دوسرے دن کا کھیل ختم: علی عثمان نے ’پانچ وکٹیں لے کر تنقید کو غلط اور سلیکشن کو درست ثابت کر دیا‘


Getty Imagesانگلینڈ کی ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرےدن کے اختتام پر آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 366 رنز بنا لیے ہیں۔اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں صر 171 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی تھی۔انگلینڈ کی طرف سے ہیری بروک نے 91، جارڈن کوکس نے 73، جو روٹ نے 66 اور ڈین لارنس نے 51 رنز بنائے۔انگلینڈ کی طرف سے ابھی جیمی سمتھ 16 رنز اور جوفرا آرچر صفر پر کریز پر موجود ہیں۔ انگلینڈ کو اس وقت پاکستان پر 195 رنز کی سبقت حاصل ہے۔پاکستان کی جانب سے علی عثمان نے پانچ اور محمد عباس، خرم شہزاد اور محمد علی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی ہے۔جہاں سوشل میڈیا پر پاکستانی بلے بازوں پر تنقید ہو رہی ہے وہیں سپنر علی عثمان کی تعریفیں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔عثمان نامی ایک صارف نے لکھا کہ جس وکٹ پر انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نے 10 وکٹیں لیں، وہیں علی عثمان نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔’انھوں نے پانچ وکٹیں لے کر تمام تر تنقید کو غلط اور اپنی سلیکشن کو درست ثابت کیا ہے۔‘سپورٹس تجزیہ کار مظہر ارشد نے لکھا کہ ’ٹیسٹ کرکٹ میں لیڈز میں کسی غیرملکی سپنر کو پانچ وکٹیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔ علی عثمان سے قبل نیوزی لینڈ کے سپنر ٹام برٹ نے ایسا 77 برس قبل کیا تھا۔‘ان کے علاوہ پاکستان کے تمام بولرز اور بیٹرز پر تنقید کی جا رہی ہے۔راجہ محمد حسیب نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستان ایک ناقص ٹی20 ٹیم ہے جس کا کوئی بھی بلے باز 140 یا 150 کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ نہیں کرتا اور یہ ایک ناقص ٹیم ہے جس کا کوئی بھی بولر 140 یا 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ نہیں کر سکتا۔‘دوسری جانب انگلینڈ کے بلے باز ہیری بروک ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف اچھی بلے بازی کے بعد داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں۔ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ہیری بروک ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے اچھے بلے باز بن سکتے ہیں۔ وہ جو روٹ جتنے مجموعی رنز تو شاید نہ بنا پائیں لیکن ان سے زیادہ رنز بنانے کی اوسط ضرور حاصل کر لیں گے۔اولی رابنسن اور جوش ٹنگ کی بولنگ کے سامنے پاکستانی بلے باز بےبسGetty Imagesجس طرح کسی فٹبالر کے لیے ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد میچ کی گیند اپنے پاس رکھنا ایک روایت ہے، اسی طرح کوئی بولر پانچ وکٹیں لینے کے بعد کرکٹ کی گیند اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔لیکن اگر ایک ہی اننگز میں دو بولرز پانچ پانچ وکٹیں لے لیں تو کیا ہوتا ہے؟انگلینڈ کے فاسٹ بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن پانچ، پانچ وکٹیں لینے کے بعد اس کا ایک حل نکال لیا۔ٹنگ نے ٹیسٹ میچ سپیشل سے کہا کہ ’روبو نے کہا کہ ہم گیند کو آدھا آدھا تقسیم کر سکتے ہیں۔ گراؤنڈ اسٹاف نے مہربانی کرتے ہوئے ایسا کر دیا۔‘’میں نے پہلی بار ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اسے کہیں سجا کر رکھوں گا۔‘رابنسن نے میڈیا کانفرنس میں اپنی آدھی گیند دکھائی اور وضاحت کرتے ہوئے کہا ’ہم میدان سے باہر آ رہے تھے۔‘’جاش نے یہ بات کہی اور میں نے کہا 'ہمیں واقعی ایسا کرنا چاہیے، یہ کافی دلچسپ ہوگا۔‘’کرکٹ کی گیند کے آدھے حصے رکھنے کی مثال زیادہ نہیں ، اس لیے یہ ایسی چیز ہوگی جسے ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔‘ان دونوں فاسٹ بولرز کی شاندار کارکردگی نے جو روٹ کو انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کے طور پر اپنے دوسرے دور کے پہلے دن بہترین آغاز دلانے میں مدد دی۔انگلینڈ نے ٹاس جیتنے کے بعد ٹنگ نے 46 رنز دے کر 5 وکٹیں اور رابنسن نے 51 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت پاکستان کی پوری ٹیم 171 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ عبداللہ شفیق 61 رن بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔ دن کے اختتام تک لیڈز میں میزبان ٹیم کا سکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز تھا۔ٹنگ اور رابنسن 2006 میں اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستان کے خلاف سٹیو ہارمیسن اور مونٹی پنیسر کے بعد انگلینڈ کے وہ پہلے بولرز ہیں جنھوں نے ایک ہی ٹیسٹ اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ہیڈنگلے میں وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے میدان سے باہر آئے اور ایک گیند کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا۔رابنسن نے کہا ’ٹیم منیجر وین بینٹلی اسے گراؤنڈ سٹاف کے پاس لے گئے۔‘’میں نے کہا کہ ’کیا آپ کے خیال میں وہ یہ کر سکیں گے؟‘ پانچ منٹ کے اندر وہ اسے واپس لے آئے اور کام ہو چکا تھا۔ یہ واقعی بہت اچھا ہے۔‘’جو مرضی کرنا ہے، کرو‘: جب عمران خان سے ناراض سلیم ملک نے انڈین بولرز کی پٹائی کر دیآسٹریلیا میں بنگلہ دیش کی ’سب سے بڑی فتح‘، وزیر اعظم کی مبارکباد اور ڈارون میں نظریہ ارتقا کا سبقبابر اعظم کی بطور کپتان واپسی: ’حیرت ہے بابر ہر بار کپتانی کیسے قبول کر لیتے ہیں؟‘کوچ سے مکالمہ اور پھر پی ایس ایل میں رنز کے انبار: بابر اعظم کی فارم میں واپسی کی کہانی کامیابی اور بیٹی کی دوہری خوشیرابنسن کے لیے پہلے ٹیسٹ میں یہ کامیابی اس وقت آئی جب صرف چند روز قبل ان کی اہلیہ میا کے ہاں ان کے پہلے مشترکہ بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ ننھی ایوا گذشتہ جمعرات کی علی الصبح پیدا ہوئی تھی۔رابنسن، جن کا ایک اور بچہ بھی پچھلے رشتے سے ہے، نے کہا ’جب سے میں لیڈز کے ہوٹل پہنچا ہوں، اپنی نیند پوری کر رہا ہوں۔‘’ایک اور بچے کی پیدائش واقعی ایک بہت خاص ہفتہ بنا دیتی ہے۔ جب آپ پیدائش کے بعد اپنے بچوں سے دور ہوتے ہیں اور پھر اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو آج کا دن اور بھی زیادہ خوشگوار لگتا ہے۔ آج ایسا کرنا میرے لیے بہت اہم تھا۔‘’میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں موجود نہیں ہیں، لیکن میں پورا وقت انہی کے بارے میں سوچتا رہا۔‘رابنسن کی یہ بولنگ، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی پانچویں پانچ وکٹوں کی کارکردگی تھی، انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی کے بعد ان کی مسلسل کامیابی کا تسلسل ہے۔ انھیں موسمِ گرما کے آغاز میں دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔32 سالہ رابنسن نے اپنی فٹنس کے بارے میں خدشات کے باعث دو سال سے زیادہ عرصے تک ٹیم سے باہر رہنے کے بعد لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا۔رابنسن نے اپنی واپسی کو یادگار بناتے ہوئے بلیک کیپس کے خلاف میچ میں مجموعی طور پر سات وکٹیں حاصل کیں، جن میں ایک اننگز میں پانچ وکٹیں بھی شامل تھیں۔اب ان کے نام 21.25 کی اوسط سے 88 ٹیسٹ وکٹیں ہیں۔ 1914 کے بعد سے انگلینڈ کے کسی بھی فاسٹ بولر نے اس سے بہتر اوسط کے ساتھ اتنی زیادہ وکٹیں حاصل نہیں کیں۔رابنسن نے کہا ’میرا خیال ہے کہ ٹیم سے باہر رہنے کے دوران میں نے اپنے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔‘’اس وقت میں شاید خود کو پہلے سے بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ میں شاید ابھی اتنی اچھی ردھم میں نہیں ہوں، حالانکہ وکٹیں لینے کے بعد یہ بات عجیب لگ سکتی ہے، لیکن میں اتنی اچھی ردھم میں نہیں ہوں جتنا میں چاہتا ہوں۔‘’اگر میں مسلسل کھیلتا رہوں اور فٹ رہوں تو امید ہے کہ وہ ردھم حاصل کر لوں گا اور اچھی کارکردگی جاری رکھ سکوں گا۔‘پاکستان کا انگلینڈ میں ٹیسٹ ریکارڈخیال رہے کہ نوے کی دہائی میں پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ میں ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔ پاکستان نے سنہ 1992 میں جاوید میانداد کی کپتانی میں انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان ریٹائر ہو چکے تھے اور پاکستان کی ٹیم ون ڈے ورلڈ کپ کی فاتح تھی۔ چار سال بعد پاکستان نے سنہ 1996 میں ایک بار پھر انگلینڈ کو شکست دی، اس مرتبہ پاکستان ٹیم کی کپتانی وسیم اکرم کر رہے تھے۔ لیکن اس کے بعد پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ اور نیوٹرل وینیو متحدہ عرب امارات میں تو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتتا رہا ہے۔ لیکن 30 سال گزرنے کے باوجود دوبارہ انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ سنہ 2016 میں مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے چار ٹیسٹ میچز کی سیریز دو، دو سے برابر کی تھی۔ سنہ 2018 میں بھی پاکستان نے دو ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک، ایک سے برابر کی تھی۔پاکستان نے آخری مرتبہ سنہ 2020 میں انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی جس میں اسے ایک، صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ 27 اگست کو لارڈز جبکہ تیسرا ٹیسٹ میچ نو ستمبر کو برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید کھیلوں کی خبریں

