
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین سمیت دنیا کے دیگر ملکوں سے درآمدی اشیا پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان برقرار ہے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جمعے کو عالمی سٹاک مارکیٹس میں مزید گراوٹ اُس وقت دیکھنے میں آئی جب چین نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اقدامات کے جواب میں امریکی اشیا پر 34 فیصد اضافی محصولات عائد کرے گا۔چین کے اعلان کے بعد عالمی تجارتی جنگ میں شدت آ رہی ہے جس نے سرمایہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور آنے والے دنوں میں کساد بازاری کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔حالیہ تجارتی جنگ نے کورونا کی عالمی وبا سے بحال ہونے والی بین الاقوامی سٹاک مارکیٹس کو سب سے بڑے نقصان سے دوچار کیا ہے۔دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں بین الاقوامی کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق اس وقت مندی کا رجحان ہے اور اس میں شدت آ رہی ہے۔ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ اُن کے اقدامات سے عالمی تجارتی جنگ چھڑ رہی ہے اور سٹاک مارکیٹس کریش کر رہی ہیں۔انہوں نے میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ’چین نے بہت طریقے سے کھیلا ہے، وہ گھبرا گئے ہیں، ایک ایسا کام کیا جس کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے۔‘دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ میں چین کے اُس اعلان سے مزید شدت آئی کہ جس میں بیجنگ نے کہا وہ کچھ اہم معدنیات کی برآمد کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کرے گا۔جبکہ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں اُسی پر گامزن رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔چین کے اعلان کے بعد عالمی تجارتی جنگ میں شدت آ رہی ہے۔ فوٹو: اے پیچین نے 11 امریکی اداروں یا کمپنیوں کو ’ناقابل اعتماد‘ کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔صدر ٹرمپ کے ایک کٹر حامی ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے خبردار کیا ہے کہ محصولات امریکی معیشت اور ریپبلکنز کے سیاسی مستقبل کے لیے ’بہت زیادہ خطرات‘ کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے اپنے پوڈ کاسٹ میں کہا کہ ’اس کا اثر امریکی صارفین پر کھربوں ڈالر کے بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کی صورت میں پڑے گا۔‘خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی ہے جبکہ متعدد مخصوص ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کیے ہیں جن میں اعلی تجارتی شراکت دار چین اور یورپی یونین بھی شامل ہیں۔صدر ٹرمپ کے ان اقدامات کے نتیجے میں جمعے کو امریکہ سمیت دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی تھی۔رواں کاروباری ہفتے کے دوران ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 9.08 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مبنی نیس ڈیک میں 10.02 فیصد اور ڈاؤ جونز میں 7.86 فیصد کی گراوٹ رہی۔جمعے کو کاروبار کے آغاز پر ہی جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.8 فیصد گر گیا تھا۔امریکی انوسٹمنٹ بینک جے پی مورگن نے اندازہ لگایا ہے کہ سال کے آخر تک عالمی معیشت کے کساد بازاری سے متاثر ہونے کے 60 فیصد امکانات ہیں جو پہلے 40 فیصد تھے۔