
BBCجنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کی موت کے ایک ہفتے بعد انیا (فرضی نام) نے نیویارک میں واقع اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے کے باہر ایپسٹین کے بھائی مارک کو کھڑا پایا، جنھوں نے انیا کو بتایا کہ اب اُنھیں یہ گھر خالی کرنا ہو گا۔انیا گذشتہ کئی برسوں سے مینہیٹن کی ایسٹ 66ویں سٹریٹ میں واقع اُن متعدد فلیٹس میں سے ایک میں رہتی رہی تھیں جنھیں جیفری ایپسٹین اُن خواتین کی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال کرتا تھا جنھیں وہ استحصال کا نشانہ بناتا تھا۔ اینا کے بقول جب انھوں نے مارک کی بات سُنی تو اگرچہ ایک ہی لمحے کے لیے اُن کے ذہن میں گھر چھننے کا خیال آیا، لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی کہ یہ ایک طویل اور بھیانک خواب کا خاتمہ تھا۔ (یاد رہے کہ مارک ایپسٹین اِس بات کی تردید کرتے ہیں کہ انھیں اپنے بھائی جیفری ایپسٹین کے مبینہ غلط کاموں کا علم تھا۔)انیا کہتی ہیں کہ ’میں آج بھی اِس حقیقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ مجھے برسوں تک استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ کسی کمرے میں زنجیروں میں جکڑی گئی تھیں یا انھیں کسی تہہ خانے میں بند کیا گیا تھا، اگرچہ حقیقت میں زنجیریں موجود نہیں تھیں مگر صورتحال کچھ ایسی ہی تھی۔انیا کے مطابق، جیفری ایپسٹین کہا کرتے تھے کہ اُن کا آپریشن (یا ترتیب دیا گیا نظام) ’ایک کلٹ (فرقہ یا گروہ) کی طرح ہے، اور وہ اس گروہ کا سربراہ ہیں۔‘انھوں نے بی بی سی کو جیفری ایپسٹین کے معاونین میں سے ایک کے طور پر کام کرنے کی اپنی زندگی کی روداد سنائی ہے۔ اُن کے مطابق، یہ ایک ایسا نظام تھا جس کے ذریعے ایپسٹین بڑی تعداد میں متاثرہ خواتین کو طویل عرصے تک اپنے قابو میں رکھ پائے۔انیا کے اندازے کے مطابق، جیفری اسسٹنٹس کے معاونین کے گروہ میں تقریباً ایک درجن خواتین شامل ہوتی تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایپسٹین انھیں رہائش فراہم کرتا تھا، اور یہ معاونین ایپسٹین کی ہدایات پر کام کرتی تھیں، اور باقاعدگی سے اس کے جنسی استحصال کا شکار بھی بنتی تھیں۔انیا کا کہنا ہے کہ انھیں (معاون خواتین کو) دھوکے، جھوٹے وعدوں اور بہتر مستقبل اور کیریئر کے خواب دِکھا کر ساتھ ملایا جاتا اور اُس کے بعد، انیا کے بقول، ایپسٹین اِن خواتین کی زندگیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا اور اُن کی ہر اُس کمزوری سے فائدہ اٹھایا جاتا جس کا علم ایپسٹین کو ہوتا تھا۔وہ بتاتی ہیں کہ جیفری ایپسٹین اُن کے مالی معاملات پر کنٹرول حاصل کرتا، وہ یہ بھی طے کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ یہ خواتین آئندہ کن لوگوں سے ملیں گی، اور نفسیاتی طور پر انھیں کمتر محسوس کرواتا تھا۔ انیا کے مطابق، جیفری ایپسٹین ان خواتین یا معاونین کے جسمانی خد و خال پر بھی غیر معمولی حد تک نظر رکھتا تھا اور انھیں ایسی غیر ضروری سرجریز کروانے پر آمادہ کرتا تھا جو جسمانی اعضا کی ہیئت کو بدل دیتیں۔ایپسٹین کی جانب سے متاثرہ خواتین کی زندگیوں پر اس حد تک کنٹرول کے بارے میں انیا کا دیا گیا بیان ایپسٹین کی ایک اور سابق معاون، سارہ کیلن، کی گواہی سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ سارہ کیلن نے رواں برس امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ ایپسٹین خود کو اپنی معاونین یا اسسٹنٹس کا نجات دہندہ ظاہر کرتا تھا۔