’فلڈنگ دا زون‘: ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی جو ان کے ناقدین کو الجھائے رکھتی ہے


Getty Imagesامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سنبھالے ہوئے ابھی دو مہینے سے تھوڑا زیادہ عرصہ ہی ہوا ہے لیکن وہ انتہائی برق رفتاری سے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کر رہے ہیں اور بین الاقوامی خبروں پر چھائے ہوئے ہیں۔رواں برس 20 جنوری کو امریکی صدر کا دفتر سنبھالنے کے بعد وہ کیپیٹل ہِل حملے میں ملوث افراد کو معافی دے چکے ہیں، بیرونی امداد محدود کر چکے ہیں، امیگریشن پر کریک ڈاون کر چکے ہیں جبکہ کینیڈا اور چین سے آنے والی کاروں، ایلومینیئم، سٹیل اور دیگر اشیا پر ٹیرف (ٹیکس) عائد کر چکے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات بھی شروع کر رکھے ہیں اور وہ یہ اشارہ بھی دے چکے ہیں کہ امریکہ غزہ کو خرید سکتا ہے۔ابھی اپنے تازہ ترین بیان میں انھوں نے بدھ کو نئے امپورٹ ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے اس دن کو ’آزادی کا دن‘ قرار دیا تھا۔ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اپنے وعدوں پر عمل کر رہے ہیں تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جلدی جلدی اعلانات کرنے کا مقصد اپنے مخالفین کو تھکانا اور ان کے ردِعمل کو مزید کمزور کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس طریقہ کار کو ’فلڈنگ دا زون‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکی صدر نے اس طریقہ کار کا استعمال اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی کیا تھا مگر دوسری مرتبہ وہ اس کے استعمال میں تیزی لا رہے ہیں۔لیکن ’فلڈنگ دا زون‘ نامی حکمت عملی ہے کیا اور ٹرمپ اس سے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟کھیل سے سیاست تک’فلڈنگ دا زون‘ کی اصطلاح کا استعمال امریکی فُٹبال میں ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ٹیم دوسری ٹیم کو تھکا دیتی ہے تاکہ اس کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن نے سنہ 2018 میں کہا تھا کہ ٹرمپ کے اصل مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نہیں بلکہ میڈیا ہے اور ’ان سے نمٹنے کے لیے زون کو فلڈ کرنا درست ہے‘ تاکہ زیادہ سے زیادہ شور ہو سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کے سبب امریکی صدر کے ناقدین اپنی توجہ کسی ایک معاملے پر مرکوز رکھنے میں یا کسی ایک معاملے پر بیانیہ تشکیل دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔کمیونیکیشن کمپنی ریڈ بنیان کے سی ای او ایون نیئرمین کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ صرف ایجنڈا ہی سیٹ نہیں کرتے بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔‘’وہ فلڈنگ دا زون حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے یہ یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی تنازع اتنا لمبا نہ کھنچے جس سے کوئی نقصان ہو۔ ایسے سکینڈل جو کسی دوسرے سیاستدان کو ڈوبا دیں وہ بھی زیادہ دیر تک ٹِک نہیں پاتے۔‘ایون کے مطابق امریکی صدر کا مقصد خبروں پر حاوی رہنا ہوتا ہے تاکہ ’گفتگو کی شرائط وہ طے کر سکیں‘ اور ان کے ناقدین اپنا تمام وقت ان ہی کے خلاف ردِ عمل دینے میں لگا دیں۔ایون کا مزید کہنا تھا کہ ’زیادہ تر سیاستدان اپنی پالیسیاں محتاط انداز میں متعارف کرواتے ہیں مگر ٹرمپ سیدھے تماشہ لگانے کی طرف جاتے ہیں۔‘’چاہے وہ کوئی پالسی کا معاملہ ہو، قانونی جنگ ہو یا کوئی بیان، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی وہی ہے: جارحانہ مزاج اختیار کرو، اپنے بیانیے کو آگے بڑھاو اور کسی بھی قسم کی تنقید کو اپنے سامنے ٹکنے نہ دو۔‘Getty Imagesیونیورسٹی آف مشی گن ڈیئربورن سے منسلک پروفیسر مائیکل مونٹوگمیری کہتے ہیں امریکی صدر کی اس حکمت عملی سے اپوزیشن بھی بکھر کر رہ جاتی ہے۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کے سبب لوگ اور گروپس ہر سمت میں بغیر کسی تعاون کے ہزاروں چھوٹی چھوٹی لڑائیاں لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں مخالفین کا ٹرمپ کے خلاف متحد ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔‘کرائٹیرین گلوبل میڈیا کمپنی کی شریک بانی کیتھرین کیٹرائٹ کہتی ہیں کہ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ہر متنازع اعلان جمعے کو ہی کیا جاتا ہے تاکہ ویک اینڈ کے سبب لوگوں کی توجہ اس پر سے ہٹ جائے۔انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کی تقرری کا معاملہ بھی جمعے کے دن ہی نمٹایا گیا تھا۔کیتھرین نے خبر رساں ادارے ایف پی کو بتایا کہ پیٹ ہیگسیٹھ کی تقرری کی توثیق جمعے کے دن ہوئی تھی اور ’پیر کی صبح تک ان کی تقرری کا معاملہ خبروں سے غائب ہو گیا تھا۔‘مونٹوگمیری کہتے ہیں کہ ’فلڈنگ دا زون جیسی حکمت عملی کا استعمال افراتفری پھیلانے کے لیے ہوتا ہے تاکہ مخالفین کو تھکایا جا سکے۔ اس امید کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شور مچایا جائے کہ امریکی عوام بھی تھک کر پیچھے ہٹ جائے گی۔‘وہ مزید کہتے ہیں کہ اس حکمت عملی کے استعمال کے سبب ٹرمپ انتظامیہ کو ’بہت ساری چیزیں آزادی سے کرنے کی اجازت مل جاتی ہے اور اگر ان کے ناقد بہت ساری چیزوں کو دیکھ دیکھ کر تھک نہ جائیں تو امکان یہی ہوتا ہے کہ بہت سارے معاملات پر زیادہ توجہ دی جائے گی اور مخالفت بھی بڑھے گی۔