
وفاقی حکومت نے وفاقی دارالحکومت کے نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کرلیا ہے، جس کے تحت منتخب علاقائی حکومت کے قیام، ادارہ جاتی اختیارات کے انضمام اور جدید اسمارٹ سٹی ماڈل کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔
منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تیار کردہ 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 24 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، تاہم شہر کے انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں مطلوبہ سطح کی ترقی نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر ”اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ“ کے قیام کی سفارش کی گئی ہے، جسے انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی جبکہ وفاقی دارالحکومت کی آئینی حیثیت برقرار رہے گی۔
مجوزہ منصوبے کے تحت 27 ارکان پر مشتمل اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی قائم کی جائے گی، جس میں 21 براہِ راست منتخب ارکان، خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست شامل ہوگی۔ اسمبلی اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی، جسے وزیرِ اعلیٰ یا میئر کا عہدہ دیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ بیشتر انتظامی اختیارات نئی حکومت کو منتقل کیے جائیں، جبکہ دارالحکومت کی خصوصی حیثیت کے باعث یہ دونوں شعبے وفاق کے پاس رہیں گے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزارتوں اور اداروں، بالخصوص سی ڈی اے کے متعدد اختیارات بھی مرحلہ وار نئی حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اصلاحاتی پیکیج میں ”اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ“ کے نفاذ کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے تحت موجودہ بلدیاتی اور ترقیاتی قوانین کو یکجا کر کے ایک جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مالی وسائل، اختیارات کی منتقلی اور قانون سازی کے لیے الگ الگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جو اصلاحات کے نفاذ اور انتظامی تسلسل کو یقینی بنائیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے سرکاری اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع نہیں کیونکہ توجہ نئے ادارے بنانے کے بجائے موجودہ ڈھانچے کی تنظیمِ نو پر مرکوز ہے۔
منصوبے کا اہم حصہ ”اسلام آباد اسمارٹ سٹی ماڈل“ ہے، جس کا مقصد دارالحکومت کو جدید، ماحول دوست اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کا نمونہ بنانا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ماحولیات، سیاحت، ثقافت، تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور ای گورننس سمیت مختلف شعبوں میں خصوصی ادارے قائم کیے جائیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ڈیسٹی نیشن اسلام آباد” حکمتِ عملی کے ذریعے سیاحت، سرمایہ کاری، روزگار اور مقامی آمدنی میں اضافہ ممکن بنایا جاسکتا ہے، جبکہ مربوط ڈیجیٹل نظام کے ذریعے زمین، ٹیکس، لائسنسنگ، شکایات کے ازالے اور دیگر شہری خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کیا جائے گا۔
پانچ سالہ مرحلہ وار منصوبے پر مشتمل یہ اصلاحاتی ایجنڈا قومی ترقیاتی پروگرام “اڑان پاکستان”، ڈیجیٹل پاکستان پالیسی اور پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد سے اسلام آباد کو جدید، مؤثر اور شفاف طرزِ حکمرانی کے ماڈل کے طور پر ترقی دی جاسکے گی۔