
حکومت پاکستان نے جعلی اور بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے اور یکم ستمبر 2025 سے ایسے تمام افراد کے خلاف سخت اقدامات شروع کیے جائیں گے جنھوں نے رشوت اور جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بوگس شناختی کارڈ رکھنے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے کارڈز قریبی نادرا دفاتر میں جمع کروا دیں بصورت دیگر انہیں گرفتار کرکے ملک بدر کر دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے سب سے زیادہ کیسز پشاور اور کوئٹہ سے سامنے آئیں ہیں جہاں بڑی تعداد میں افغان باشندوں نے کسی اور شخص کو والد یا والدہ ظاہر کرکے شناختی کارڈ حاصل کیا ہے۔
حکومتی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس بار کسی کے لئے کوئی رعایت یا گنجائش نہیں رکھی جائے گی اور تمام غیرقانونی طور پر شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کو ان کے آبائی وطن ڈیپورٹ کیا جائے گا۔