‘روایت شکن ڈونلڈ ٹرمپ 2025 کو تاریخی سال بنانے کی راہ پر کیسے گامزن ہیں؟ٹرمپ کا ’یوم آزادی‘ اور پاکستان سمیت 100 ممالک پر نئے ٹیرف کا اعلان جسے ’عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرانے جیسا عمل‘ قرار دیا گیاغزہ میں رقص کرتے ٹرمپ، بکنی میں ملبوس مرد اور بلند عمارتیں: امریکی صدر کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیو پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟پوتن کو رعایت دینے کی ’غلطی‘ یا سیاسی چال: ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی نے کیسے دنیا کو الجھا دیاٹرمپ کے حامی کیا کہتے ہیں؟ٹرمپ کے حامی برق رفتار اقدامات کو اپنے رہنما کی قائدانہ صلاحیتوں اور انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کی تعبیر کا ثبوت سمجھتے ہیں۔رپبلکن رکن کانگرس میجری ٹیلر گرین نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ ٹرمپ کے ایجنڈے کی ووٹرز توثیق کر چکے ہیں اور امریکی صدر ’جتنی جلدی ہو سکے اس پر عملدرآمد‘ کر رہے ہیں۔‘’اس سبب انھیں رات میں دیر تک بھی جاگنا پڑتا ہے۔‘ٹرمپ کے صدر بننے کے فوراً بعد اپنے پوڈکاسٹ میں سٹیو بینن نے کہا تھا کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کی رفتار سے خوش ہیں۔’اگر آپ کام کرنے کے پیمانے، گہرائی اور تیزی کو دیکھیں تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ لوگ بڑے عرصے سے ان چیزوں پر کام کر رہے تھے۔ یہ سارے کام صرف ایک دن میں نہیں ہوئے۔‘بینن نے کہا تھا کہ ’جب ایسی رفتار سے کام کر رہے ہوتے ہیں تو آپ رُکتے نہیں اور نہ ہی کچھ سوچتے ہیں بلکہ آگے بڑھتے ہیں۔‘ٹرمپ کے سابق مشیر نے وائٹ ہاوس کے ڈپٹی چیف آف سٹاف کی بھی تعریف کی تھی جنھیں ’فلڈنگ دا زون‘ حکمت عملی کا ماسٹرمائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔Getty Imagesکیا اس حکمتِ عملی کا استعمال ماضی میں بھی ہوا؟ایون نیئرمین کہتے ہیں کہ ٹرمپ ’فلڈنگ دا زون‘ حکمت عملی کا استعمال کرنے والے واحد سیاستدان نہیں۔’تاریخی طور پر متعدد رہنما میڈیا کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں لیکن ان کا طریقہ مختلف تھا۔‘ایون کے مطابق ’فرینکلن روزویلٹ کی آتش دان کے کنارے بیٹھ کر گفتگو، جان ایف کینیڈی کا ٹی وی کا استعمال اور اوبامہ کا ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال لوگوں کی رائے بنانے کا ہی ایک طریقہ تھا‘ تاہم وہ کہتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا طریقہ ذرا مختلف ہے اور وہ ’انتہائی برق رفتاری سے یہ سب کر رہے اور اس کی پیشگوئی کرنا بھی ممکن نہیں۔‘دوسری جانب مونٹوگمیری کہتے ہیں کہ ٹرمپ جیسے اقدامات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔’روزویلٹ سنہ 1933 میں پہلے 100 دن میں انتہائی مصروف تھے اور ان کی جانب سے کسی اقدام کے لیے فلڈنگ دا زون حکمت عملی کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔‘’میرا نہیں خیال کہ واشنگٹن میں پہلے کبھی ایسی مثال ملتی ہے کہ ایک ساتھ لاتعداد احکامات جاری کیے گئے ہوں اور لوگوں کو کنفیوژ کیا گیا ہو۔‘کیا یہ حکمت عملی کام کرے گی؟شاید اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو کہ ٹرمپ کی حکمت عملی ان کے لیے کتنی کارگر ثابت ہو گی لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی حکمت عملی ٹرمپ کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔مونٹوگمیری کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ ٹرمپ کے بہت سارے حقیقی حامی کبھی بھی اس افراتفری کو دیکھ کر تھکیں گے نہیں لیکن میرا یہ ضرور ماننا ہے کہ اس حکمت عملی سے ٹرمپ کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے وقت نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ اور رپبلکن پارٹی کے پاس امریکی عوام کی بھرپور حمایت نہیں۔’ٹرمپ صرف 1.5 فیصد کے مارجن سے پاپولر ووٹ جیتے تھے۔ ان کے یا رپبلکن پارٹی کے پاس اتخابات کے بعد تبدیلی لانے کا مینڈیٹ موجود نہیں۔‘تاہم ایون خبردار کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے حامی بھی تھکن کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ ’مسلسل افراتفری کا ماحول زیادہ دیر کام نہیں کرتا۔‘’سب سے بڑا خطرہ یہی ہے۔ ٹرمپ گفتگو پر چھائے رہنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن اگر لوگوں نے انھیں سننا بند کر دیا تو مزید شور بڑھے گا۔ اگر ایسا ہوا تو سوئنگ ووٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے کیونکہ وہ امریکی صدر کی شخصیت نہیں بلکہ ان کی پالیسی کے سبب ان کے حامی ہیں۔‘روایت شکن ڈونلڈ ٹرمپ 2025 کو تاریخی سال بنانے کی راہ پر کیسے گامزن ہیں؟قاتلانہ حملے، مقدمات اور ’سیاسی انتقام‘: ڈونلڈ ٹرمپ کی حیران کن سیاسی واپسی کیسے ممکن ہوئی؟غزہ میں رقص کرتے ٹرمپ، بکنی میں ملبوس مرد اور بلند عمارتیں: امریکی صدر کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیو پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟پوتن کو رعایت دینے کی ’غلطی‘ یا سیاسی چال: ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی نے کیسے دنیا کو الجھا دیادرجنوں نئے صدارتی آرڈرز کی بوچھاڑ اور سابق صدر بائیڈن کے 78 حکمناموں کی منسوخی: ٹرمپ نے صدارت کے پہلے روز کیا کچھ کیا؟

