نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر اسرائیلی الیکشن ’چوری‘ کرنے کا الزام کیوں لگایا؟


Getty Imagesجزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیںاسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی الیکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل میں انتخابات کی شفافیت اور نتائج کو شدید متاثر کرنے والے مبینہ جرائم کی فوری تحقیقات کرے ۔نیتن یاہو کی جماعت نے عرب جماعتوں پر انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے پولیس، شن بیت اور مرکزی الیکشن کمیٹی کو سینکڑوں بیانات اور شواہد فراہم کر رہی ہے، پولیس اور شن بیت مبینہ انتخابی دھاندلی کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف مکمل قانونی کارروائی کرے۔یاد رہے کہ اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور انتخابات کے نتائج تیزی سے موصول ہو رہے ہیں، لیکن وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے خواہشمند دونوں بڑے سیاسی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔حالیہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ ریکارڈ 77 فیصد سے زیادہ رہا، تاہم اس کے باوجود ایک ڈرامائی سیاسی تعطل کی پیش گوئی وسیع پیمانے پر کی جا رہی تھی۔جزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو انھیں پارلیمان میں طاقت کے توازن کا اہم عنصر بنا سکتی ہیں۔خبر رساں ادارے ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ’ابتدائی نتائج کے مطابق اسرائیل میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو اکثریت حاصل ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود بنیامین نیتن یاہو اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض اپوزیشن جماعتیں عرب ارکانِ پارلیمان کی حمایت لینے کے لیے تیار نہیں۔‘ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ’انتخابات میں عرب ووٹروں کی غیر معمولی شرکت کے بعد عرب جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل میں اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہیں۔‘Getty Imagesانتخابی چوری کے شواہد سے متلق بیان میں کیا کہا گیاایکس پر نیتن یاہو کے اکاؤنٹ سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’اسرائیل میں ہونے والے انتخابات (مبینہ طور پر) دہشت گردی کی حمایت کرنے والی عرب جماعتوں نے چوری کیے ہیں۔‘انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’لیکود پارٹی مبینہ انتخابی دھاندلی سے متعلق جو شواہد فراہم کر رہی ہے ان میں نقد رقم، پولنگ عملے کو دھمکیاں اور تشدد، ووٹنگ بوتھ کے اندر ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالنا، دوہری شناخت کے ساتھ ووٹ ڈالنا، ووٹروں کی تعداد میں فرق اور انھیں انھیں متحرک کرنے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر کا استعمال اور دیگر رد و بدل شامل ہیں۔‘بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اسرائیلی جمہوریت اور اسرائیلی شہریوں کے حقِ رائے دہی کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری اور سخت کارروائی کرنی چاہیے۔‘دوسری جانب نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے بھی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی قانون کے مطابق دہشت گردی کی حمایت کرنے اور اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم نہ کرنے والی جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں۔‘ ایکس پر بیان میں انھوں نے لکھا کہ ’انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں مسلمان عربوں کی اکثریت خود کو فلسطینی سمجھتی ہے، ہمارے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت کرتی ہے، یہودی ریاست کے خاتمے کی خواہاں ہے اور اس کی جگہ ایک عرب، اسلامی اور فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے ہم ایران کے جوہری پروگرام جتنا سنگین سمجھتے ہیں۔‘عرب اسرائیلی ملک کی آبادی کا پانچواں حصہ اسرائیل کے منقسم سیاسی نظام سے اشارے مل رہے ہیں کہ نیتن یاہو کے اہم ترین حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے لیے اسرائیل کی عرب اقلیت کی قیادت والی جماعتوں کے بغیر پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو گا۔جزوی نتائج کے مطابق ان عرب جماعتوں نے اپنی گذشتہ ریکارڈ تعداد کے برابر یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔یاد رہے کہ یشار پارٹی کے سربراہ اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ ’تبدیلی کے اتحاد‘ کی نمایاں شخصیت ہیں، تاہم اسرائیل کے تجربہ کار وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بھی توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے اور اُن کی جماعت ’لیکود‘ سب سے بڑی واحد جماعت بن کر اُبھر رہی ہے۔