
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے اپنی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے جواب میں بڑے پیمانے پر کارروائی کا انتباہ جاری کردیا ہے۔ ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کے بجلی گھروں یا پیٹرو کیمیکل مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو ایران 9 ممالک میں اسی نوعیت کی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر محمد مخبر نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران اپنی اہم صنعتی اور توانائی کی تنصیبات پر کسی بھی حملے کو معمولی نہیں سمجھے گا اور اس کا جواب صرف ایک ملک تک محدود نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے ان 9 ممالک کے نام واضح نہیں کیے جنہیں ممکنہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
IRGC spox: Any aggression against Iran's energy infrastructure, although it will be immediately repaired by young scientists, will turn the occupied territories into a scorched land forever and will displace its usurpers to Sinai Peninsula.
The world will see what will happen! https://t.co/GPlGRaeP7M— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 18, 2026
اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے ایرانی رہنما نے قطر کے علاقے راس لفان میں مائع قدرتی گیس کی تنصیب پر ہونے والے سابقہ حملے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے اثرات صرف قطر تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی بھی متاثر ہوئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے 40 روزہ جنگ کے دوران جنوبی پارس میں اپنی تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملے کے جواب میں قطر کے اہم گیس مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ قطر نے اس کارروائی پر شدید احتجاج کیا، جبکہ اس کے بعد توانائی کی عالمی قیمتوں اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا۔
ڈاکٹر محمد مخبر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے ملک کے دوسرے علاقوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس اہم سمندری راستے سے متعلق اپنے مؤقف میں نرمی کی تجویز دیتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی بین الاقوامی تجارت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی اسرائیل کو سخت نتائج سے خبردار کیا ہے۔ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے 18 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ ایرانی توانائی مراکز پر کسی بھی ممکنہ کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سائنس دان متاثرہ تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اسرائیل کے خلاف جوابی اقدامات کہیں زیادہ سخت ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کو شدید نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی۔ تاہم پاسداران انقلاب نے کسی مخصوص ہدف، ممکنہ کارروائی کے وقت یا عملی منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
واضح رہے کہ خطے میں موجودہ کشیدگی کا تعلق 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں توانائی کے مراکز اور اہم تجارتی راستوں کی سلامتی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
ایران کے حالیہ بیانات ممکنہ حملوں کے خلاف پیشگی انتباہ ہیں، جن سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی توانائی تنصیبات پر کوئی نیا حملہ ہوچکا ہے۔ تاہم ان دھمکیوں نے خطے میں مزید فوجی تصادم اور عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات کو نمایاں کردیا ہے۔