
امریکا کے طاقتور ترین غیر جوہری بم کے نام پر ایران نے اعتراض اٹھا دیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے امریکی ہتھیار کو ’تمام بموں کی ماں‘ کہنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے تہذیبی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔
ایرانی ترجمان کا یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں ایک انتہائی طاقتور بم استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
جنرل حسین محبی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ماں کا رشتہ محبت، تحفظ اور احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن امریکا نے تباہی پھیلانے والے ہتھیار کے لیے یہی لفظ منتخب کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسا نام رکھنا ایک غیر مہذب سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے امریکی دھمکیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل ان قوموں کا ہوتا ہے جو مخالفین کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے انہیں ہنسی مذاق میں بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
امریکا کے اس ہتھیار کا سرکاری نام GBU-43/B Massive Ordnance Air Blast ہے، جسے مختصراً MOAB کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے طاقتور غیر جوہری بموں میں شمار ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس بم کو عام طور پر Mother of All Bombs کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اسی اصطلاح پر اعتراض کیا ہے اور اسے امریکی عسکری سوچ پر تنقید کی بنیاد بنایا ہے۔
Iran's Revolutionary Guards spokesman Hossein Mohebbi criticized the United States over its use of the term "mother of all bombs" for its most powerful non-nuclear weapon, calling it a sign of a "barbaric civilization" on Saturday.
"Only a barbaric civilization could use the sacred word 'mother' to name its most powerful bomb," Mohebbi said in a social media post. He added that the future belongs to nations that can turn their enemy’s threats into everyday humor.
His remarks followed US media reports that the Trump administration was considering using the GBU-43/B Massive Ordnance Air Blast bomb, commonly known as the MOAB, in potential new strikes against Iran.— Iran International English (@IranIntl_En) October 17, 2026
امریکی ذرائع ابلاغ کی بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں اس ہتھیار کا استعمال بھی شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم ان اطلاعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بم استعمال کرنے کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں یہ بیان ایک نئی لفظی تلخی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک جانب ممکنہ فوجی اقدامات سے متعلق خبریں زیرِ بحث ہیں، جبکہ دوسری طرف تہران امریکی دھمکیوں کا جواب سخت بیانات کے ذریعے دے رہا ہے۔