
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بحیرۂ عرب میں غیر معمولی سمندری گرمی کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ساحلی آبادیوں، ماہی گیری کے شعبے اور بحری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوری موسمیاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ شمالی بحیرۂ عرب میں حالیہ ہفتوں کے دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے ماہرین ایک غیر معمولی سمندری ہیٹ ویو قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کے ساحلی علاقوں میں موسمیاتی خطرات بڑھانے اور آئندہ مون سون کے رویوں میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرم سمندری پانی استوائی طوفانوں کی تشکیل اور شدت میں اضافے کا اہم عنصر ہے، جبکہ موجودہ سمندری ہیٹ ویو شمالی بحیرۂ عرب میں طوفانی سرگرمیوں کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں بندرگاہوں، ماہی گیر بیڑوں اور ساحلی انفراسٹرکچر کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو پیشگی تیاریوں پر توجہ دینا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ مون سون کی نمی کے مغرب کی جانب منتقل ہونے کے رجحان کے باعث کراچی اور سندھ سمیت جنوبی پاکستان میں اگست کے وسط سے ستمبر کے وسط تک معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق بحیرۂ عرب کے غیر معمولی گرم ہونے سے ساحلی علاقوں کی جانب نمی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا، جس سے شدید بارشوں اور شہری سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ، ساحلی کٹاؤ اور کھارے پانی کی دراندازی دریائے سندھ کے ڈیلٹا، زرعی اراضی اور میٹھے پانی کے ذخائر کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے مرجانی چٹانوں کو ممکنہ نقصان اور مچھلیوں کی آبادی میں تبدیلی کے خدشات کا بھی اظہار کیا، جو ماہی گیروں کے روزگار اور ملکی بلیو اکانومی پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے اخراج کے باعث سمندری ہیٹ ویوز کی شدت، تعداد اور دورانیہ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات سمندری ماحول اور ساحلی کمیونٹیز پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے موسمیاتی موافقت، آفات کے خطرات میں کمی اور پائیدار بحری حکمرانی کے لیے قومی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سمندری ہیٹ ویوز، طوفانوں اور شدید بارشوں کے لیے ابتدائی انتباہی نظام مضبوط بنانے، مینگرووز کی بحالی، ساحلی تحفظ، ماہی گیر برادریوں کی معاونت اور سمندری نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کو ترجیحی اقدامات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ بحری امور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ان اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ مون سون سیزن سے قبل ساحلی علاقوں میں آگاہی اور تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