے کا امکان ہے۔ہائی رسک یونین کونسلز میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں۔ضلع شیخوپورہ میں فیض پور خو، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں سیلاب کا خطرہ ہے۔جبکہ ضلع قصور کے علاقے پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔ضلع خانیوال میں غوث پور، میاں چنوں، امید گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم اور کبیروالہ میں سیلاب متوقع ہے۔دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو ادارے ہائی الرٹدریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ریسکیو 1122 نے جمعے کو جاری بیان میں کہا ہے کہ دریائے راوی کے ملحقہ نشیبی علاقوں سے 144 لوگوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔لاہور کے تھیم پارک، پارک ویو سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی اور دیگر علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ریسکیو بوٹ کے ذریعے تھیم پارک سے 57 جبکہ پارک ویو سٹی کےعلاقے سے 28 افراد کو باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔جہلم کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں بارشیں متوقع، مظفرآباد سمیت دیگر علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہاین ڈی ایم اے کے مطابق جہلم کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں 29 اگست تا 2 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں۔بارشوں کے باعث پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوٹلی، باغ، میرپور، پونچھ، راولا کوٹ، مظفرآباد، حویلی اور ملحقہ علاقوں سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔پاکستان کے مختلف حصوں میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، مزید سیلاب کا خدشہ: محکمہ موسمیات​پاکستان میں محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک چاروں صوبوں کے متعدد شہروں اور اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔جمعرات کی شب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں جمعے سے پیر تک بارش متوقع ہے جبکہ پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 اور 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔شمالی اضلاع راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین جبکہ وسطی و جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید پاکستان کی خبریں

مون سون بارشوں کا 9 واں سپیل، منگل تک پنجاب میں شدید بارشوں کی پیش گوئی

تین مشرقی دریاؤں میں طغیانی کے بعد سندھ میں بھی سیلاب کا خطرہ: این ڈی ایم اے

’ہمیں مہاجر کی نظر سے نہیں دیکھا‘، چترالیوں اور افغانوں کے مابین مضبوط تعلق کی وجہ کیا ہے؟

لائیو: دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلہ چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے، پی ڈی ایم اے

’سمجھ نہیں آ رہا کہاں جائیں‘،سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی دردناک داستانیں

پنجاب میں سیلاب سے تباہی: پاکستان راوی، ستلج اور بیاس پر ڈیم تعمیر کر سکتا ہے؟

سیلاب سے سیالکوٹ ایئرپورٹ بند، ’پہلے گھنٹوں بارش میں پھنسے رہے اور اب لاہور جانا ہے‘

پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے سبب 28 اموات، این ڈی ایم اے کی سندھ میں ’شدید اونچے درجے کے سیلاب‘ کی وارننگ

پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے سبب 28 اموات، قصور کو بچانے کے لیے بند میں سوراخ کرنا پڑ رہا ہے: پی ڈی ایم اے

پنجاب میں سیلاب سے تباہی: کیا پاکستان راوی، ستلج اور بیاس پر ڈیم تعمیر کر سکتا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ: کیا پاکستان راوی، ستلج اور بیاس پر ڈیم تعمیر کر سکتا ہے؟

چاغی: افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے رجسٹریشن ،4 کیمپ قائم

یکم ستمبر سےجعلی شناختی کارڈ والے افغان مہاجرین کے خلاف ایکشن ہوگا

لائیو: چناب اور راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ، پنجاب میں 14 لاکھ 53 ہزار افراد متاثر، ایک ہزار سے زائد گاؤں زیرِ آب

’کچھ نہیں بچا، سمجھ نہیں آ رہا کہاں جائیں‘، پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی دردناک داستانیں

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی