
انتباہ: اس رپورٹ میں ایک خاتون پر تیزاب سے ہوئے حملے سے متعلق تفصیلات موجود ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔’تیزاب سے ہوئے حملے کے فوراً بعد خاتون ڈاکٹر کی تکلیف کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ انھوں نے مدد کے لیے زور سے مجھے اپنی جانب کھینچا، جس کے باعث تیزاب کے اثرات مجھ پر بھی پڑے اور میں زخمی ہوا۔‘یہ کہنا ہے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں کام کرنے والے پیرامیڈیک عبدالرزاق خلجی کا۔عبدالرزاق خلجی وہ شخص ہیں جو سنیچر کو کوئٹہ سول ہسپتال میں تیزاب پھینکنے کے واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون ڈاکٹر کی مدد کو سب سے پہلے پہنچے تھے اور افراتفری کے عالم میں خاتون ڈاکٹر کی مدد کرتے ہوئے وہ خود زخمی بھی ہوئے تھے۔بلوچستان حکومت نے عبدالرزاق خلجی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔خلجی بتاتے ہیں کہ ’حملے کے فوراً بعد مدد کی غرض سے خاتون ڈاکٹر میری طرف تیزی سے بڑھیں، اور تکلیف کی شدت سے انھوں نے مجھے اپنی جانب کھینچا۔‘خلجی کی جانب سے اس موقع پر خاتون کی مدد کے دوران وہ خود بھی تیزاب کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پائے۔خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ سنیچر کے روز سول ہسپتال کوئٹہ کے سرجری وارڈ کے باہر پیش آیا تھا۔زخمی خاتون ڈاکٹر ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کوئٹہ کی سٹوڈنٹ ہیں۔حکام کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت خاتون ڈاکٹر شعبہ سرجری میں ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھیں۔ انھیں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے فوری بعد گذشتہ روز ہی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کی غرض سے کراچی منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ آغا خان ہسپتال کے برن سینٹر میں زیر علاج ہیں۔ہسپتال میں متاثرہ خاتون ڈاکٹر کے ساتھ موجود اُن کے چچا نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق اب اُن کی بھتیجی کی طبعیت قدرے بہتر ہے اور علاج بدستور جاری ہے۔ چچا کے مطابق ڈاکٹرز نے انھیں بتایا ہے کہ اُن کی بھتیجی کی بینائی محفوظ ہے تاہم انھیں قدرے دھندلا نظر آنے کی شکایت ہے۔اُن کے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خاتون ڈاکٹر کو دھندلا نظر آنا چہرے پر موجود زیادہ سوجن کے باعث بھی ہو سکتا ہے تاہم اس ضمن میں حتمی رائے سوجن کم ہونے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔متاثرہ خاتون کے چچا کے مطابق چہرے کے علاوہ اُن کی بھتیجی کے دائیں ہاتھ اور پاؤں پر بھی زخم ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ’ڈاکٹرز نے فی الحال ابتدائی طور پر ہمیں بتایا ہے کہ ہمیں تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ ہسپتال میں گزارنا ہوں گے جس کے دوران متعددسرجریز ہوں گی اور صحتیابی کا عمل وقت لے سکتا ہے۔‘یاد رہے کہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی جو اسی ہسپتال میں بطور لفٹ آپریٹر کام کرتے تھے۔ ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت کے مطابق تیزاب پھینکنے والا ملزم بعدازاں پولیس کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔تاحال پولیس یا حکام کی جانب سے سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے۔دوسری جانب خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے اورکوئٹہ کے ینگ ڈاکٹرز نے دوسرے روز بھی اس واقعے کے خلاف اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔متاثرہ خاتون کی مدد کرنے والے عبدالرزاق خلجی کے مطابق خاتون کا چہرہ شدید زخمی تھا جبکہ اُن کے کپڑے بھی متاثر ہوئے تھے جس پر ’میں نے اپنا ایپرن اُتار کر اُن کے اوپر ڈال دیا۔‘’ابتدا میں مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اُن پر تیزاب پھینکا گیا ہے۔‘ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟سول لائنز پولیس سٹیشن کوئٹہ نے اس واقعے کی ایف آئی سول ہسپتال کوئٹہ کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ کی مدعیت میں ملزم ہمایوں شاہ کے خلاف درج کی ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے پولیس کو بتایا کہ وہ سول ہسپتال میں اپنے روٹین کے کام میں مصروف تھے جب انھیں اطلاع ملی کہ سرجیکل کمپلیکس میں کوئی شخص ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گیا ہے۔’جب میں فوری طور پر وہاں پہنچا تو دیکھا کہ خاتون ڈاکٹر کے علاوہ انھیں بچانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک میڈیکل ٹرینی عبدالرزاق بھی زخمی ہیں۔‘ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر کاکٹر نے بتایا کہ ’دونوں کو پہلے سول ہسپتال میں ہی طبی امداد فراہم کی گئی تاہم بعد میں وہاں رش اور زخمی ڈاکٹر کے شعبے کے ڈاکٹروں کے بار بار اصرار پر اُن کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘ایف آئی آر کے مطابق ’سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے ملزم ہمایوں شاہ کی نشاندہی ہوئی جو کہ ہسپتال میں کام کرنے والی ایک نجی کمپنی کے ساتھ لفٹ پر کام کرتا تھا۔‘Getty Imagesعلامتی تصویرحملے کی وائرل ویڈیوخاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس کا تذکرہ ایف آئی آر میں بھی کیا گیا ہے۔ سول ہسپتال انتظامیہ نے بی بی سی کو اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے۔اس ویڈیو میں ایک شخص (ملزم) اپنی جیب سے کچھ نکال کر تیزی سے ایک جانب بڑھتا ہے۔اسی ویڈیو میں سیڑھیوں کے ساتھ سفید کپڑوں اور نیلے اپیرن میں ملبوس ایک اور شخص بھی نظر آ رہا ہے۔اس کے بعد جیب سے کچھ نکالنے والا شخص (ملزم) تیزی کے ساتھ دوسری سمت میں بھاگتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔یہ تیزاب پھینکنے والا ملزم ہی تھا کیونکہ مبینہ پولیس مقابلے میں اس کی ہلاکت کے بعد اس کی لاش کی جو تصویر محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ہے، اُس میں وہ اُسی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھا، جس رنگ کے کپڑوں میں وہ ویڈیو میں بھاگتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ملزم کے بھاگنے کے بعد وہ شخص جو کہ سیڑھیوں کے ساتھ کھڑا ہے دوسری جانب مڑکر دیکھتا ہے تو ایک خاتون اس کی جانب تیزی سے آتی ہیں اور اس کو تیزی سے اپنی جانب کھنیچتی ہیں، جس کے بعد متاثرہ خاتون زمین پر گر جاتی ہے۔گاؤن میں ملبوس یہ شخص سول ہسپتال کے پیرا میڈیک عبدالرزاق خلجی ہیں، جنھوں نے سب سے پہلے خاتون ڈاکٹر کی مدد کی۔ویڈیو میں وہ اپنا نیلا ایپرن اُتار کر خاتون ڈاکٹر کے اوپر ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چہرہ، گردن اور سر پر تیزاب کی وجہ سے زخمینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ کا کہنا ہے تیزاب کے باعث متاثرہ ڈاکٹر کا چہرہ زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ اُن کی گردن اور سر پر بھی تیزاب کی وجہ سے زخم آئے ہیں۔ڈاکٹر حئی بلوچ نے حکومت اور محکمہ ہیلتھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تمام تر دعوؤں کے باوجود خاتون ڈاکٹر کا سول ہسپتال میں علاج معالجہ ممکن نہیں ہو سکا اور یہی وجہ ہے کہ ان کو علاج کے لیے سول ہسپتال سے کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔لاہور میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ ’پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی‘، پولیس کا دعویٰنور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار: ’ڈرگ ٹیسٹ ہو بھی جاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا؟‘دلی: لڑکی پر پھینکا گیا تیزاب آن لائن منگوایا گیا تھا ، دو کمپنیوں کو نوٹسلاہور میں خاتون اور بچی کی سیوریج نالے میں گرنے سے ہلاکت: ’ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے نااہلی چھپانے کے لیے حقائق کو مسخ کیا گیا‘ مریم نوازتیزاب حملے میں زخمی ہونے والی خاتون ڈاکٹر کے رشتہ داروں مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔خاتون ڈاکٹر کے چچا کے مطابق اُن کی بھتیجی نے ماضی میں اہلخانہ کے سامنے کسی خطرے یا خدشے کا اظہار نہیں کیا تھا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’پولیس اور ریاستی اداروں کا کام ہے کہ وہ یہ پتا لگائیں کہ اس واقعے کے پیچھے محرکات کیا ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس کے درست محرکات کا پتا لگانے کے لیے صاف اور شفاف تحقیقات کرے۔‘انھوں نے کہا کہ ملزم کا موبائل فون بھی پولیس کی تحویل ہے اس کی فرانزک سے بہت مدد مل سکتی ہے۔