
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک بار پھر تہلکہ مچ چکا ہے، کیونکہ ’میم سے محبت‘ اپنی منفرد کہانی، جاندار اداکاری اور شاندار پروڈکشن کے باعث ناظرین کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔ حیران کن طور پر، یوٹیوب پر اس سیریل کے ویوز ایک ارب کا سنگ میل عبور کر چکے ہیں، جو اس کی بے پناہ مقبولیت کا ثبوت ہے۔
نئی لوکیشن، نیا انداز— ناظرین حیران!
ڈرامے کے ڈائریکٹر علی حسن اور پروڈیوسر مومنہ درید نے اس بار کچھ نیا کرنے کی ٹھانی، اور یہی وجہ ہے کہ فرحت اشتیاق کے تحریر کردہ اس شاہکار میں وہی گھسے پٹے سیٹ نظر نہیں آتے جو کئی دیگر مشہور ڈراموں میں استعمال ہو چکے ہیں۔
معروف اداکارہ نادیہ خان نے بھی اس نئی لوکیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"ناظرین اس شاندار گھر کو دیکھ کر دنگ رہ گئے ہیں! شکر ہے کہ یہ ‘تیرے بن’ والا وہی پرانا سیٹ نہیں۔ پاکستان میں اور بھی لاجواب محلات ہیں جہاں امراء رہائش پذیر ہیں، اور یہ گھر بھی انہی میں سے ایک ہے۔ یہاں ہر مہینے بجلی کا بل دو لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتا ہے کیونکہ مکمل گھر ایئر کنڈیشنڈ ہے، مگر میں اس کا مقام یا مالک ظاہر نہیں کر سکتی۔”
کہانی میں کیا ہے خاص؟
یہ کہانی گھومتی ہے طلحہ احمد (احد رضا میر) اور روشنی (دنانیر مبین) کے گرد۔ طلحہ، جو ایک سنجیدہ طبیعت کا مالک ہے اور اپنے یتیم بھتیجے کی پرورش سگے باپ سے بھی بڑھ کر کرہا ہے، ایک آزاد خیال اور زندگی اپنی مرضی سے جینے والی روشنی سے کیسے جُڑتا ہے؟ یہی وہ نکتہ ہے جو اس سیریل کو ایک منفرد رنگ دیتا ہے۔
احد رضا میر کی دھماکے دار واپسی!
’محبت گمشدہ میری‘ کے بعد احد رضا میر ایک بار پھر چھا گئے ہیں، اور ناظرین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ پرفارمنس ان کے کیریئر کی بہترین اداکاری میں شمار کی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہنگامہ!
ناظرین اس ڈرامے کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر یہ ہر پلیٹ فارم پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ کہانی کی تازگی، اداکاری کی شدت اور اس کا دل کو چھو لینے والا اسکرپٹ، سبھی کچھ اس ڈرامے کو پاکستان کے مقبول ترین سیریلز میں شامل کر رہا ہے۔