اینڈی برنہم برطانیہ کے 59ویں وزیرِاعظم بن گئے


نئے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ایک بار پھر استحکام حاصل کر سکتا ہے اور یہی ان کا چیلنج ہے۔پیر کو برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر موجود اپنے حامیوں اور صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اینڈی برنہم کا کہنا تھا کہ ان کی نسل کے سیاست دانوں کو اپنی کارکردگی بہتر کرنا ہو گی اور درپیش مشکلات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔برنہم کا کہنا تھا کہ وہ بطور وزیراعظم ایک نئی معیشت تشکیل دینے کا عہد کرتے ہیں جس میں ضروریاتِ زندگی دوبارہ سرکاری کنٹرول میں ہوں گی تاکہ انھیں دوبارہ سستا کیا جا سکے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے آخر میں، وہ برطانیہ کے لیے 10 سالہ منصوبہ تیار کریں گے، جس میں وہ راستہ بتایا جائے گا جہاں وہ ملک کو لے جانا چاہتے ہیں۔برنہم پیر کو برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سے حکومت کی تشکیل کی دعوت دیے جانے کے بعد برطانیہ کے 59ویں وزیرِاعظم بنے ہیں۔اینڈی برنہمنے پیر کو بکنگھم پیلس میں شاہ چارلس کے ساتھ ایک ملاقات کی، جس کے دوران انھیں حکومت تشکیل دینے کی باقاعدہ دعوت دی گئی جبکہ اس سے قبل مستعفی ہونے والے وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے اپنا استعفیٰ برطانوی بادشاہ کو پیش کیا جو انھوں نے قبول کر لیا۔برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے 17 جولائی کو رُکن پارلیمان اور گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کو اپنا نیا سربراہ منتخب کیا تھا۔ جمعے کو لیبر پارٹی کی کانفرنس کے دوران وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اینڈی برنہم کے لیبر پارٹی کا بلامقابلہ نیا رہنما منتخب ہونے کی تصدیق کی تھی۔ برنہم نے اس موقع پر اپنی پانچ ترجیحات پیش کیں اور کہا کہ وہ شمال، جنوب، مشرق اور مغرب، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئر لینڈ سب کے رہنما ہوں گے۔بطورِ وزیراعظم اپنی پہلی تقریر میں اینڈی برنہم نے کیا کہا؟برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ ان کی تقرری ’غور و فکر اور نئے عزم کا لمحہ‘ ہے۔برنہم نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ملک کے عوام سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اتنا اچھا کام نہیں کر سکے جتنا کرنا چاہیے تھا، اور ہمیں بہتر ہونا ہو گا۔ ہم بہتر ہوں گے۔‘انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت اس لمحے کو برطانیہ کے لیے ایک اہم موڑ بنائے گی اور ایک نیا سیاسی ماڈل متعارف کرائے گی۔وزیرِاعظم نے 1980 کی دہائی کی بعض پالیسیوں کو ’غلط موڑ‘ قرار دیا، جن میں نجکاری اور صنعتوں کے زوال (ڈی انڈسٹرلائزیشن) شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے کئی علاقے اب تک ان پالیسیوں کے اثرات سے پوری طرح نہیں سنبھل سکے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ سیاست کو زیادہ باہمی تعاون اور مسائل کے حل پر مبنی بنایا جائے گا، نہ کہ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ پر۔برنہم نے کہا کہ وہ بطور وزیرِاعظم اختیارات ویسٹ منسٹر سے نکال کر ’ملک کے ہر علاقے‘ تک منتقل کریں گے تاکہ مقامی سطح پر زیادہ فیصلے کیے جا سکیں۔انھوں نے ایک نئی معیشت کی تعمیر کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کی بنیادی ضروریات کو دوبارہ عوامی کنٹرول میں لایا جائے گا تاکہ وہ زیادہ قابلِ استطاعت بن سکیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے برطانوی صنعت کی حمایت اور ملک کو دوبارہ صنعتی بنیادوں پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔نئے وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ رواں سال کے دوران برطانیہ کے لیے ایک ’10 سالہ منصوبہ‘ پیش کریں گے جس میں ملک کے مستقبل کا واضح خاکہ دیا جائے گا۔مہنگائی کے بحران کے حوالے سے انھوں نے اعلان کیا کہ کل سے ایسے اقدامات کی تفصیلات دینا شروع کریں گے جن سے لوگوں کو مالی دباؤ میں کچھ ’سانس لینے کی گنجائش‘ مل سکے، اور یہ بھی بتایا جائے گا کہ ان منصوبوں کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لیے تعلیمی نظام میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ذہنی صحت سمیت مختلف شعبوں میں عوامی معاونت بڑھائی جائے گی۔ فلاحی اخراجات کم کرنے کے لیے مزید کونسل ہاؤسنگ تعمیر کی جائے گی، جسے انھوں نے ’منصفانہ اور پائیدار‘ طریقہ قرار دیا۔برنہم نے کہا کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں گے اور اعلان کیا کہ ’میں اپنی پہلی ہدایت جاری کروں گا کہ ہمارے ملک میں سڑکوں پر بے گھر رہنے کے مسئلے کا خاتمہ کیا جائے۔‘انھوں نے زور دیا کہ ان کی حکومت میں درست اقدار اور اعلیٰ معیار کو مرکزیت حاصل ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی کام میں کروں گا اس میں سب سے اہم لوگوں کی دیکھ بھال ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی یکجہتی کے نئے احساس کو فروغ دینے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے۔اپنی تقریر کے اختتام پر انھوں نے عوام اور اپنے حامیوں سے ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لمحہ ہے ’جب برطانیہ دوبارہ یقین کرنا شروع کرے گا، جب ہم امید کو واپس لائیں گے۔‘10 ڈاؤننگ سٹریٹ جانے والے پہلے ’اینڈی‘وہ برطانوی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں رہائش اختیار کرنے والے پہلے اینڈریو نہیں ہوں گے، کیونکہ اس سے پہلے اینڈریو بونار لا 1922 میں وہاں پہنچے تھے۔لیکن وہ پہلے اینڈی ہوں گے۔ان کی سیاسی شناخت دوستانہ اور قابلِ رسائی شخصیت کے گرد گھومتی ہے، اور ’ووٹ اینڈی‘ کا نعرہ انھیں برسوں کے دوران انتخابات میں خاصی کامیابی دلا چکا ہے۔وہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ہیرالڈ ولسن کے بعد خود کو شمالی انگلینڈ کا باشندہ قرار دینے والے پہلے وزیرِ اعظم بھی ہوں گے۔ان کے بعد آنے والے کچھ وزرائے اعظم کی جڑیں شمالی انگلینڈ میں رہی ہوں گی، لیکن کسی نے بھی اسے اپنی سیاسی کشش کا اتنا بنیادی حصہ نہیں بنایا جتنا برنہم نے بنایا ہے۔برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹامر کیوں مستعفی ہوئے؟برطانیہ کا بدلتا سیاسی منظر نامہ کیا تارکینِ وطن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟ایک ملکہ اور 15 برطانوی وزرائے اعظم’کنگ آف دی نارتھ‘انھیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ کا لقب بھی حاصل ہے، جو انھوں نے 2020 میں ایک کھلے میدان میں حکومت کو للکارتے ہوئے تقریر کرنے کے بعد حاصل کیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ گریٹر مانچسٹر مزید کووڈ پابندیاں قبول نہیں کرے گا۔تاہم 56 سالہ برنہم نے اپنی طویل سیاسی زندگی کا آغاز ویسٹ منسٹر کے ایک روایتی اندرونی سیاسی کردار کے طور پر کیا تھا اور اگرچہ اس مرتبہ انھیں رکنِ پارلیمان بنے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ ہوا ہے، لیکن اقتدار تک ان کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔اُنھوں نے پہلی بار 2010 میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے انتخاب لڑا اور پھر 2015 میں دوبارہ اس کے لیے میدان میں اُترے اور جیریمی کوربن سے بہت پیچھے دوسرے نمبر پر رہے۔اگراُنھوں نے 2017 میں گریٹر مانچسٹر کے پہلے میئر کے طور پر انتخاب لڑنے کا خطرہ مول نہ لیا ہوتا تو شاید وہ سیاسی تاریخ میں ایک معمولی حوالہ بن کر رہ جاتے۔علاقائی میئرز کا تصور اُس وقت آزمایا نہیں گیا تھا، لیکن برنہم نے اس عہدے کو اپنی شناخت بنا لیا اور اسے ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جو ان کی نظر میں ویسٹ منسٹر کی روایتی اور محدود سیاست سے الگ ایک نئی طرزِ حکمرانی کی نمائندگی کرتا تھا۔ابتدائی زندگی: ایورٹن کے مداح اور انڈی موسیقی کے شوقین1970 میں لیورپول میں پیدا ہونے والے برنہم کی پرورش وارنگٹن کے قریب چیشائر کے ایک پُرسکون کمیوٹر گاؤں کلچتھ میں ہوئی۔ان کے والد انجینیئر تھے جبکہ والدہ ایک ریسپشنسٹ تھیں۔ دونوں لیبر پارٹی کے مضبوط حامی تھے اور برنہم کو کم عمری میں ہی سیاست میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔برنہم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ 14 سال کی عمر میں بی بی سی کے ٹی وی ڈرامے ’بوائز فرام دا بلیک سٹف‘ سے متاثر ہو کر لیبر پارٹی میں شامل ہوئے، جو لیورپول میں بے روزگاری کے دوران زندگی پر مبنی تھا۔ایورٹن فٹبال کلب کے عمر بھر کے مداح برنہم کے دوست انھیں بچپن سے ہی ایک جوشیلے، مقابلہ پسند اور کھیلوں کے بے حد دلدادہ بچے کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے بلکہ لنکا شائر سکول بوائز کرکٹ ٹیم کے لیے فاسٹ بولر کی حیثیت سے بھی کھیل چکے ہیں۔اپنے سکول، جو مقامی رومن کیتھولک سکول تھا، میں ان کے انگریزی کے استاد کو یاد ہے کہ وہ فرضی انتخابات میں لیبر امیدوار بنے تھے اور بھاری اکثریت سے جیتے تھے۔برنہم اور ان کے دو بھائی اپنے خاندان میں یونیورسٹی جانے والے پہلے افراد تھے اور اینڈی نے کیمبرج میں انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کی۔اپنی کتاب ’ہیڈ نارتھ‘ میں برنہم نے لکھا کہ یونیورسٹی میں انھیں ’خود کو ماحول کا حصہ محسوس کرنے میں مشکل پیش آتی تھی‘ اور وہ خود کو ’اجنبی‘ محسوس کرتے تھے۔تاہم موسیقی سے محبت رکھنے والے برنہم جو مانچسٹر کے انڈی بینڈز ’دا سمتھس‘ اور ’دا سٹون روزز‘ کے مداح ہیں، نے کہا کہ ’مانچسٹر کی موسیقی میں میری بڑھتی ہوئی دلچسپی نے مجھے ایک شناخت اور ایک برتری فراہم کی۔‘Getty Imagesوزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر اپریل میں ایشٹن انڈر لائن، گریٹر مانچسٹر میں ناشتے کے ایک کلب کے دورے کے دوران اینڈی برنہم کے ہمراہ دو یونیفارم پہنے بچوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔رکنِ پارلیمان سے گریٹر مانچسٹر کے میئر تکگریجویشن کے بعد برنہم نے صحافت شروع کی اور ’ٹینک ورلڈ‘ اور ’پیسنجر ورلڈ مینیجمنٹ‘ سمیت دیگر کاروباری جریدوں میں کام کیا۔20 سال کی عمر کے بعد انھیں سیاست میں اُس وقت پذیرائی ملی جب اُنھوں نے رُکن پارلیمان ٹیسا جوول کے ساتھ بطور محقق کام کیا۔ ٹیسا جوول بعدازاں ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی کابینہ میں وزیر بنیں۔برنہم نے تیزی سے ترقی کی اور ثقافت کے سکریٹری کرس سمتھ کے خصوصی مشیر بن گئے، پھر 2001 میں گریٹر مانچسٹر کے اپنے آبائی حلقے میں رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے۔انھوں نے ابتدا میں بلیئر حکومت میں جونیئر وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں، لیکن بعد میں براؤن کے دور میں چیف سیکریٹری ٹو دی ٹریژری، پھر ثقافت کے سیکریٹری اور بعد ازاں صحت کے سیکریٹری بنے۔ثقافت، میڈیا اور کھیلوں کے سیکریٹری کی حیثیت سے ہِلزبرا سانحے کی 20ویں برسی کی یادگاری تقریب میں انھیں ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا۔سنہ 1989 کے اس سٹیڈیم سانحے میں لیورپول کے 97 شائقین ہلاک ہوئے تھے۔اس ردِعمل نے برنہم کو کابینہ میں یہ معاملہ اٹھانے پر آمادہ کیا جس سے اس سانحے کی دوسری تحقیقات کے آغاز میں مدد ملی۔Getty Images2009 میں برائٹن میں ہونے والے سالانہ لیبر اراکینِ پارلیمان بمقابلہ لابی صحافیوں کے فٹبال میچ کے دوران اینڈی برنہم گول کرنے کے لیے شاٹ لگا رہے ہیں۔سنہ 2010 میں لیبر پارٹی کی عام انتخابات میں شکست اور گورڈن براؤن کے استعفے کے بعد، برنہم نے پارٹی قیادت کے لیے انتخاب لڑا۔وہ پانچ امیدواروں میں سے چوتھے نمبر پر رہے اور ایڈ ملی بینڈ سے ہار گئے، لیکن اگلے پانچ برسوں میں انھوں نے پارٹی کی نچلی سطح کی تنظیموں میں اپنی مقبولیت بڑھائی۔سنہ 2015 میں اُنھوں نے دوبارہ کوشش کی لیکن اس بار جیریمی کوربن سے شکست کھا گئے۔ان کے ناقدین انھیں سیاسی ہوا کا رخ دیکھنے والا فرد قرار دیتے ہیں، جس کے خیالات کامیابی کے بہتر امکانات کے لیے سیاسی رجحانات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔وہ کوربن کی شیڈو کابینہ میں شیڈو ہوم سیکریٹری کے طور پر شامل رہے، حالانکہ انھیں پارٹی کے بلیئر نواز اعتدال پسند دائیں بازو سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔برنہم کے خیالات بتدریج بائیں بازو کی جھکتے گئے اور اُنھوں نے پانی اور توانائی کے شعبوں کو قومی تحویل میں لینے کی حمایت کی۔سنہ 2016 میں کوربن کی قیادت کے خلاف احتجاجاً استعفا دینے والوں میں وہ شامل نہیں تھے۔اس کے بجائے اُنھوں نے 2017 میں استعفی دے دیا تاکہ گریٹر مانچسٹر کے پہلے میئر کے طور پر انتخاب لڑ سکیں۔برنہم نے 60 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی اور 2021 میں اس سے بھی بڑے فرق سے دوبارہ منتخب ہوئے۔Getty Imagesاینڈی برنہم 2014 میں اینفیلڈ سٹیڈیم میں اپنی تقریر کے بعد تالیاں بجاتے ہوئے مجمعے کے ایک رکن سے مصافحہ کر رہے ہیں۔’بی نیٹ ورک‘ اور لاک ڈاؤن پر ٹکراؤمیئر کی حیثیت سے انھیں خطے کے ٹرانسپورٹ نظام میں تبدیلیوں پر سراہا گیا ہے۔ان کی قیادت میں گریٹر مانچسٹر لندن سے باہر انگلینڈ کا پہلا علاقہ بنا جہاں بس سروسز دوبارہ عوامی کنٹرول میں لائی گئیں اور انھیں دیگر ذرائع نقل و حمل کے ساتھ ’بی نیٹ ورک‘ کے برینڈ کے تحت مربوط کیا گیا۔دیگر جرات مندانہ وعدوں میں 2020 تک خطے میں کھلے آسمان تلے سونے والے افراد کو سہولت دینے کا وعدہ شامل تھا، تاہم وہ اس معاملے میں اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے۔کووڈ وبا کے دوران اُنھوں نے دوبارہ شہ سرخیوں میں جگہ بنائی، جب کنزرویٹو حکومت پر علاقائی لاک ڈاؤن پابندیوں کے معاملے پر شمالی انگلینڈ کے ساتھ ’تحقیر آمیز‘ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔اس ٹکراؤ نے انھیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ کا لقب دلانے میں مدد دی۔ 2025 کے خزاں کے پارٹی کانفرنس سیزن تک برنہم کھلے عام اعلیٰ ترین عہدے کے لیے سرگرم ہو چکے تھے، کیونکہ انھوں نے قیادت کے لیے امیدوار بننے کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جنوری میں ویسٹ منسٹر واپسی کا ایک ممکنہ موقع اُس وقت پیدا ہوا جب گریٹر مانچسٹر کے رکنِ پارلیمان اینڈریو گوئن نے استعفی دینے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں ان کے گورٹن اینڈ ڈینٹن حلقے میں ضمنی انتخاب کی راہ ہموار ہوئی۔تاہم وزیرِ اعظم کی منظوری کے ساتھ لیبر پارٹی کی حکمران باڈی نے برنہم کو انتخاب لڑنے سے روک دیا۔مئی تک صورتحال تبدیل ہو چکی تھی۔PA Media ان کی قیادت میں گریٹر مانچسٹر لندن سے باہر انگلینڈ کا پہلا علاقہ بنا جہاں بس سروسز دوبارہ عوامی کنٹرول میں لائی گئیںلیبر کو انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں انتخابی نتائج میں مایوس کن کارکردگی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ریفارم پارٹی سرویز میں مضبوط پوزیشن حاصل کر رہی تھی اور برنہم کے سیاسی گڑھ میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہی تھی۔سر کیئر سٹارمر کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا، کچھ ارکانِ پارلیمان تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے اور کابینہ کے ارکان کے استعفے بھی سامنے آ رہے تھے۔جوش سائمنز نے اعلان کیا کہ وہ میکرفیلڈ سے لیبر رکنِ پارلیمان کی حیثیت سے مستعفی ہو جائیں گے تاکہ برنہم کو دوبارہ پارلیمان واپسی کی مہم چلانے کا موقع دیا جا سکے۔بعد ازاں برنہم اس حلقے کے لیے لیبر امیدوار منتخب ہوئے اور اگلے ماہ اُنھوں نے دوبارہ ویسٹ منسٹر میں اپنی نشست حاصل کر لی۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید تازہ ترین خبریں

پیٹرول لیوی اور ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کا 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

ڈاکٹر آصف محمود: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نئے پاکستانی نژاد سربراہ جو ماضی میں کئی بار عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں

یمنی حوثیوں کی دھمکی، سعودی عرب کا جواب اور مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتا تنازع جو پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے

امریکی حملوں کے جواب میں ایران کا کویت، بحرین اور اردن میں امریکی ریڈار، دفاعی نظام اور ایف 15 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کے حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے: پینٹاگون

مولانا فضل الرحمان کا متنازع بیان اور تنقید: ’عوام کو لشکر بنانے کا کوئی پیغام نہیں دیا جا رہا‘

یمنی حوثیوں کا سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان: آبنائے باب المندب کیوں اہم ہے؟

امریکہ کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، محکمۂ خارجہ نے ایران اور حامی گروہوں کی جانب سے دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کر دیا

میسی کی ’تکلیف‘ اور ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے بعد مُکے برسانے پر تحقیقات: آخری سیٹی کے بعد کیا ہوا اور ارجنٹینا کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟

امریکہ کا ناکہ بندی کے دوران سات تجارتی جہازوں کو واپس بھیجنے کا دعویٰ: ایک فوجی کی ہلاکت کے بدلے ایران کو کئی گنا قیمت چکانا پڑے گی، صدر ٹرمپ

’مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا بیٹا ہے‘: ورلڈ کپ کے ’حقیقی فاتح‘ تین سالہ کائن کا جشن جو انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہا ہے

حوثی جنگجوؤں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان، خلیل الحیہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ منتخب

پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان، نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات سے متوقع

اینڈی برنہم برطانیہ کے 59ویں وزیرِاعظم بن گئے

جیفری ایپسٹین کے نرغے میں پھنسی خاتون کی روداد: ’مجھے زیر جامہ میں دیکھ کر اُس نے کہا کہ میرا جسم بہتر حالت میں نہیں ہے‘

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی