فرانس میں عوامی غصہ بے قابو، احتجاج کے دوران عمارتوں میں آگ، 1200 افراد گرفتار


فرانس میں بڑھتی مہنگائی، تعلیمی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نے سنگین صورت اختیار کرلی۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ کئی شہروں میں مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ پولیس نے مختلف کارروائیوں میں تقریباً 1200 افراد کو حراست میں لے لیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز فرانس کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ دن کے وقت زیادہ تر اجتماعات پُرامن رہے، لیکن رات ہوتے ہی بعض شہروں میں کشیدگی بڑھ گئی اور مظاہرین کے کچھ گروہوں کی پولیس سے جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے علاقوں میں لیموژ، مارسیلے اور لیون شامل ہیں۔ لیموژ میں تاریخی سٹی ہال میں آگ لگنے سے عمارت کی چھت کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ مارسیلے میں سیاہ لباس پہنے افراد نے سرکاری عمارت میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی۔ لیون میں سیاحتی دفتر بھی آتشزدگی کی زد میں آیا۔ دارالحکومت پیرس میں بھی حالات کئی مقامات پر خراب ہوئے۔ بعض علاقوں میں دکانوں کے شیشے توڑے گئے، سامان لوٹا گیا اور سڑکوں پر آگ لگائی گئی۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد نے احتجاج میں حصہ لیا، جن میں سے ایک لاکھ 10 ہزار پیرس میں جمع ہوئے۔ تاہم احتجاجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ فرانسیسی وزیراعظم سیباستیان لیکورنو نے تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی مذمت کی۔ ان کے مطابق بدامنی کے دوران 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا اور قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ احتجاج کی بنیادی وجہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ تعلیم، معاشی مشکلات اور حکومتی فیصلوں سے بڑھتی ہوئی ناراضی بھی ہے۔ اس تحریک کو ابتدا میں طلبہ نے آگے بڑھایا، جو تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی تعداد میں کمی اور نوجوانوں کے ساتھ پولیس کے رویے پر سوال اٹھا رہے تھے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ کلاسوں میں بچوں کی تعداد مناسب رکھی جائے، مزید اساتذہ بھرتی کیے جائیں اور اسکولوں کی عمارتوں کو بہتر بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی بجٹ میں کمی نے پڑھائی کے معیار کو متاثر کیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ دیگر شہری بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ مظاہرین کے مطابق روزمرہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، جبکہ عام لوگوں کے مسائل کو وہ اہمیت نہیں مل رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔ پیرس میں احتجاج کرنے والی 36 سالہ پولین نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ دولت اور اختیارات محدود طبقے کے پاس جمع ہوتے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی آواز مؤثر انداز میں نہیں سنی جارہی۔ اسی طرح 38 سالہ لوئیز نے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے جمہوری نظام اور طاقت کے ارتکاز پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے سرمایہ داروں کا میڈیا پر بڑھتا اثر بھی عوامی بے چینی کی ایک وجہ ہے۔ احتجاج کے دوران صرف سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے نہیں آئیں بلکہ پولیس کے بعض اقدامات بھی تنقید کی زد میں رہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک کارروائی میں 14 سالہ لڑکے کا جبڑا ٹوٹ گیا، جبکہ النکوں میں ایک اہلکار کی جانب سے لڑکی کو گردن سے جکڑنے کی ویڈیو سامنے آئی۔ سینٹ ایٹین میں ایک مظاہرین کے ہاتھ سے محروم ہونے کی اطلاع بھی دی گئی۔ ان واقعات کے بعد پولیس کے طاقت استعمال کرنے کے طریقوں پر بحث تیز ہوگئی۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ اہلکاروں نے پرتشدد گروہوں کو روکنے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے کارروائیاں کیں۔ صدر ایمانوئل میکرون نے واضح کیا کہ پُرامن احتجاج شہریوں کا حق ہے، لیکن سرکاری دفاتر، کاروباری مراکز اور عوامی املاک پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاہم بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے توجہ دلائی کہ چند مقامات پر ہونے والی بدامنی کی وجہ سے لاکھوں پُرامن مظاہرین کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک کے متعدد شہروں میں لوگوں نے کسی تشدد کے بغیر اپنے مطالبات پیش کیے۔ فرانس میں جاری اس تحریک کی بازگشت دوسرے یورپی ممالک تک بھی پہنچ رہی ہے، جہاں بیلجیئم، البانیہ اور اٹلی میں نوجوانوں نے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اب فرانسیسی حکومت کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں: سڑکوں پر امن بحال کرنا اور عوام، خصوصاً نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی ناراضی کا قابلِ عمل حل تلاش کرنا۔ تعلیمی اصلاحات اور معاشی مسائل پر ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو حکومت اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔

 
 

Watch Live TV Channels
Samaa News TV 92 NEWS HD LIVE Express News Live PTV Sports Live Pakistan TV Channels
 

مزید عالمی خبریں

روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، خطے کے مسائل کا سفارتی حل ضروری ہے: عباس عراقچی

یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم ازکم 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

ٹرمپ کی ’مدر آف آل بومبز‘ استعمال کرنے کی دھمکی کا مقصد ایران کو جھکنے پر مجبور کرنا ہے؟

’بم کو ماں کا نام دینا کیسی تہذیب ہے؟‘ ایران کی امریکا پر سخت تنقید

دنیا کے 80 کروڑ نوجوانوں کو ملازمت نہیں مل سکے گی؟ اقوام متحدہ نے بڑے خطرے سے خبردار کر دیا

فرانس میں عوامی غصہ بے قابو، احتجاج کے دوران عمارتوں میں آگ، 1200 افراد گرفتار

قطر کا علاقائی ممالک کے مابین نئی دفاعی شراکت داری کا اعلان، روسی وزیرِ خارجہ کا دورہ ایران

’مصر کے بیٹے کرائے کے سپاہی نہیں‘: محمد بن سلمان کا دورہ قاہرہ، حوثیوں کی تنبیہ اور صدر السیسی کی درخواست

پیرس کیوں جل رہا ہے اور فرانس میں احتجاج پرتشدد کیوں ہوا؟

غزہ میں خوراک کا بحران مزید سنگین، عالمی ادارے نے 5 لاکھ افراد کی امداد کم کردی

ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کو نشانہ بنائیں گے، تہران کی سخت وارننگ

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی دھمکی، حوثیوں نے عالمی فضائی کمپنیوں کو خبردار کردیا

مہنگائی کے خلاف یورپ بھر میں احتجاج شدت اختیار کرگیا، فرانس، اٹلی اور البانیہ میں پولیس سے جھڑپیں

بنیامن نیتن یاہو امریکہ کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی

حوثیوں کی مبینہ ’مدد‘ اور ’سعودی عرب کی ناراضی کا خطرہ‘: یمن تنازع میں روس کس کا ساتھ دے رہا ہے؟

• عالمی خبریں • تازہ ترین خبریں
• پاکستان کی خبریں • کھیلوں کی خبریں
• آرٹ اور انٹرٹینمنٹ • سائنس اور ٹیکنالوجی