انتہائی قدامت پسند اور قوم پرست یہودی جماعتوں کے ساتھ نیتن یاہو کا موجودہ اتحاد اسرائیل کی 120 رُکنی پارلیمان میں سادہ اکثریت یعنی 61 نشستوں کے حصول سے کچھ فاصلے پر دکھائی دے رہا ہے۔تاہم تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ تیزی سے سامنے آتے نتائج کے پیش نظر صورتحال کسی حد تک بدل بھی سکتی ہے کیونکہ ووٹوں کی ابتدائی گنتی اُن علاقوں میں ہوئی جو اسرائیل میں دائیں بازو کی مضبوط حمایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران زیادہ تر یہودی اپوزیشن جماعتوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ کام (اتحاد) نہیں کریں گی اور اس کی وجہ مشترکہ اقدار کا فقدان بتایا گیا تھا۔ تاہم اگر دیگر جماعتیں ان کے ساتھ اتحاد بنانے پر آمادہ ہوئیں تو عرب قیادت والی جماعتیں حکومت سازی میں ’کنگ میکر‘ یا فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔اس انتخابات میں عرب اسرائیلی، جو اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں اور ملک کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں، غیر معمولی تعداد میں ووٹ ڈالتے دکھائی دیے۔عرب ووٹ میں اضافہ ان جماعتوں کی نشستوں میں اضافے کی اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے انھیں ممکنہ حکومت سازی کے عمل میں پہلے سے زیادہ بااثر بنا دیا ہے۔بہت سے لوگ اسے ایسا فیصلہ کن انتخاب قرار دے رہے ہیں جس میں اسرائیل کی اب تک کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی ایسی حکومت کو شکست دینا مقصود ہے، جس پر نسل پرستی اور نفرت کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔موجودہ تجزیے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں وہ پوسٹل ووٹ شمار نہیں کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر اسرائیلی فوجیوں کے ووٹ شامل ہیں، اس لیے حتمی نتائج کی واضح تصویر ایک یا دو دن بعد ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔Getty Imagesاسرائیل کی موجودہ حکومت عرب جماعتوں کو 'ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ' قرار دیتی ہےانتخابات سے پہلے ہی رائے عامہ کے جائزوں میں یہ سامنے آیا تھا کہ اسرائیل کی عرب جماعتیں طاقت کے توازن میں ایک اہم اور فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہیں۔عرب اسرائیلیوں میں سیاسی بددلی ماضی میں اس کمیونٹی کے کم ٹرن آؤٹ کا سبب بنتی رہی ہے، حالانکہ وہ آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں اور اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں۔لیکن اس بار ایک مضبوط مہم چلائی گئی ہے تاکہ ملک کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکمران اتحادی حکومت کو اقتدار سے باہر کیا جا سکے، جو تجربہ کار وزیرِاعظم نیتن یاہو، انتہائی دائیں بازو اور انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے۔انتخابات سے قبل ہماری ملاقات 23 سالہ ارکان بدران سے ہوئی جو طلبہ کے ساتھ پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا: ’میں سمجھتا ہوں کہ اس انتہا پسند حکومت کو گرانا ہماری ذمہ داری ہے۔ وہ ہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میں تمام نوجوان مردوں اور خواتین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عرب جماعتوں کو ووٹ دیں، جو ہماری نمائندگی کرتی ہیں، کیونکہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔‘حالیہ نتائج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نہ نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کے پاس اور نہ ہی گادی آئزنکوٹ کی قیادت والے ’تبدیلی بلاک‘ کے پاس پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ ہے۔اب نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو حکومت بنانے کے لیے یا تو اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنا پڑے گا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ کام نہیں کریں گی، یا عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ معاہدہ کرنا ہو گا۔اہم رکاوٹ یہ ہے کہ آئزنکوٹ اب تک عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مشترکہ اقدار کے فقدان کی وجہ سے مسترد کرتے رہے ہیں۔عرب اسرائیلی کون ہیں؟