
اسرائیل میں عام انتخابات کے 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی جس کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو کا اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 جبکہ اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتخابات میں اتمار بن گویر اور بے ذلیل سموٹرچ کی اتحادی جماعتوں کو بھی نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ اسمبلی میں دونوں جماعتوں کی مجموعی 20 نشستیں تھیں، جو اب کم ہوکر 13 رہ جانے کا امکان ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کو 21، جبکہ یائر لیپڈ اور سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی جماعتوں کو مجموعی طور پر 12 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اسرائیل میں انتخابی نظام متناسب نمائندگی پر مبنی ہے، جہاں ووٹرز امیدواروں کے بجائے جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں اور نشستیں حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے تقسیم ہوتی ہیں۔ انتخابات میں ٹرن آؤٹ 78 فیصد رہا، جبکہ عرب ووٹرز کی بھرپور شرکت کے نتیجے میں عرب جماعتوں کی نشستوں میں اضافے کا امکان ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ نیتن یاہو کے خلاف ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیلی فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ تاہم، حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اہم ہوگا۔