
دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام میں ایک امام کی اقتدا میں باجماعت نماز ادا کرنے کے نظام کو 100 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ آج لاکھوں مسلمان خانہ کعبہ کے گرد ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، لیکن ایک صدی پہلے یہاں نماز کی ادائیگی کا طریقہ مختلف تھا۔
تاریخی معلومات کے مطابق 28 اکتوبر 1926 کو سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود نے علما سے مشاورت کے بعد حرم شریف میں نماز کا نظام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس تبدیلی کا مقصد مختلف فقہی مسالک کے نمازیوں کو ایک ہی جماعت میں جمع کرنا تھا۔
اس سے پہلے مسجد الحرام میں حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مسالک کے لیے چار الگ مقامات مخصوص تھے، جہاں ہر مسلک کا اپنا امام نماز پڑھاتا تھا۔ اس طرح ایک ہی فرض نماز کے لیے مختلف جماعتیں قائم ہوتی تھیں اور نمازی عموماً اپنے فقہی مسلک کے مطابق نماز ادا کرتے تھے۔
حرم شریف میں ان چاروں مقامات کو تاریخی طور پر ’مقاماتِ اربعہ‘ کہا جاتا تھا۔ حنفی امام کی جگہ خانہ کعبہ کے شمال میں، مالکی امام کی مغربی جانب، شافعی امام کی زمزم کے کنویں کی عمارت کے بالائی حصے میں جبکہ حنبلی امام کی جگہ جنوبی سمت میں مقرر تھی۔
تقریباً ایک صدی قبل اس طریقے کو تبدیل کرتے ہوئے تمام نمازیوں کے لیے ایک امام کی اقتدا میں فرض نماز ادا کرنے کا نظام نافذ کردیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد مسجد الحرام میں ایک ہی نماز کی متعدد جماعتوں کا سلسلہ ختم ہوا اور مختلف فقہی مسالک کے مسلمان ایک ہی صف میں نماز ادا کرنے لگے۔
28 اکتوبر 2026 کو اس تاریخی تبدیلی کے 100 سال مکمل ہوگئے۔ یہ موقع مسجد الحرام کی تاریخ میں ایک اہم فیصلے کی یاد دلاتا ہے، جس نے مختلف فقہی روایات رکھنے والے مسلمانوں کو مشترکہ جماعت میں نماز ادا کرنے کا نظام فراہم کیا۔