BBCتقریباً تمام بڑی یہودی جماعتوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر دیا ہےعرب اسرائیلیوں کی اکثریت اُن فلسطینیوں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو سنہ 1948 کی جنگ کے دوران (جب اسرائیل ریاست کے طور پر وجود میں آیا) اپنے علاقوں میں رہ گئے، جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔عرب جماعتیں سنہ 2021 میں پہلی بار اسرائیلی حکومتی اتحاد کا حصہ بن چکی ہیں، جس کی وجہ سے اس بار بھی ان کے کردار پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔اسرائیل کی موجودہ حکومت اکثر انھیں ’ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ‘ قرار دیتی ہے۔حال ہی میں وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حریف عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ’خطرناک حکومت‘ بنانا چاہتے ہیں۔اسرائیلی انتخابات سے جڑے سوال اور وہ عرب جماعتیں جو حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیںایران پر حملے کے فوراً بعد ’موساد‘ کی جاری کردہ خفیہ آپریشن کی ویڈیو اور سینکڑوں ایرانیوں کی گرفتاری کا معمہ’فوجی سربراہ برطرف کرنے کا ارادہ نہیں‘: انتخابات سے چند گھنٹے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم کو یہ وضاحت کیوں دینا پڑی؟خیموں میں دوڑتے اور سوتے ہوئے لوگوں کو کاٹتے چوہے اور نیولے: غزہ کے لوگ نہ بھرنے والے زخموں سے بے حالاسی نکتے کو اجاگر کرنے کے لیے اُن کی انتخابی مہم نے بل بورڈز لگائے ہیں، جن میں ناصرت کے مرکزی داخلی راستے پر نصب ایک بل بورڈ بھی شامل ہے۔اس پر لوگوں کے سامنے یہ انتخاب رکھا گیا تھا: ’دایاں بازو یا فلسطین۔‘نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بھی استعمال کی گئی ہیں جن میں ان کے مخالفین کو عرب رہنماؤں کے ساتھ گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس انتخاب میں داؤ بہت بڑا ہے: عرب شہری نہ صرف یہ طے کر سکتے ہیں کہ اسرائیل میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو گا بلکہ وہ ووٹ کو ملک میں اپنے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔BBCمحمد مغدلی: ’وہ ہر وقت عرب جماعتوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ عرب ہیں، فلسطینی ہیں‘عربی زبان کے ریڈیو سٹیشن ’ریڈیو ناس‘ میں ہماری ملاقات نیوز اینکر محمد مغدلی سے ہوئی جو اسرائیل کے چینل 12 کے تجزیہ کار بھی ہیں۔ان کے والد، غالب مغدلی، سنہ 2007 سے سنہ 2009 کے درمیان اسرائیل کے پہلے مسلمان وزیر رہے تھے اور لیبر پارٹی کی نمائندگی کرتے تھے۔ہم نے محمد مغدلی سے پوچھا کہ وہ تبدیلی بلاک کی قیادت کی جانب سے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے انکار کو کیسے دیکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ’ایک لفظ میں کہا جائے تو یہ نسل پرستی ہے۔ لیکن اگر اس کی وضاحت کرنی ہو تو اس کی وجہ بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مفادات ہیں۔‘’وہ ہر وقت عرب جماعتوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ عرب ہیں، فلسطینی ہیں۔ اس کا اثر اسرائیل کی اکثریتی یہودی جماعتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔‘یاد رہے کہ عرب اکثریتی جماعتوں کو اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 19 نشستیں مل چکی ہیں۔ ان میں جوائنٹ عرب لسٹ بھی شامل ہے، جو حداش، بلد اور تعال کا اتحاد ہے، جبکہ چھوٹی یونائیٹڈ عرب لسٹ منصور عباس کی قیادت میں ایک اسلام پسند جماعت ہے۔BBCیونائیٹڈ عرب لسٹ کے سربراہ منصور عباساگرچہ عباس کی جماعت ابتدا میں اسرائیل کی اسلامی تحریک کے حصے کے طور پر قائم ہوئی تھی، جو سماجی طور پر قدامت پسند اقدار رکھتی ہے، مگر وہ اب یہودی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے معروف ہو چکے ہیں۔وہ عرب اسرائیلیوں کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں کے بارے میں نسبتاً کم بات کرتے ہیں۔عباس کو اقتدار کا تجربہ بھی حاصل ہے۔سنہ 2021 میں وہ نفتالی بینیٹ کی مختصر مدت والی اسرائیلی حکومت میں وزیر بنے تھے، جو اب آئزنکوٹ کے اتحاد میں شامل ایک دائیں بازو کے رہنما ہیں۔اس انتخاب میں انھوں نے غیر متوقع طور پر اپنی فہرست میں دوسرے نمبر پر ایک یہودی سابق پولیس افسر اور اعتدال پسند رکنِ پارلیمان یوآف سگالووِٹز کو جگہ دی ہے۔عباس کا خیال ہے کہ انتخاب کے بعد آئزنکوٹ اور دوسرے رہنما ان کی جماعت کے ساتھ اتحاد کے لیے زیادہ آمادہ ہوں گے، اور وہ اصرار کرتے ہیں کہ وہ اگلی حکومت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صرف پارلیمانی نمائندگی عرب معاشرے کی خدمت کے لیے کافی نہیں۔ ہم نے ذمہ داری لینے، اپنے مسائل کے حل کا حصہ بننے اور عربوں اور یہودیوں دونوں کو امید دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘’اسی لیے ہماری حکمتِ عملی محض نمائندگی نہیں بلکہ اثر و رسوخ کی پوزیشن حاصل کرنے کی خواہش سے چلتی ہے۔‘Reutersاسرائیل کے شہر ناصرت میں جوائنٹ لسٹ کے رہنماؤں پر مشتمل انتخابی بینر کے قریب بیٹھی ایک خاتوندوسری جانب جوائنٹ لسٹ، جو سیکولر جماعتوں پر مشتمل ہے اور عرب اسرائیلیوں کے مساوی حقوق، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی فوجی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی حامی ہے، اپوزیشن کے اندر اثر و رسوخ کی پوزیشن حاصل کرنا چاہتی ہے۔وہ اس امکان کا ذکر کرتی ہے کہ نیتن یاہو حکومت کو تبدیل کرنے والی قوتوں کو اہم پالیسی امور پر حمایت کے بدلے انتخابی ’حفاظتی جال‘ فراہم کیا جا سکتا ہے۔اس انتخاب میں عرب اسرائیلیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ جرائم پیشہ گروہوں کی بے قابو سرگرمیاں ہیں۔ستمبر میں اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ کے ایک جائزے کے مطابق 53.5 فیصد عرب شہریوں کے لیے ووٹ کے وقت سب سے اہم معاملہ یہی تھا۔ابراہم انیشی ایٹو نامی یہودی۔عرب تنظیم کے مطابق، جو باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، گذشتہ برس عرب برادری میں قتل کے واقعات کی تعداد ریکارڈ 252 تک پہنچ گئی، جو قتل ہونے والے یہودی اسرائیلیوں کی تعداد سے تقریباً پانچ گنا زیادہ تھی۔BBCیافا کے ساحلی علاقے میں بینچ پر بیٹھی عرب اسرائیلی خواتینیافا میں، جو عرب۔یہودی آبادی والا علاقہ ہے اور اب تل ابیب سے ملا ہوا ہے، زیاد سمعونی نے ہمیں وہ جگہ دکھائی ہیں جہاں ان کے بیٹے حسین کو گذشتہ نومبر اپنے گھر کے قریب موٹرسائیکل سوار دو مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔اس کیس میں اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔کیسوں کے حل کی شرح کم ہونے کے باعث عرب اسرائیلی حکومت پر غیرفعال رہنے کا الزام لگاتے ہیں۔سمعونی کہتے ہیں: ’ایسا لگتا ہے کہ ان کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ قاتل کبھی پکڑا نہ جائے، تاکہ عرب معاشرے میں عرب ایک دوسرے کو مارتے رہیں۔‘اسرائیلی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ حسین کے قتل کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور وہ ’تشدد اور جرم کے ہر معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے۔‘سمعونی کہتے ہیں: ’ایک باپ کے طور پر جس نے اپنا بیٹا کھو دیا ہو، میں یقیناً چاہتا ہوں کہ یہ خونریزی ختم ہو۔‘ان کا ماننا ہے کہ تبدیلی ووٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔Ziad Samouniزیاد سمعونی کے بیٹے حسین کو گذشتہ نومبر قتل کر دیا گیا تھا لیکن اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیاناصرت میں واقع موسیٰ سینٹر کی سہا سلمان موسیٰ، جو عرب شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ ’سات اکتوبر کے بعد ہمارے ساتھ اس ملک کے دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا۔‘’اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے جگہ سکڑ گئی تھی۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، اور لوگوں کو صرف اس وجہ سے ملازمتوں سے نکال دیا گیا کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر کچھ لکھا یا غزہ کی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔‘سلمان موسیٰ عرب اسرائیلیوں کے خلاف منظم امتیاز اور اشتعال انگیزی کا الزام عائد کرتی ہیں۔شہری معاشرتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عرب آبادیوں کے لیے مختص بجٹ میں غیر متناسب کمی کی گئی ہے۔BBCموسیٰ سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سہا سلمان موسیٰ عرب اسرائیلیوں کے خلاف 'منظم امتیاز اور اشتعال انگیزی' کا الزام عائد کرتی ہیںحکومت کا کہنا ہے کہ دفاعی اور سکیورٹی اخراجات میں جنگی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ کٹوتیاں ناگزیر ہیں۔عرب ڈاکٹروں کے خلاف، جو اسرائیلی ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں، سیاسی نوعیت کی مہمات بھی چلائی گئی ہیں، جبکہ یہودی اسرائیلیوں کی جانب سے عرب بس ڈرائیوروں پر نسلی بنیادوں پر حملے بھی ہوئے ہیں۔کچھ انتخابی مہمات نے سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے شمالی گلیلی اور جنوبی نیگیو کے ان علاقوں کو ’یہودی بنانے‘ کا وعدہ کیا ہے جہاں زیادہ تر عرب رہتے ہیں، اور اس اقدام کو مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے پھیلاؤ سے تشبیہ دی ہے۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید عالمی خبریں