مبینہ جوابی کارروائی میں ملزم کی ہلاکتوزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے فوری بعد پولیس کو ملزم کی گرفتاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کی گئی تھیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ملزم کا سراغ انٹر سٹی بس اڈے کے قریب لگایا گیا، جہاں اُن کو گرفتاری دینے کا کہا گیا لیکن ملزم نے (مبینہ طور پر) پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا ہے کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں ملزم زخمی ہوا اور بعد میں ہلاک ہو گیا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم سے ایک پستول اور گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ اتوار کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر خان یوسفزئی نے بتایا کہ ملزم ہمایوں شاہ کو آدھے گھنٹے کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔بابر یوسفزئی نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کے کوئی محرکات سامنے نہیں آئے ہیں تاہم اس سلسلے میں مختلف پہلووں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔تیزاب کی کُھلے عام خرید و فروخت پر سوالاتBBCاس واقعے کے خلاف کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز نے سنیچر اور اتوار کو احتجاج کیا ہے۔اتوار کے روز ینگ ڈاکٹرز نے سول ہسپتال کوئٹہ کے احاطے سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس کے شرکا مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے، جہاں انھوں نے مظاہرہ کیا۔ڈاکٹروں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیکریٹری صحت، ایم ایس سول ہسپتال اور ہسپتال کے سکیورٹی انچارج کو معطل کرنے اور ان کے خلاف کارروائی اور واقعے کے بارے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے صارفین اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ جہاں واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہیں تیزاب کی کھلے عام خرید و فروخت پر بھی ایک بار پھر سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ منہا نامی صارف نے لکھا کہ ’خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے کیا گیا وحشیانہ حملہ دل دہلا دینے والا اور ناقابل قبول ہے۔۔ یہ انسانیت، ہمدردی اور ہر عورت کے بلا خوف کام کرنے اور خدمت کرنے کے حق پر حملہ ہے۔‘صحافی سدرہ ڈار نے لکھا کہ ’پاکستان میں تیزاب فروخت کرنا اور خریدنا اتنا آسان ہے کہ کوئی بھی مارکیٹ جا کر یہ جواز دے کر کہ سیوریج لائن بند ہے، تیزاب خرید سکتا ہے۔ کون خرید رہا ہے، کس مقصد کے لیے لے جا رہا ہے اور اس کا کیا کرے گا؟ اس کا کوئی ریکارڈ نہیں لیا جاتا۔‘نزرانہ یوسف زئی نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کی ہولناک ویڈیو دیکھی۔ ہم اصل مسئلے کو نظر انداز کرتے چلے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں گہری نفرت اور غیر انسانی سلوک ہے۔ یہ ہمارے گھروں، ہمارے اداروں، ہماری گفتگو اور ہمارے رویوں میں موجود ہے۔ جب تک ہم اس نفرت کا مقابلہ نہیں کرتے، اس وقت تک مزید خواتین اپنی حفاظت کے ساتھ اس کی قیمت ادا کرتی رہیں گی۔‘ڈاکٹر رفیع نامی صارف نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر ایک خاتون ڈاکٹر ہسپتال میں محفوظ نہیں تو وہ کہاں محفوظ ہے؟ خواتین پہلے ہی ڈاکٹر، اساتذہ اور پیشہ ور بننے کے لیے سماجی رکاوٹوں کا مقابلہ کرتی ہیں۔۔۔‘دلی: لڑکی پر پھینکا گیا تیزاب آن لائن منگوایا گیا تھا ، دو کمپنیوں کو نوٹسلاہور میں خاتون اور بچی کی سیوریج نالے میں گرنے سے ہلاکت: ’ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے نااہلی چھپانے کے لیے حقائق کو مسخ کیا گیا‘ مریم نوازلاہور میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ ’پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی‘، پولیس کا دعویٰنور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار: ’ڈرگ ٹیسٹ ہو بھی جاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا؟‘18 سالہ اکلوتے بیٹے کی موت کے ثبوت جمع کرتی ماں کی داستان: شدید تکلیف میں اُس نے بس اتنا کہا ’ممی، آپ آ گئی ہیں‘نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کانپ رہا تھا اور چہرے پر خوف نمایاں تھا