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید عالمی خبریں

امریکہ کو ٹیکسوں کا بطور ہتھیار استعمال بند کرنا چاہیے: چین

مودی کی بنگلہ دیشی رہنما سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو سکیں گے؟

مشہوربرطانوی کمپنی نے امریکا کو گاڑیوں کی ترسیل روک دی

غزہ: اسرائیلی حملے میں بچوں اور خواتین سمیت مزید 60 فلسطینی شہید

پیزا کا آرڈر بھولنے کے باوجود پاکستانی نے بھارتی ڈلیوری بوائے کو 100 ڈالرز کیوں دیے؟ ویڈیو نے لوگوں کے دل جیت لئے

امریکہ نے کس پر کتنا ٹیرف لگایا؟ مکمل فہرست ! 2 ہزار آبادی والے جزیرے کو بھی نہ بخشا

چین کے اعلان کے بعد عالمی تجارتی جنگ میں شدت، سٹاک مارکیٹس میں مزید گراوٹ

2025 میں سیر و تفریح کے لیے گلگت بلتستان سمیت دنیا کے 25 بہترین مقامات

امریکی صدر نے ایران کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی

’فلڈنگ دا زون‘: ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی جو ان کے ناقدین کو الجھائے رکھتی ہے

انڈیا: مدھیہ پردیش کے کنویں میں ایک ایک کر کے اُترنے والے 8 افراد زہریلی گیس کے باعث ہلاک

پاکستان چارسال کیلئے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے منشیات کا رکن منتخب

ٹرمپ کی ایران کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش

عمرہ و عازمین حج کیلئے اردو سمیت 16 زبانوں میں ڈیجیٹل گائیڈ جاری

نو مسلم عید اور رمضان میں خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔۔ نیو مسلم سرکل تنظیم کیا ہے اور کس طرح کام کرتی ہے؟

عالمی خبریں تازہ ترین خبریں
پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سائنس اور ٹیکنالوجی