
انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک 22 سالہ جرمن سیاح لڑکی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔این ڈی ٹی وی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ جرمن سیاح کو ایک 24 سالہ شخص نے اس کار میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جو اس نے کرائے پر حاصل کی تھی۔پولیس کے مطابق جنسی زیادتی کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ واقعہ پہاڑی شریف کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب عید کے دن متاثرہ سیاح ملزم کی کار میں شہر کی سیر کے لیے گئی تھیں۔راچاکوندا پولیس کمشنر سدھیر بابو کے مطابق سیاح خاتون نے بتایا کہ وہ ایک اور شخص کے ساتھ چار مارچ کو حیدرآباد آئی تھیں جہاں انہوں نے اپنے ایک دوست سے ملنا تھا جو اٹلی میں ان کے ساتھ زیرتعلیم رہ چکے ہیں۔پیر کو سیاح خاتون اپنے جرمن دوست کے ساتھ میرٹھ میں عید کی تقریبات دیکھ رہی تھیں کہ ملزم کار لے آیا جس میں اس کے ساتھ چار پانچ بچے بھی سوار تھے۔ اس شخص نے غیرملکی سیاحوں کو شہر گھمانے کی پیشکش کی۔جرمن خاتون اپنے دوست کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئیں اور انہوں نے شہر کے مختلف مقامات کی سیر کی اور تصاویر بنائیں۔سدھیر بابو کے مطابق جب مرد سیاح بچوں کے ساتھ مزید تصاویر بنانے کے لیے گاڑی سے نیچے اترا تو کار کے ڈرائیور نے گاڑی لگ بھگ 100 میٹر آگے لے جا کر کھڑی کر دی۔اس کے بعد ملزم نے خاتون سیاح کو ڈرا دھمکا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔اس واقعے کے بعد خاتون نے فوراً اپنے ساتھی سیاح کو اس بارے میں بتایا جس کے بعد انہوں نے پولیس کو شکایت درج کرائی۔پولیس نے مطابق ملزم نے یہ گاڑی ایک آن لائن سروس پروائیڈر سے کرائے پر لانگ ڈرائیو کے لی تھی اور اس میں اپنے علاقے کے کچھ بچوں کو بھی سوار کیا تھا۔کار چلانے والے شخص نے اس دوران ایک پیڑول پمپ سے گاڑی میں ایندھن ڈلوایا تھا۔بعدازاں اسی پیٹرول پمپ کی رسید کی مدد سے پولیس ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔پولیس آفیسر سدھیر بابو کے مطابق ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