
کراچی میں دل کے امراض کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس پر ماہرینِ قلب نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کارڈیک رجسٹری آف پاکستان کے بانی ڈاکٹر بشیر حنیف کے مطابق شہر میں ہر ماہ تقریباً 35 سے 40 ہزار ہارٹ اٹیک کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جو صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں تقریباً 12 فیصد مریضوں کی عمر 40 سال سے کم ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نوجوان نسل بھی تیزی سے دل کے امراض کا شکار ہورہی ہے۔
ڈاکٹر بشیر حنیف کا کہنا تھا کہ دل کی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق سگریٹ نوشی، ذیابیطس، موٹاپا اور ہائی بلڈ پریشر دل کے امراض کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور طبی معائنے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ دل کے امراض کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