لیڈز میں پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر ناکام، انگلینڈ نے ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی

لیڈز میں انگلش فاسٹ بولرز کی تباہ کن بولنگ، پاکستانی ٹیم شدید مشکلات کا شکار

پاکستانی نوجوان کوہ پیما اسماء مشتاق اسپانٹک سر کرنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں

لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی 238 رنز کی برتری، پاکستان کو آغاز میں ہی دوہرا نقصان

لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی 238 رنز کی برتری، پاکستان کو آغاز میں ہی نقصان

پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز سے عبرتناک شکست

پاکستان کرکٹ کا زوال: اندرونی سیاست، کوچنگ کے مسائل اور سہیل خان کے انکشافات

بولرز محض رفتار کے بجائے مہارت پر توجہ دیں، اندرونی سیاست نے کرکٹ کو تباہ کیا: سہیل خان

'انجری کے بعد کم بیک مشکل تھا لیکن امید تھی کہ موقع ملتے ہی بیسٹ دوں گی'، شوال ذوالفقار

ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایشیا کپ میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے، گُل فیروزہ

پاکستان انڈر 19 کا دورہ انگلینڈ: نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں تربیتی کیمپ کا آغاز

لیڈز ٹیسٹ: انگلینڈ پہلی اننگز میں 409 رنز پر آؤٹ، پاکستان پر 238 رنز کی برتری

ارشد ندیم کی گلاسگو گیمز میں ناکامی کے بعد جنوبی افریقہ میں خصوصی تربیت، ورلڈ چیمپئن شپ 2027 پر نظریں

راولپنڈی میں گراس روٹ لیول ہاکی ڈویلپمنٹ انیشیٹو کا آغاز: 145 اسکولوں میں ہاکی کٹس تقسیم

دوسرے دن کا کھیل ختم: علی عثمان نے ’پانچ وکٹیں لے کر تنقید کو غلط اور سلیکشن کو درست ثابت کر دیا‘

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی