
بھارت میں تعلیمی نظام اور مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج میں شدت آگئی ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی اور تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے تعلیمی نظام کی خامیوں، امتحانی اسکینڈلز اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
مظاہرین نے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تعلیمی شعبے میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور انتظامی ناکامیوں کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے۔
احتجاج میں شریک طلبہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی دباؤ، غیر شفاف امتحانی نظام اور مواقع کی کمی نوجوانوں میں بے چینی بڑھا رہی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
دوسری جانب بعض ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ امتحانی شفافیت، معیارِ تعلیم میں بہتری اور طلبہ کو مساوی مواقع کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مبصرین کے مطابق نوجوانوں کی جانب سے جاری احتجاج حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