پاسدارانِ انقلاب کا ڈرون مار گرانے اور تین آئل ٹینکروں کا بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جانے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب کا ڈرون مار گرانے اور تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ

اسرائیلی پارلیمنٹ میں اقتدار کی جنگ، نیتن یاہو اتحاد پیچھے

’میں ایک بھوت کے ساتھ رہتی ہوں‘: جاپان میں ’آسیب زدہ‘ سمجھے جانے والے گھروں کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟

مسجد الحرام میں ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی کے 100 سال مکمل، پہلے نماز کیسے ہوتی تھی؟

ایران پر حملے کا سوال اور عالمی معیشت: امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے نتائج پوری دنیا پر کیسے اثر انداز ہوں گے؟

معاہدے نہ ہونے پر ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے بڑے فوجی پلان کا انکشاف

نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر اسرائیلی الیکشن ’چوری‘ کرنے کا الزام کیوں لگایا؟

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کو برتری حاصل مگر اکثریت سے محروم

اسرائیل میں انتخابات: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، عرب جماعتیں اہمیت اختیار کر گئیں

اسرائیل میں انتخابات: 77 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل، نیتن یاہو اور آئزنکوٹ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات، خام تیل 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا

اسرائیل کی عرب اقلیت کیا ہے اور وہ حکومت سازی میں ’کِنگ میکر‘ کا کردار کیسے ادا کر سکتی ہے؟

ایران امریکا جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو بڑی تباہی آسکتی ہے، پاکستان اور چین کا انتباہ

امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملے کی تیاری؟جوہری تنصیبات نشانے پر ہونے کا امکان

• عالمی خبریں • تازہ ترین خبریں
• پاکستان کی خبریں • کھیلوں کی خبریں
• آرٹ اور انٹرٹینمنٹ • سائنس اور ٹیکنالوجی