
سرگودھا میں 7 سالہ بچی منتہیٰ کے ساتھ پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے ملک کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ کمسن بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کے اس افسوسناک کیس نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا جہاں لوگ خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 7 سالہ منتہیٰ اپنے علاقے کی ایک دکان سے کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے لیے گھر سے نکلی تھی، تاہم وہ واپس نہ لوٹی۔ بچی کے لاپتا ہونے پر اہل خانہ نے تلاش شروع کی جبکہ پولیس کو بھی اطلاع دی گئی۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو سی سی ٹی وی فوٹیج ملی جس میں منتہیٰ کو گلی سے دکان کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
View this post on Instagram A post shared by Runway Pakistan® (@runway.pakistan)
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بچی کو مبینہ طور پر دکاندار اور اس کے ایک ساتھی نے اغوا کیا۔ الزام ہے کہ ملزمان نے بچی کے ساتھ زیادتی کی، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئی۔ بعد ازاں اس کی لاش ایک عمارت کی چھت سے برآمد ہوئی۔
View this post on Instagram A post shared by Mishi Khan MK (@mishikhanofficial2)
اس افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ بچی کی آخری سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے جس نے عوام کو مزید غمزدہ کر دیا۔
View this post on Instagram A post shared by 𝐈𝐌𝐑𝐀𝐍 𝐀𝐁𝐁𝐀𝐒 (@imranabbas)
دوسری جانب پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل دیا ہے۔ اداکارہ مشی خان، اقرا عزیز، عمران عباس اور دیگر فنکاروں نے سوشل میڈیا پر انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
View this post on Instagram A post shared by Rabia Abid Ali (@rabiaabidali)
متعدد فنکاروں کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین مقدمات میں متاثرہ خاندانوں کو بروقت انصاف نہیں ملتا، جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اداکارہ ایمن خان اور منال خان نے بھی سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے انصاف کے نظام میں موجود خامیوں پر بات کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا انفلوئنسر زہیب اسپیکس کی ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے انصاف کے نظام سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے اور مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
View this post on Instagram A post shared by Niche Lifestyle (@nichelifestyle)
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر بچوں اور خواتین کے تحفظ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری اور فوری انصاف کی ضرورت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