ان کے الفاظ میں ’وہ لوگوں (متاثرہ خواتین) کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور خودمختاری کو کمزور کرنے میں بہت ماہر تھا۔ نتیجتاً آپ اس پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرنے لگتے تھے۔‘ماہرِ نفسیات ڈاکٹر تارا کوئن سیریلو کہتی ہیں کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف کم عمر افراد یعنی بچے ہی اس طرح کے جبر اور گرومنگ کا شکار ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقت اِس سے مختلف ہے۔اُن کے بقول ’بالغ افراد بھی گرومنگ کا شکار ہو سکتے ہیں اور بعض حالات میں کمزور ثابت ہو سکتے ہیں۔‘’مکمل منصوبہ بندی‘سنہ 2008 میں جیفری ایپسٹین کو ایک نوعمر لڑکی کے استحصال کے جرم میں سزا سُنائی گئی تھی۔ اس لڑکی کو ایپسٹین نے مساج کا کام کرنے کی پیشکش کے بہانے اپنے گھر بلایا تھا۔ انیا کے مطابق، یہ سزا سنائے جانے کے بعد جیفری ایپسٹین نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی اور زیادہ تر بالغ خواتین کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اِن متاثرہ خواتین کا تعلق عموماً روس اور مشرقی یورپ کے دیگر ممالک سے ہوتا تھا۔تاہم انیا کا کہنا ہے کہ اُن سمیت بہت سی خواتین بالغ ہونے کے باوجود نوعمر لڑکیوں جیسی دکھائی دیتی تھیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو اپنی اُس دور کی تصاویر بھی دکھائیں۔انیا روس میں پلی بڑھیں اور جب وہ بڑی ہو رہی تھیں تو روس کمیونسٹ نظام کے خاتمے کے بعد کے دور سے گزر رہا تھا۔ انیا کے مطابق اُن کے سخت گیر والدین ہمیشہ اُن سے کہا کرتے تھے کہ ’تعلیم ہی تمھاری کامیابی کی ضمانت ہے۔‘ مگر انیا کے مطابق اس دور کے روس میں مواقع محدود تھے، اور یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ماڈلنگ کے شعبے میں کام کرنے کی غرض سے روس کو خیرباد کہہ دیا۔انھوں نے یورپ میں فینڈی اور چینل جیسے معروف لگژری برانڈز کے لیے کام کیا۔ وہاں اُن کے دوست تھے، ایک مضبوط سماجی حلقہ تھا اور ایک ایسا خاندان تھا جس کے پاس وہ جب چاہتیں، واپس جا سکتی تھیں۔مگر پھر اُن کی زندگی کا رُخ اُس وقت بدلا جب انھوں نے پیرس میں ایک ماڈلنگ ایجنسی کا دورہ کیا اور وہاں ماڈلنگ سکاؤٹ ڈینیئل سیاد سے اُن کی ملاقات ہوئی۔ انیا کے مطابق، ڈینیئل سیاد نے اُن کی ذہانت کی تعریف کی، جو اُن کے بقول ’ماڈلنگ کی دنیا میں غیر معمولی بات تھی۔‘ اور پھر انھیں ایک ایسے شخص سے ملوانے کی پیشکش کی جس کے فیشن انڈسٹری میں وسیع روابط تھے: یعنی جیفری ایپسٹین سے۔انیا کہتی ہیں کہ وہ اکثر سوچتی تھیں کہ اگر وہ اُس روز اُس ماڈلنگ ایجنسی میں نہ رُکی ہوتیں تو اُن کی زندگی آج کیسی ہوتی؟ آج ان کو یقین ہے کہ انھیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا تھا۔انیا کہتی ہیں کہ ’یہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔‘ان کے مطابق ڈینیئل سیاد ’بنیادی طور پر ایک پیشہ ور انسانی سمگلر‘ تھا۔سیاد کا نام جن دستاویزات میں بار بار سامنے آیا، وہ اُن ہزاروں صفحات پر مشتمل ریکارڈ کا حصہ ہیں جنھیں امریکی حکومت نے جنوری میں جاری کیا تھا۔ سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تبصرے کے لیے دستیاب نہیں ہیں، تاہم ماضی میں وہ اِس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ انھیں ایپسٹین کے خطرناک رویوں یا سرگرمیوں کا علم تھا۔انیا کے مطابق، اُن کی ایپسٹین سے پہلی ملاقات پیرس میں اُس کے 18 کمروں پر مشتمل وسیع اپارٹمنٹ میں ہوئی تھی، اس اپارٹمنٹ میں ایسی بہت سے تصاویر ٹنگی ہوئی تھیں جن میں ایپسٹین سابق امریکی صدر بِل کلنٹن سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ موجود نظر آتے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ جیفری ایپسٹین سے ہوئی اس پہلی ملاقات کے دوران وہ خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھیں کیونکہ وہاں دو اور خواتین بھی موجود تھیں۔ ان میں ایک روسی خاتون تھی جبکہ دوسری ایپسٹین کی گرل فرینڈ تھیں جن کا تعلق مشرقی یورپ سے تھا۔انیا کے مطابق، ایپسٹین نے کہا کہ وہ ماڈلنگ کے نقطۂ نظر سے اُن کا جسم دیکھنا چاہتے ہیں، جس کے بعد انھوں نے انھیں کپڑے اُتارنے کو کہا گیا۔ انیا بتاتی ہیں کہ جب وہ زیرِ جامہ میں کھڑی تھیں تو ایپسٹین نے انھیں بتایا کہ وہ ’اچھی جسمانی حالت میں نہیں ہیں۔‘ انھیں مزید ورزش کرنے کا مشورہ دیا گیا اور سُست کہا گیا۔Getty Imagesانیا کی جیفری ایپسٹین سے پہلی ملاقات آرک دے تریومف کے قریب واقع اس کے کئی کمروں پر مشتمل اپارٹمنٹ میں ہوئی تھیانیا کا کہنا ہے کہ ماڈلنگ کی دنیا میں اس نوعیت کے تبصرے عام سمجھے جاتے تھے، اسی لیے انھوں نے اس کی باتوں پر یقین کر لیا۔ اُن کے بقول، جیفری ایپسٹین نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر وہ (انیا) محنت کریں گی تو وہ انھیں فیشن انڈسٹری کے اہم لوگوں سے متعارف کروائے گا۔وہ کہتی ہیں کہ اُس نے اُن سے اُن کے خاندان، مشاغل اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بھی سوالات کیے۔’وہ پوچھتا تھا کہ میں زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتی ہوں، ماڈلنگ کیوں کر رہی ہوں، اور وہ تمام باتیں جو میرے لیے اہم تھیں۔‘انیا کے مطابق، فیشن کی دنیا میں عام طور پر کوئی اس نوعیت کے سوالات نہیں کرتا۔بی بی سی سے گفتگو کرنے والی متعدد خواتین کا کہنا تھا کہ ایپسٹین لوگوں کی زندگیوں اور اُن کی ترجیحات کے بارے میں تفصیلات جاننے میں خاص دلچسپی لیتا تھا، اور بعد میں ان معلومات کو انھیں خواتین پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتا تھا۔انیا کے مطابق، انھوں نے ان کے ایک خدشے کا براہِ راست جواب بھی دیا۔وہ یاد کرتی ہیں کہ ایپسٹین نے کہا کہ ’میں دیکھ سکتا ہوں کہ تم ذہین ہو اور محتاط بھی۔ میں تمھارے ساتھ سونا نہیں چاہتا۔‘انیا کہتی ہیں کہ اس جملے نے انھیں مزید مطمئن کر دیا۔وہ بتاتی ہیں کہ ’میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ یہ شخص تو واقعی کمال ہے۔ یہ تو میرے دل کی بات بھی سمجھ لیتا ہے۔‘’منظم گرومنگ‘انیا کے مطابق، یہ دراصل ایک ایسے عمل کا آغاز تھا جس میں انھیں کئی مہینوں تک مختلف وعدوں اور فریب کے ذریعے اپنے زیر اثر رکھا گیا۔وہ بتاتی ہیں کہ تقریباً ایک سال تک وہ ایپسٹین کی توقعات کے مطابق اپنی جسمانی فٹنس بہتر بنانے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرتی رہیں۔ اُن کے مطابق، ایپسٹین کی ایگزیکٹیو اسسٹنٹ لیسلی گرف اُن کی پیش رفت کے بارے میں ای میلز کے ذریعے معلومات لیتی رہتی تھیں، جبکہ ایپسٹین بھی اُن پر مسلسل دباؤ ڈالتا تھا۔انیا کا کہنا ہے کہ بالآخر ایپسٹین نے اُن کی ملاقات ماڈلنگ ایجنسی ’نیکسٹ مینجمنٹ‘ کی شریک بانی فیتھ کیٹس سے کروائی، جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا۔ ان کے مطابق، یہ ملاقات آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت جاری رہی اور انھیں بتایا گیا کہ انھیں اس کے نتیجے کے بارے میں بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔انیا کہتی ہیں کہ بعد میں ایپسٹین نے انھیں بتایا کہ ایجنسی انھیں ملازمت نہیں دینا چاہتی کیونکہ وہ، ایپسٹین کے بقول، ’نیویارک کی فیشن مارکیٹ کے معیار پر پوری نہیں اُترتیں۔‘ انیا کے مطابق، ایپسٹین نے یہ بھی کہا کہ انھیں اپنی جسمانی فٹنس مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔Getty Imagesانیا کے مطابق ایپسٹین نے نیکسٹ مینجمنٹ کی شریک بانی، فیتھ کیٹس، کے ساتھ ایک ملاقات کا بندوبست کروایا تھاوہ بتاتی ہیں کہ اس خبر نے انھیں شدید مایوس کر دیا تھا۔ بعد ازاں ایپسٹین نے انھیں فلوریڈا کے شہر پام بیچ آنے کی دعوت دی، جہاں وہ اپنی سزا کے دوران مخصوص شرائط کے تحت وقت گزار رہے تھے۔ انیا کے مطابق، انھوں نے اپنی سزا کی ذمہ داری بھی دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی۔انیا کہتی ہیں کہ اس دور کے واقعات نے انھیں الجھن اور شک میں مبتلا کر دیا۔ ان کے بقول، ایک عرصے تک وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہیں کہ آخر جو کچھ ہو رہا تھا اس میں مسئلہ کہاں تھا۔وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے خود سے کہا کہ شاید میرا ہی ردعمل غلط ہے۔ شاید یہ میری پرورش یا میرے پس منظر کا اثر ہے۔ میں یہی سوچتی رہی کہ مسئلہ شاید مجھ میں ہے، اُس میں نہیں۔‘انیا کے مطابق، کئی برس بعد منظرعام پر آنے والی دستاویزات اور ای میلز نے انھیں حالات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا۔ ان کے بقول، ان ریکارڈز سے ظاہر ہوتا تھا کہ فیتھ کیٹس کے ساتھ ملاقات کے باوجود انھیں اس سے بہت پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔انیا کہتی ہیں کہ تب انھیں احساس ہوا کہ انھیں مہینوں تک امید دلائی جاتی رہی اور ایک ایسی صورتحال میں رکھا گیا جس میں وہ بتدریج زیادہ کمزور اور تنہا ہوتی گئیں۔’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا‘: جیفری ایپسٹین کے متاثرین کی بی بی سی سے گفتگو’ایپسٹین نے مجھے تین سال تک ریپ کا نشانہ بنایا‘نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟ماہرِ نفسیات ڈاکٹر تارا کوئن سیریلو کے مطابق، اس نوعیت کا رویہ اکثر اس انداز میں اختیار کیا جاتا ہے کہ متاثرہ شخص کو فوری طور پر خطرے کا احساس نہ ہو۔ ان کے بقول، یہ عمل آہستہ آہستہ اعتماد حاصل کرنے اور کنٹرول بڑھانے پر مبنی ہوتا ہے۔اُدھر فیتھ کیٹس کے وکیل نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی مؤکلہ کا ایپسٹین کی مبینہ انسانی سمگلنگ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ غلط اور ہتک آمیز ہے۔وکیل کے مطابق، یہ دعویٰ بھی ’غیر معمولی، غلط اور غیر مصدقہ‘ ہے کہ ایجنسی کے فیصلے ایپسٹین کے ذریعے امیدواروں تک پہنچائے جاتے تھے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ماڈلز کے انتخاب یا عدم انتخاب کے فیصلے ایجنسی خود کرتی تھی اور اس سلسلے میں ایپسٹین کی منظوری یا رائے شامل نہیں ہوتی تھی۔نیکسٹ مینجمنٹ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی کا ایپسٹین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور کیٹس سے منسوب مبینہ اقدامات ان کی ذاتی حیثیت میں تھے۔’میرے لیے کام کرو‘انیا کے مطابق، ایپسٹین نے ماڈلنگ میں کامیابی کے خواب دکھا کر انھیں امید دلانا جاری رکھی۔ اسی سلسلے میں اُس نے اُن کی ملاقات ماڈلنگ ایجنسی ’ایم سی ٹو‘ کے بانی ژاں لوک برونیل سے بھی کروائی۔ تاہم، ان کے بقول، ایپسٹین نے یہ بات نہیں بتائی کہ وہ اس کمپنی کے مالی معاونین میں سے ایک تھے۔ (ایم سی ٹو کے میامی اور نیویارک دفاتر بعد میں بند ہو گئے تھے، جبکہ اسرائیل میں اس کی باقی ماندہ برانچز کے بانی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔)انیا کا کہنا ہے کہ اس ایجنسی کے ذریعے انھیں ’تقریباً نہ ہونے کے برابر‘ کام ملا۔ اُن کے مطابق، اُن کا ایجنٹ اکثر انھیں یہ کہہ کر پام بیچ بھیجتا تھا کہ وہاں ایک ’ڈائریکٹ بکنگ‘ طے ہے۔ لیکن انیا کے بقول، وہاں ماڈلنگ سے متعلق کوئی کام نہیں ہوتا تھا بلکہ انھیں مزید استحصال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔کچھ عرصے بعد ایپسٹین نے انھیں بتایا کہ ماڈلنگ میں ان کے لیے کامیابی کے امکانات کم ہیں اور یہ کہ یہ انڈسٹری اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ انیا کو یاد ہے کہ ایپسٹین نے کہا تھا کہ ’میرے لیے کام کرو، میں تمھیں اصل کاروبار سکھاؤں گا۔ تم سفر کرو گی اور دنیا بھر کے اہم لوگوں سے ملو گی۔‘Miami Herald via Getty Newsانیا کو فلوریڈا کے پام بیچ میں ایپسٹین کے پاس لایا گیا، جہاں اُن کا استحصال کیا گیالیکن ایپسٹین کی اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا ہرگز ویسا نہیں تھا جیسا انیا نے سوچا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ایپسٹین نے انھیں کاروبار کے بارے میں کچھ نہیں سکھایا۔اس کے بجائے، اُن کا کہنا ہے، کہ وہ زیادہ تر وقت بس بیٹھی رہتیں اور اس انتظار میں ہوتیں کہ ایپسٹین انھیں کوئی کام دے، جبکہ ایپسٹین انھیں کچھ نہ کرنے اور بیٹھے رہنے پر لتاڑتا رہتا تھا۔ کبھی کبھار وہ انھیں معمولی نوعیت کے کام دے دیتا تھا، جیسے فون کا جواب دینا، کسی کو میٹنگ روم کا راستہ دکھانا، یا کسی مہمان کی آمد کی اطلاع دینا۔اس سب کے باوجود، انیا کہتی ہیں کہ معاونین 24 گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتی تھیں۔ انیا بتاتی ہیں کہ ایک بار وہ کسی سے ملنے کے لیے دوپہر کے کھانے پر باہر نکلیں تو ایپسٹین ’پاگلوں کی طرح غصے میں آ گیا‘، ایپسٹین نے انھیں بار بار فون کیا اور اصرار کیا کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر کبھی گھر سے باہر نہیں جا سکتیں۔انیا کا انحصار مکمل طور پر ایپسٹین پر تھا۔ اُن کے مطابق، اگر وہ بیمار ہو جاتیں اور انھیں علاج معالجے کی ضرورت ہوتی، تو وہ اُن سے کہتا کہ ’میں ہی تمھاری میڈیکل انشورنس ہوں۔‘ اینا کے پاس نہ تو کوئی اپنا بینک اکاؤنٹ تھا اور نہ ہی اپنا گھر لینے کے لیے ضروری دستاویزات اُن کی دسترس میں تھیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ایپسٹین نے انھیں چند بار مینہیٹن کے اپارٹمنٹ سے نکال باہر کیا اور کہا کہ وہ اپنا بندوبست کر لیں۔اینا کہتی ہیں کہ یہ کنٹرول حاصل کرنے کے انتہائی سخت ہتھکنڈے تھے۔انیا کہتی ہیں کہ ایپسٹین نے کئی برس بعد جا کر انھیں معمولی تنخواہ دینا شروع کی اور وہ بھی صرف اس لیے کہ ان کے ویزا کی یہی شرط تھی۔ وہ اکثر کہتے تھے ’فکر مت کرو، میں ہمیشہ تمھارا خرچہ اٹھاؤں گا۔‘ انیا کے مطابق، اس پورے عرصے کے دوران جنسی بدسلوکی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔سارہ کیلن نے بھی امریکی قانون سازوں کے سامنے کچھ ایسی ہی صورتحال بیان کی تھی۔ انیا کے مطابق ’میرے پاس نہ پیسے تھے، نہ خاندان، نہ تعلیم، اور نہ ہی مجھ میں یہ احساس تھا کہ میں اس سے بہتر کسی چیز کی حقدار ہوں۔‘ اس دوران ایپسٹین ان کے سامنے اپنی طاقت اور تعلقات کا رعب جماتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جیفری نے مجھے اس بات کا پکا یقین دلا دیا تھا کہ اس کی نافرمانی کی قیمت مجھے اپنی جان دے کر چکانی پڑے گی۔‘’تم کبھی میرے خلاف نہیں ہو گی‘انیا کے مطابق، ایک موقع پر ایپسٹین کی ایک اسسٹنٹ وہاں سے فرار ہو گئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس خاتون نے بھاگ نکلنے کے بعد انھیں فون کیا تھا، جس کے بعد انیا کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں ایپسٹین کو ان کے رابطے کا علم نہ ہو جائے۔ اُن کے بقول، ایپسٹین ہی اُن کا فون فراہم کرتا تھا اور اُن کے کال ریکارڈ پر بھی نظر رکھتا تھا۔انیا کا کہنا ہے کہ بھاگ جانے والی اسسٹنٹ کا سراغ لگانے کے لیے ایپسٹین نے ایک نجی تفتیش کار کی خدمات حاصل کیں۔ اُن کے مطابق، انھوں نے انھیں ایک ای میل بھی دکھائی جس میں اُن اخراجات کی فہرست شامل تھی جو بظاہر اس خاتون کے ذمے واجب الادا قرار دیے گئے تھے۔ انیا کے مطابق یہ رقم مجموعی طور پر سات لاکھ ڈالر کے قریب تھی۔وہ کہتی ہیں کہ اس واقعے سے انھیں ایک واضح پیغام ملا: اگر کوئی وہاں سے جانے کی کوشش کرے گا تو اس کا تعاقب کیا جائے گا اور اس سے مالی مطالبات بھی کیے جا سکتے ہیں۔انیا کے بقول، خواتین پر اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے ایپسٹین صرف اسی طریقے پر انحصار نہیں کرتا تھا۔ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ لوگوں کے بارے میں ذاتی اور حساس نوعیت کا مواد بھی جمع کرتا تھا اور گاہے بگاہے انھیں یاد دلاتا رہتا تھا کہ اس کے پاس اُن سے متعلق نجی معلومات موجود ہیں۔وہ ایک ایسے فوٹو شوٹ کا بھی ذکر کرتی ہیں جس میں، اُن کے مطابق، ایپسٹین نے اپنی اسسٹنٹس کو شریک کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے۔ انیا کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ایپسٹین نے ایسا تاثر دیا کہ یہ ریکارڈنگ مستقبل میں اُن کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہے۔انیا کے الفاظ میں، یہ مواد اس کے لیے ایک طرح کے ریکارڈ کی حیثیت رکھتا تھا، جسے وہ دوسروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔Getty Imagesسارہ کیلن نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ایپسٹین اپنی معاونین کے احساس خودمختاری کو ’تباہ‘ کرنے میں بہت ماہر تھاانیا کے مطابق، ایپسٹین اپنی اسسٹنٹس سے ایسی ای میلز بھی لکھواتا تھا جنھیں وہ ’شکر گزاری کے خطوط‘ کہتی تھیں۔ان ای میلز میں خواتین ایپسٹین کی تعریف کرتی تھیں اور اس کا شکریہ ادا کرتی تھیں۔ انیا کہتی ہیں کہ وہ اس بات سے خوفزدہ رہتی تھیں کہ کہیں وہ اس کا کافی شکریہ ادا نہ کر سکیں۔ان کے بقول ’میرے خیال میں یہ خطوط لکھوانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر آپ مسلسل کسی کا شکریہ ادا کر رہے ہوں تو پھر اس کے خلاف آواز اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘انیا کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین اپنی اسسٹنٹس کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔ اُن کے مطابق، وہ ایک متاثرہ خاتون کے بارے میں دوسری متاثرہ خاتون کو یہ تاثر دیتا تھا کہ وہ اس کی کارکردگی سے ناخوش ہے، جبکہ ساتھ ہی خود کو اس کا سب سے بڑا حمایتی اور مددگار ظاہر کرتا تھا۔ انیا کے مطابق، اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین کے درمیان قریبی تعلقات قائم نہ ہو سکے، اور اس کے ذریعے ان پر کنٹرول برقرار رکھنا آسان ہو گیا۔ہم سے گفتگو کے دوران انیا اپنے جسم پر موجود چند نشانات بھی دکھاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ماڈلنگ کے زمانے کی اپنی پرانی تصاویر سامنے رکھتی ہیں جن میں اُن کے جسم پر نوجوانی کے دور کا ایک چھوٹا سا ٹیٹو دیکھا جا سکتا ہے۔انیا کا کہنا ہے کہ ایپسٹین چاہتے تھے کہ وہ یہ ٹیٹو ختم کروا دیں۔ ان کے مطابق، اس مقصد کے لیے ایک ڈاکٹر ان کی رہائش گاہ پر آیا تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ روایتی طریقۂ علاج اختیار کرنے کے بجائے ایک نسبتاً سخت طریقہ تجویز کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے جسم پر مستقل نشانات رہ گئے۔انیا کے مطابق، ایک سال بعد اس عمل کو دوبارہ دہرانے پر زور دیا گیا کیونکہ پہلی بار حاصل ہونے والے نتائج ایپسٹین کی توقعات کے مطابق نہیں تھے۔’استحصال کا ایک مکمل نظام‘انیا کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب وہ اپنے ماضی کے اُس پہلو کا ذکر کرتی ہیں جسے وہ ایپسٹین کے ساتھ گزارے گئے وقت کا ’سب سے شرمناک‘ حصہ قرار دیتی ہیں۔ اُن کے مطابق، دوسری خواتین کو اس دائرے میں لانے کے لیے ان پر بھی دباؤ ڈالا جاتا تھا۔وہ بتاتی ہیں کہ ہر اسسٹنٹ سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ کم از کم ایک اور خاتون کو متعارف کروائے، اور ایپسٹین خاص طور پر نوجوان خواتین کو لانے پر زور دیتا تھا۔انیا کہتی ہیں کہ ’چاہے آپ ایک شخص کو لائیں یا دس کو، آپ خود کو اسی عمل کا حصہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔‘ان کے مطابق، وہ اب اس لیے اپنی کہانی بیان کر رہی ہیں تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ خواتین کس طرح اس کے اثر و رسوخ اور کنٹرول کے نظام کا شکار ہو جاتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اس کا استحصال صرف کم عمر افراد تک محدود تھا۔ ان کے بقول، بالغ خواتین بھی اس نظام کی زد میں آتی تھیں۔انیا کہتی ہیں کہ ’اس نے ایسا پورا نظام قائم کر رکھا تھا جو صرف اسی کے مفاد کے لیے کام کرتا تھا۔ جب آپ دیکھتے ہیں کہ بل گیٹس جیسے بااثر لوگ اس کے گھر آ رہے ہیں، اس سے مل رہے ہیں اور اس کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، تو آپ خود سے سوال کرتے ہیں کہ آخر آپ کون ہوتے ہیں اس پر شک کرنے والے؟ ایسے ماحول میں آواز اٹھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘بعد میں انیا اور سارہ کیلن، دونوں کو ایپسٹین وکٹمز کمپنسیشن فنڈ سے مالی معاوضہ ملا۔ یہ فنڈ متاثرین کی مدد کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اس کے تحت دعوے منظور کروانے کے لیے متاثرین کو اپنے تجربات اور شواہد پیش کرنا پڑتے تھے۔انیا کہتی ہیں کہ ’جب ایپسٹین زندہ تھا، میں نے اس بارے میں کسی ایک شخص سے بھی بات نہیں کی تھی۔‘اب وہ امید کرتی ہیں کہ ان کی کہانی کسی ایسی خاتون کے لیے حوصلے کا باعث بنے گی جو کسی استحصال پر مبنی تعلق میں پھنسی ہوئی ہے۔اُن کے بقول ’میں کوئی غیر معمولی انسان نہیں ہوں۔ میں نے صرف کسی طرح اپنے اندر یہ ہمت پیدا کی کہ حالات کا مقابلہ کر سکوں اور آگے بڑھ سکوں۔ اگر میں یہ کر سکتی ہوں تو آپ بھی کر سکتی ہیں۔‘