
سعودی عرب میں فضائی سفر کی سلامتی سے متعلق نئی تشویش سامنے آئی ہے جہاں یمن کے حوثی گروہ نے مملکت کے بیشتر ہوائی اڈوں کو ممکنہ فوجی کارروائیوں کا ہدف قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی ایئرلائنز اور مسافروں کے لیے انتباہ جاری کردیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے متعدد ایئرپورٹس اور ان کے اطراف کی فضائی حدود کو محفوظ تصور نہ کیا جائے۔ انہوں نے فضائی کمپنیوں، پائلٹس اور مسافروں کو ان مقامات کا سفر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
تاہم حوثی ترجمان نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے والی یا وہاں سے روانہ ہونے والی پروازیں اس دھمکی میں شامل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق دونوں مقدس شہروں کی فضائی حدود کو بھی ممکنہ کارروائیوں سے الگ رکھا جائے گا۔
اس اعلان کے بعد سعودی عرب آنے جانے والی بین الاقوامی پروازوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اور بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو موجودہ صورتحال میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مصر نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے فوجی اور سفارتی تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مصری قومی دفاعی کونسل نے سعودی سرزمین پر فوجی اہلکار بھیجنے اور دفاعی ذمہ داریاں انجام دینے کی منظوری دی ہے تاہم اس فیصلے پر پارلیمنٹ کی سطح پر مزید غور ہونا باقی ہے۔
مصر کے اس اقدام کو سعودی عرب کے دفاع اور علاقائی استحکام میں تعاون کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں کی جانب سے مملکت پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ حوثیوں کی نئی وارننگ کے بعد فضائی کمپنیوں اور مسافروں کے لیے سرکاری ہدایات اور پروازوں سے متعلق تازہ معلومات کی اہمیت بڑھ گئی ہے جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