
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے ہڑتال کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے پمپ مالکان ایسوسی ایشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی۔
اپنے بیان میں علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت پیٹرول پمپ مالکان کے جائز مطالبات سننے اور انہیں بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کے نمائندے کل چیئرمین اوگرا سے ملاقات کریں گے، جہاں ڈیلرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی صورتحال کے باعث تیل کی عالمی مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکومت اس وقت بھی سات روزہ اوسط قیمت کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر رہی ہے، اس لیے قیمتوں میں غیر معمولی نہیں بلکہ معمولی اضافہ یا کمی ہوگی۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح پر برقرار ہے، جبکہ لیوی میں مزید کمی کے لیے معیشت کی دستاویز بندی ناگزیر ہے تاکہ ہر شخص اپنے جائز منافع پر ٹیکس ادا کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ خطے میں مستقل جنگ بندی قائم ہو تاکہ معاشی وسائل پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ڈیلرز کے ساتھ بیٹھ کر تمام مسائل کا قابلِ قبول حل نکالنا چاہتی ہے، تاہم ان کے بقول ہڑتال کے اعلان میں جلد بازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کے مارجن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے سپلائی سے متعلق تحفظات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